سبق نمبر 8: افسانہ کتبہ، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر 8
  • سبق: کتبہ
  • مصنف: غلام عباس
  • ماخوذ: آنندی

تعارفِ مصنف:

غلام عباس امرتسر کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دیال سنگھ ہائی سکول لاہور سے حاصل کی اور لاہور سے ہی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ مختلف رسائل کے مدیر رہے۔ پھر محکمہ تعلقات عامہ سے منسلک ہوئے، کچھ عرصے بعد بی بی سی سے وابستہ ہو کر لندن چلے گئے۔ غلام عباس ترکی ادب سے بے حد متاثر تھے۔ انھیں موسیقی سے بھی دلچسپی تھی خصوصاً گٹار بجانے کا انھیں بے حد شوق تھا۔

اس کے علاوہ وہ شطرنج کے ایک بہترین کھلاڑی تھے۔ ادبی خدمات کے صلے میں اُنھیں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز عطا کیا گیا۔ غلام عباس ایک باوقار ، کامیاب اور تخلیقی زندگی گزار کر کراچی میں انتقال کر گئے۔ غلام عباس کو ابتداء ہی سے اُردو ادب سے دلچسپی رہی اور بچپن ہی میں اُنھوں نے رتن ناتھ سرشار، مولانا عبد الحلیم شرر، خواجہ حسن نظامی اور مرزا ہادی رسوا کی تقریبا تمام تصانیف پڑھ لی تھیں۔ اُن کا شمار جدید افسانہ نگاروں کی فہرست میں ہوتا ہے۔

انھوں نے اُس وقت افسانہ نگاری شروع کی جب انگریزی تعلیم و معاشرت کے سبب نئی نئی اقدار معاشرے میں نشونما پارہی تھی اور معاشرتلے میں ایک کشمکش کی کیفیت تھی، جس کے نتیجے میں ایسے واقعات ظہور پذیر ہورہے تھے جو ایک روایت پسند معاشرے کے لیے نا قابل برداشت تھے۔ غلام عباس نے بڑی خوب صورتی اور غیر جذباتی انداز میں ایسے معاشرے کی عکاسی کی ہے۔ غلام عباس کے افسانوں کا موضوع کوئی نیا تو نہیں لیکن اُن کے انداز بیان نے انھیں نیا پن عطا کیا ہے۔ اس سلسلے میں اُن کے افسانے آنندی کی مثال دی جاسکتی ہے۔ دراصل وہ معمولی کو غیر معمولی بنانے والے فنکار ہیں۔ وہ جذبات کے تابع نہیں۔ کہانی کا موضوع خواہ کچھ بھی ہو اُن کا قلم غیر جانبداری اور تعقل کے تابع رواں دواں رہتا ہے۔
تصانیف: آنندی، جاڑے کی چاندنی، کن رس، دھنک، گوندنی والا تکیہ وغیرہ

مشق

سوال نمبر 1: مندرجہ ذیل سوالات کے مختصر جواب لکھیں:

الف: کلرکوں میں کس عمر کے لوگ شامل تھے؟

جواب: کلرکوں میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔

ب: شریف حسین اس دن گھر کے بجائے جامع مسجد کی طرف کیوں چل پڑا؟

جواب: شریف حسین کی بیوی بچوں سمیت میکے گئی ہوئی تھی اس لیے وہ گھر جانے کے بجائے جامع مسجد کی طرف سیر کرنے چل پڑا۔

ج: شریف حسین نے سنگ مرمر کے ٹکڑے کا کیا مصرف سوچا؟

جواب: شریف حسین نے سوچا جب وہ ترقی کرلے گا اور اپنا گھر بدل لے گا تب اس سنگ مر مر کے ٹکڑے پر اپنا نام کنندہ کروا کر اپنے گھر کے باہر اسے سجائے گا۔

