Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: ۲۳
- نظم: نفیرِ عمل
- شاعر: مجید امجدؔ
- ماخوذ: پابند نظمیں
تعارفِ شاعر:
عبد المجید امجدؔ جھنگ، صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں فارسی اور عربی کی تعلیم اپنے نانا نور محمد سے حاصل کی۔ اُنھوں نے بی -اے تک تعلیم حاصل کی اور پھر راشتگ کے محکمہ سے منسلک ہو گئے اور تمام عمر اسی محکمے میں ملازمت کرتے رہے ۔ اس کے علاوہ ایک نیم سرکاری رسالے ”عروج “ کے مدیر بھی رہے۔ مجید امجد کی زندگی انتہائی پریشان کن اور تنگی سے بسر ہوئی وہ ساری زندگی مختلف مسائل کا شکار رہے جس کی وجہ سے اُن کی طبیعت میں ایک ٹھہراؤ اور دھیما پن تھا۔ مجید امجدؔ کا نام ادبی حلقوں میں نہایت احترام سے لیا جاتا تھا لیکن ملازمت کے سلسلے میں ساہیوال میں زیادہ تر مقیم رہنے اور طبعی درویشی کی وجہ سے انھیں عوامی سطح پر زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔ زندگی کا زیادہ تر حصہ شہر کے ہنگاموں سے دور کھلے آسمان تلے گزارنے کی وجہ سے اُن کی شاعری کو ایک ارضی بنیاد ملی۔ اُن کی شاعری کا پس منظر زمین اور زمین کی محبت ہے۔ اُن کو اصل شہرت اُن کی وفات کے بعد ملی۔
مجید امجد ؔنے کم عمری سے ہی شاعری شروع کی تھی لیکن اُن کی شاعری کا مجموعہ کافی تاخیر سے شائع ہوا۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ چونکہ اُن کی ساری زندگی حزن و یاس اور پریشانی میں بسر ہوئی، اس لیے اُن کی شاعری میں بھی دل گرفتگی کی فضا ملتی ہے۔ اُنھوں نے نہ صرف ذاتی کرب کو شاعری کا موضوع بنایا، بلکہ زندگی کو بھی ایک وسیع تناظر میں دیکھتے رہے لہذا جب وہ عصری مسائل کو شاعری کا پیکر عطا کرتے ہیں تو وہ انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی رنگ بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے ہیت کے تجربے بھی کیے اور اُردو نظم کو نئے انداز اور آہنگ سے روشناس کیا۔
مجموعۂ ہائے کلام: شب رفتہ، طاقِ ابد، ان گنت سورج۔
نظم: نفیرِ عمل تشریح
| آؤ کب تک گلۂ شومیِ تقدیر کریں کب تلک ماتمِ ناکامیِ تدبیر کریں کب تلک شیون جورِ فلکِ پیر کریں کب تلک شکوۂ بے مہری ایام کریں نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں |
تشریح:۔
”نفیر عمل“ شاعر مجید ؔامجد کی لکھی ہوئی نظم ہے، مذکورہ بالا مخمس میں شاعر مجید امجد نوجوانوں کو صدا دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے نوجوانوں کب تک اپنے نصیب کو کوستے رہو گے، کب تک اپنی ناکامی کا رونا روتے رہو گے، کب تک اپنی اس حالت کو خدا کی طرف سے آزمائش مان کر زندگی بسر کرو گے، یہ دن تو یونہی گزریں گے برے دن خود نہیں ٹلیں گے بلکہ کام کرنے سے ہی یہ تنگی دور ہوگی۔
| آج بربادِ خزاں ہے چمنستانِ وطن آج محرومِ تجلی ہے شبستانِ وطن مرکزِ نالہ و شیون ہے دبستانِ وطن وقت ہے چارۂ دردِ دلِ ناکام کریں نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں |
تشریح:۔