د: سنگ مرمر کے ٹکڑے پر اپنا نام کھدا ہوا دیکھ کر شریف حسین نے کیا محسوس کیا؟

جواب: جب اس نے اپنا نام سنگ مر مر کے ٹکڑے پر کھدا ہوا دیکھا تو اسے دلی مسرت ہوئی۔

ہ: اس افسانے سے کیا اخلاقی سبق حاصل ہوتا ہے؟

جواب: اس افسانے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کی زندگی کم اور اس کی خواہشات بہت زیادہ ہیں جو باوجود کوشش پوری نہیں ہوسکتی ہیں کیونکہ انسان کو اپنی خواہشوں سے پہلے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوتی ہیں۔

سوال نمبر 2: سبق کے حوالے سے مندرجہ ذیل جملوں کی وضاحت کریں:

الف: دن کے وقت اس علاقے کی چہل پہل اور گہما گہمی عموماً کمروں کی چار دیواری ہی میں محدود رہتی ہے۔

وضاحت:

اس جملے میں مصنف نے جس علاقے کا ذکر کیا ہے اس علاقے کے متعلق وہ بتانا چاہتے ہیں کہ دن کے اوقات میں اس علاقے میں روڈ پر زیادہ چہل پہل نہیں ہوتی تھی بلکہ لوگ اپنے کمروں یا آفس کی چار دیواری میں محدود ہوتے تھے البتہ آفس جانے اور واپسی کے وقت پر روڈ پر خوب چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

ب: دنیا بھر کی چیزیں اور ہر وضع اور ہر قماش کے لوگ یہاں ملتے تھے۔

جوب: اس جملے میں مصنف نے اس علاقے کے بازار کا ذکر کیا ہے جہاں کباڑیوں کی دکانیں بھی تھیں جہاں سے ہر طرح کی چیز مل جایا کرتی تھی اور اس بازار میں ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے تھے۔

ج: وہ بڑا غفور الرحیم ہے کیا عجب اس کے دن پھر جائیں۔

جواب: اس جملے میں مصنف شریف حسین کی خواہش کی عکاسی کررہے ہیں جو سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت غفور الرحیم ہے اس لیے عین ممکن ہے کسی دن میری قسمت بدل جائے اور میں ترقی کرلوں اور میرے دن بدل جائیں۔

د: دفتر میں جب کبھی اس کا کوئی ساتھی کسی معاملے میں اس کی رہنمائی کا جویا ہوتا تو اپنی برتری کے احساس سے اس کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔

جواب: اس جملے میں مصنف شریف حسین کے احساسات بیان کرتے ہوئے بتارہے ہیں کہ اس کے آفس میں جب بھی کسی کو اس کی مدد کی ضرورت پڑتی تو وہ بہت خوشی محسوس کرتا اور اسے احساسِ برتری ہوتا اور وہ سوچتا ایک دن وہ افسر بن جائے گا جب سب اس کے ماتحت ہوا کریں گے۔

ہ: ترقی لطیفہ غیبی سے نصیب ہوتی ہے، کڑی محنت جھیلنے اور جان کھپانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

جواب: اس جملے میں مصنف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ شریف حسین نے نوکری کے شروعاتی وقت میں خوب محنت کی پھر اسے لگنے لگا کہ اس کی ترقی اس کی محنت کی بنیاد پر نہیں ہوگی اور اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کسی کی ترقی اس کی محنت سے نہیں بلکہ غیبی مدد کی وجہ سے ہوتی ہے۔

سوال نمبر 3: مندرجہ ذیل جملوں کی تکمیل کے لیے دیے ہوئے جوابات میں سے درست جواب کے سامنے نشان لگائیں۔