”نفیر عمل“ شاعر مجید ؔامجد کی لکھی ہوئی نظم ہے، مذکورہ بالا مخمس میں شاعر مجید امجدنوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ آج اگر وطن میں بھوک و افلاس کا راج ہے، ملک تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے، ہم سب روشنیوں سے محروم ہیں ، تمام اہلیان وطن پریشان ہیں تو اس موقع کو غنیمت جان کر آگے بڑھ کر ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کریں۔
| آؤ اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد کریں آؤ جکڑی ہوئی روحوں کو پھر آزاد کریں آؤ کچھ پیرویِ مسلکِ فرہاد کریں یہ نہیں شرطِ وفا، بیٹھ کے آرام کریں نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں |
تشریح:۔
”نفیر عمل“ شاعر مجید ؔامجد کی لکھی ہوئی نظم ہے، مذکورہ بالا مخمس میں شاعر مجید امجدنوجوانوں سے مخاطب ہیں، وہ انھیں جوش و ولولہ دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وطن میں افراتفری کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے، محکوم عوام کو ظالم حاکموں کے چنگل سے نکالنے اور آزاد کرنے کے لیے ہمیں فرہاد کے راستے پر چلنا ہوگا۔ ہم پر ہمارے ملک و ملت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں سکتے بلکہ مستقل مزاجی سے کام کرکے اپنی منزل پالیں۔
| ایک ہنگامہ سا ہے آج جہاں میں برپا آج بھائی ہے سگے بھائی کے خوں کا پیاسا آج ڈھونڈے سے نہیں ملتی زمانے میں وفا آؤ اس جنسِ گرانمایہ کو پھرعام کریں نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں |
تشریح:۔
”نفیر عمل“ شاعر مجید ؔامجد کی لکھی ہوئی نظم ہے، مذکورہ بالا مخمس میں شاعر مجید امجدنواجونوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ملک کے ہر گوشے میں بدامنی کا راج ہے، آج کسی کی جان و مال محفوظ نہیں بلکہ بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہوا ہے۔ اب ہمارے معاشرے میں وہ ایثار و قربانی کا جذبہ نہیں پایا جو ہمارے مذہب نے ہمیں سکھایا ہے۔ اسی جذبۂ ایثار کو پیدا کرنے کے لیے محنت و لگن درکار ہے۔
| جامِ جم سے نہ ڈریں، شوکتِ کے سے نہ ڈریں حشمتِ روم سے اور صولتِ رے سے نہ ڈریں ہم جواں ہیں تو یہاں کی کسی شے سے نہ ڈریں ہم جواں ہیں تو نہ کچھ خدشۂ آلام کریں نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں |
تشریح:۔
”نفیر عمل“ شاعر مجید ؔامجد کی لکھی ہوئی نظم ہے، مذکورہ بالا مخمس میں شاعر مجید امجد نوجوانوں کو انقلاب کے لیے ابھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج ملک و ملت جس حالت پر پہنچ چکا ہے، عوام جس بدترین محکومی میں گرفتار ہے اب ہمیں کسی شاہ بادشاہ سے درنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب انقلاب کا راستہ کسی ظالم کے روکے سے نہ رکے گا،نوجوان پرجوش ہیں اور جب ان کا لہو ابال مارےگا تو وطن میں نئی بہار آئے گی۔
| رشتۂ مکر و ریا توڑ بھی دیں، توڑ بھی دیں کاسۂ حرص و ہوا پھوڑ بھی دیں، پھوڑ بھی دیں اپنی یہ طرفہ ادا چھوڑ بھی دیں، چھوڑ بھی دیں آؤ کچھ کام کریں، کام کریں، کام کریں نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں |
تشریح:۔
”نفیر عمل“ شاعر مجید ؔامجد کی لکھی ہوئی نظم ہے، مذکورہ بالا مخمس میں شاعر مجید امجدنوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے نوجوانو! چلو اب عہد کرو کہ دھوکہ دہی اور مکر و فریب سے کام نہیں لیں گے، عہد کرو کہ ہم حرص و طمع کو جگہ نہیں دیں گے اور ایک پرامن معاشرے کی فضا پیدا کریں گے۔ عہد کرو کہ اپنی تمام سستی کاہلی کو پس پشت ڈال کر ہم وطن عزیز کے لیے محنت کریں گے کام کریں۔