  • الف: شریف حسین کو سنگ مرمر کا ٹکڑا
  • الف۔ وراثت میں ملا
  • ب۔ راستے میں پڑا ہوا ملا
  • ج۔ کسی دوست کی طرف سے ملا
  • د۔ ✔کباڑی کی دکان سے ملا
  • ب: شریف حسین نے سنگ مرمر کا ٹکڑا اس لیے خریدا کہ
  • الف۔ اس کی بیوی نے فرمائش کی تھی
  • ب۔ اس کی قیمت بہت کم تھی۔
  • ج۔ وہ اسے اپنے گھر کے دروازے پر نصب کرانا چاہتا تھا۔
  • د۔ ✔قیمت پوچھنے پر کباڑی اس کے پیچھے پڑ گیا تھا۔
  • ج: شریف حسین کے خیال میں سنگ مرمر کا مصرف یہ تھا کہ
  • الف۔ اسے افسر کو تحفے کے طور پر دے دیا جائے۔
  • ب۔ اسے کارنس پر سجا دیا جائے۔
  • ج۔ ✔اس پر اپنا نام کھدوا کر مکان کے دروازے پر لگا دیا جائے۔
  • د۔ واسے مطالعے کی میز پر رکھ دیا جائے۔
  • د: شریف حسین کی موت کے بعد سنگ مرمر کا ٹکڑا
  • الف۔ یونہی گھر میں پڑا رہا۔
  • ب۔ کہیں گم ہو گیا۔
  • ج۔ ✔اس کی قبر پر لگا دیا گیا۔
  • د۔ بیچ دیا گیا

سوال نمبر 4: کتبہ کا خلاصہ لکھیں۔

خلاصہ:

اس سبق کی کہانی شریف حسین کے گرد گھومتی ہے جو شہر سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر رہتے ہیں اور قریب ہی ایک آفس میں کلرک کی نوکری کرتے ہیں۔ اس آفس میں ہر عمر کے لوگ کام کرتے ہیں اور شریف حسین اپنے آفس سے گھر تک تانگے کی سواری صرف مہینے کے شروعاتی ہفتے میں ہی کرتا تھا کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا تھا جب اس کے پاس کچھ پیسے ہوتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ اس کی بیوی بچوں سمیت میکے گئی ہوئی تھی اور شریف حسین آزاد تھا۔

اس کا خرچہ بھی نہیں ہورہا تھا۔ اسی لیے وہ اس دن گھر جانے کے بعد اپنی آزادی کے احساس سے سرشار جامع مسجد کی طرف چلا گیا جہاں وہ کچھ خریداری نہ بھی کرتا تب بھی سیر کر کے اچھا محسوس کرسکتا تھا۔ وہیں بازار میں گھومتے گھومتے اسے ایک سنگ مر مر کا ٹکڑا نظر آیا اور اس نے کباڑی سے اس کی قیمت پوچھ لی تو کباڑی اصرار کرنے لگا کہ اب شریف حسین یہ سنگ مر مر کا ٹکڑا خرید ہی لے۔

شریف حسین نے جان چھڑانے کو کم قیمت لگائی تو کباڑی اس قیمت میں بھی اپنی چیز بیچنے کو مان گیا۔ شریف حسین نے چار و ناچار وہ ٹکڑا خرید لیا پھر اسے خیال آیا کیوں نہ وہ اس ٹکڑے پر اپنا نام لکھوائے۔ جلد ہی اس نے اپنے خیال کو عملی جامہ پہنایا اور اگلے ہی روز اس نے اس سنگ مرمر کے ٹکڑے پر اپنا نام کھدوا لیا۔ اب اس سنگ مرمر کے ٹکڑے نے اس کے اندر نیا جوش ولولہ پیدا کر دیا اور وہ سوچا کرتا تھا کہ وہ خوب محنت کرے گا اور جب اس کی ترقی ہو جائے گی اور وہ ایک نیا گھر خریدے گا تو اس گھر کے باہر یہ سنگ مرمر کا ٹکڑا سجائے گا۔

اس سنگ مرمر کے ٹکڑے نے گزرے سالوں میں کئی مرتبہ اپنی جگہ بدلی لیکن وہ کسی گھر کے باہر سجایا نہ جاسکا۔ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے شریف حسین کا جوش بھی دبتا گیا۔ آخر کار وہ رٹائر ہوگیا اور اس کے بیٹے نوکری کرنے لگے۔ اس نے اپنے بڑے بیٹے اور بیٹی کی شادی بھی کردی کہ ایک روز وہ نمونیا کا شکار ہوگیا اور پھر چار دن کی خوب دیکھ بھال کے باوجود جان بر نہ ہوسکا اور مرگیا۔ آخر کار ایک روز اس کے بیٹے کو وہ سنگ مر مر کا ٹکڑا ملا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ اس ٹکڑے کو بازار لےگیا اور اس میں کچھ تبدیلی کروانے کے بعد وہ سنگ مرمر کا ٹکڑا شریف حسین کی قبر پر سجا دیا گیا۔

سوال نمبر 5: غلام عباس پر سوانحی و تنقیدی نوٹ لکھیں۔

جواب: غلام عباس امرتسر کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دیال سنگھ ہائی سکول لاہور سے حاصل کی اور لاہور سے ہی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ مختلف رسائل کے مدیر رہے۔ پھر محکمہ تعلقات عامہ سے منسلک ہوئے، کچھ عرصے بعد بی بی سی سے وابستہ ہو کر لندن چلے گئے۔ غلام عباس ترکی ادب سے بے حد متاثر تھے۔ انھیں موسیقی سے بھی دلچسپی تھی خصوصاً گٹار بجانے کا انھیں بے حد شوق تھا۔ اس کے علاوہ وہ شطرنج کے ایک بہترین کھلاڑی تھے۔

ادبی خدمات کے صلے میں اُنھیں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز عطا کیا گیا۔ غلام عباس ایک باوقار ، کامیاب اور تخلیقی زندگی گزار کر کراچی میں انتقال کر گئے۔ غلام عباس کو ابتداء ہی سے اُردو ادب سے دلچسپی رہی اور بچپن ہی میں اُنھوں نے رتن ناتھ سرشار، مولانا عبد الحلیم شرر، خواجہ حسن نظامی اور مرزا ہادی رسوا کی تقریبا تمام تصانیف پڑھ لی تھیں۔ اُن کا شمار جدید افسانہ نگاروں کی فہرست میں ہوتا ہے۔

انھوں نے اُس وقت افسانہ نگاری شروع کی جب انگریزی تعلیم و معاشرت کے سبب نئی نئی اقدار معاشرے میں نشونما پارہی تھی اور معاشرتلے میں ایک کشمکش کی کیفیت تھی، جس کے نتیجے میں ایسے واقعات ظہور پذیر ہورہے تھے جو ایک روایت پسند معاشرے کے لیے نا قابل برداشت تھے۔ غلام عباس نے بڑی خوب صورتی اور غیر جذباتی انداز میں ایسے معاشرے کی عکاسی کی ہے۔ غلام عباس کے افسانوں کا موضوع کوئی نیا تو نہیں لیکن اُن کے انداز بیان نے انھیں نیا پن عطا کیا ہے۔ اس سلسلے میں اُن کے افسانے آنندی کی مثال دی جاسکتی ہے۔ دراصل وہ معمولی کو غیر معمولی بنانے والے فنکار ہیں۔ وہ جذبات کے تابع نہیں۔ کہانی کا موضوع خواہ کچھ بھی ہو اُن کا قلم غیر جانبداری اور تعقل کے تابع رواں دواں رہتا ہے۔

سوال نمبر 6: مندرجہ ذیل الفاظ و تراکیب کو اپنے جملوں میں استعمال کریں:

مستقبل :ہمیں اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔
معمول : علی معمول کے مطابق صبح فجر کے وقت اٹھ گیا۔
اثاثہ : نیک اولاد ماں باپ کا اثاثہ ہوتی ہے۔
ادنیٰ و اعلیٰ : مسجد میں ہر ادنی و اعلیٰ ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
بے مصرف :اس دنیا میں کوئی شے بےمصرف نہیں ہے۔