مشق
سوال نمبر ا: نظم ”نفیرِ عمل“ کا مرکزی خیال لکھیں۔
جواب:۔نظم ”نفیر عمل“ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کام اور عمل سے قومیں اپنی تقدیر بدلتی ہیں۔ عمل سے ہی انقلاب برپا ہوتے ہیں۔ عمل کے بغیر ترقی ہرگز ممکن نہیں۔
سوال نمبر ۲: اس نظم کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔
جواب: اس نظم میں شاعر نے نواجوانانِ وطن سے خطاب کیا ہے، انھوں نے نوجوانوں کو وطن کی ابتر حالت دکھا کر انھیں ولولہ دلایا ہے کہ وطن کے لیے کچھ مثبت کرنے کا عزم پیدا ہو۔شاعر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں کام کرنا ہے اور محنت کرنی ہے، ہمیں عملی میدان میں اتر کر اپنے فرائض ادا کرنے ہیں وہ فرائض جو ملک وملت کے شہری ہونے کے لیے ہم پر لازم ہیں۔ شاعر وطن کی ابتر حالت کا ذمہ دار سستی اور کاہلی کو سمجھتے ہیں اور نوجوان کو محنت اور عمل کی تلقین کرتے ہیں۔ نوجوان جو مغرب سے مرغوب ہیں انھیں شاعر نے ان قوت بازو کا سبق پڑھایا ہے۔ شاعر نے لالچ اور حرص کو ختم کر کے ایک پرامن فضا قائم کرنے کے لیے کہا ہے جس سے ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
سوال نمبر ۳: درج ذیل مرکبات کے معنی لکھیں:
| شومیِ تقدیر | بدبختی، بدقسمتی |
| جورِ فلک | آسمان کا ظلم، بدبختی |
| محرومِ تجلی | روشنی سے محروم |
| چارۂ درد | درد کا علاج |
| جنسِ گراں مایہ | قیمتی شے |
| مکر و ریا | دھوکہ اور دکھاوا |
سوال نمبر۴: نظم ”نفیرِ عمل“کے پہلے بند میں شاعر نے کن الفاظ میں نوجوانِ وطن کو عمل کا درس دیا ہے؟
جواب: نظم ”نفیرِ عمل“ میں شاعر مجید امجدؔ نے شاہ ایران جمشید اور دیگر ایرانی بادشاہوں، روم کی عظم اور شہر ”رے“ کی شان و شوکت کا ذکر کیا ہے، وہ اس سے نوجوانانِ عصر کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دوسری اقوام کی ترقی اورکامیاب دیکھ کر مرغوب نہ ہوناچاہیے بلکہ ان اقوام نے محنت و مشقت کر کے یہ مرتبہ حاصل کیا ہے، تم بھی اپنے زور بازو پر یقین رکھو اور محنت کر کے اپنے مقدر بدل سکتے ہو۔
سوال نمبر۵: اس نظم میں استعمال ہونے والے تلمیحات کی نشان دہی کریں۔
جواب:نظم ”نفیر عمل“ میں جن تلمیحات کا ذکر کیا گیا وہ”مسلک فرہاد، جام جم، شوکت کئے، حشمت روم، صولت رے“ ہیں۔
سوال۶: ”شاعر کے مطابق نوجوانوں کو کس چیز سے خوف زدہ ہونا چاہیے؟
جواب: شاعر نے بڑی شان و شوکت والے بادشاہوں کا ذکر کرکے نواجونوں کو کہا ہے کہ وہ کسی طور ترقی یافتہ اقوام کی قوم سے مرعوب نہ ہوں۔ان اقوام نےسخت محنت کر کے یہ ترقی حاصل کی ہے، تم بھی محنت اور عمل کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب تمہارے ملک کی تقدیر بھی بدل جائے گی ۔
گرامر:
- مخمس: جس نظم کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوں اسے ”مخمس“ کہتے ہیں۔
- معری نظم:۔ معریٰ نظم میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی مگر وزن اور بحر کی پابندی لازمی ہے۔