سبق نمبر 20: نظم مناظر ِسَحر، تشریح، سوالات و جوابات

0

تعارفِ شاعر:

جوشؔ کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ وہ ملیح آباد (لکھنو) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام بشیر احمد بشیر ؔتھا جو خود بھی ایک اچھے شاعر تھے۔ نسلاً آفریدی تھے۔ آباؤ اجداد کا تعلق وادیِ تیراہ سے تھا۔ جوش ؔنے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کی اور عربی فارسی پر اچھی خاصی دسترس حاصل کرلی۔ اس کے بعد سینٹ پیٹرس کالج آگرہ سے مزید تعلیم حاصل کی۔ جوش کا تعلق ایک جاگیردار گھرانے سے تھا، لیکن والد کے انتقال سے سارا خاندان انتشار کا شکار ہو گیا۔

تلاشِ معاش کے سلسلے میں کافی پریشان رہے۔ آخر کار دارالترجمہ ( جامعہ عثمانیہ، حیدر آباد) میں ملازمت اختیار کی، لیکن نظام حیدر آباد کے خلاف ایک نظم لکھنے کی پاداش میں معتوب ہو کر ریاست بدر ہوئے اور دہلی منتقل ہو گئے۔ وہاں وہ مختلف رسائل سے منسلک رہے۔ کچھ عرصہ فلمی دنیا اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔ ادبی خدمات کے صلے میں ہندوستانی حکومت نے انھیں سب سے بڑا ادبی اعزاز ”پدما بھوشن“ عطا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد کراچی میں رہائش اختیار کی۔ ان کا انتقال اسلام آباد میں ہوا اور وہیں مدفون ہیں۔

جوشؔ کو ادبی ماحول ورثے میں ملا تھا۔ انھوں نے شعر گوئی کی ابتدا تقریباً نو سال کی عمر سے کی۔ ابتدا میں انھوں نے غزلیں کہیں، لیکن جلد ہی وہ نظم کی طرف مائل ہو گئے۔ نظم نگاری میں انھیں ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔ ان کی نظموں میں مناظرِ فطرت کی عکاسی، انقلابی رنگ اور شباب کی ولولہ انگیزی پائی جاتی ہے۔ اس لیے انھیں شاعرِ فطرت اور شاعرِ انقلاب بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نظموں میں سیاسی رنگ بھی ہے اور احتجاجی عنصر بھی نمایاں ہے۔ جوشؔ کو الفاظ پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ ان کاز خیرہ الفاظ بہت وسیع تھا۔ ان کے لہجے میں ایک خاص گھن گرج اور بہاؤ ہے۔ شعری وسائل کے فنکارانہ استعمال سے جوش نے اپنے کلام میں دلکشی اور رعنائی پیدا کی ہے۔ وہ کسی بھی موضوع پر مسلسل اومفصل لکھنے پر قادر تھے۔

مجموعۂ ہائے کلام: شعلہ و شبنم، روح ادب، نقش و نگار، فکر و نشاط، حروف و حکایات، آیات و نعمات، سیف و سبو، عرش، فرش، یادوں کی بارات (خود نوشت) وغیرہ۔

نظم: مناظر ِسَحر کی تشریح

کیا روح فزا جلوہ، رخسار سحر ہے
ہر پھول کا چہرہ حسن سے تر ہے
کشمیر دل زار ہے فردوس نظر ہے
ہر چیز میں اک بات ہے ہر شے میں اثر ہے
ہر سمت بھڑکتا ہے رخ حور کا شعلہ
ہر ذرۂ ناچیز میں ہے طور کا شعلہ

تشریح:

درج بالا مسدس جوشؔ ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نظم ”مناظر سحر “سے اخذ ہے، اس میں شاعر جوش ؔملیح آبادی قدرت کی توصیف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صبح صادق کا وقت کس قدر دلنشین ہے۔ صبح کے آثار ظاہر ہوتے ہی اس کا دلکش چہرہ رات کے سیاہ پردے کی اوٹ سے باہر آگیا، ہر چیز پر سے جیسے غلاف اٹھ گیا ہو ۔ ہر چیز اپنی پورے آب و تاب کے ساتھ رنگینیاں بکھیر رہی ہے۔ان مناظر کو دیکھ کر گویا جنت کا سا گمان ہونے لگتا ہے۔ ہر چیز جنت سے اتری ہوئی لگتی ہے حتیٰ کہ ریت کا ذرۂ کوہ طورکے نور سا معلوم ہوتا ہے۔

لرزش وہ ستارہ کی وہ ذروں کا تبسم
گردوں پہ سپیدی و سیاہی کا تصادم
چشموں کا وہ بہنا کہ دفا ج پر ترنم
طوفان وہ جلوؤں کا وہ نغموں کا تلاطم
اڑتے ہوئے گیسو وہ نسیمِ سحری کے
شانوں پہ پریشان ہیں یا بال پری کے

تشریح:

درج بالا مسدس جوشؔ ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نظم ”مناظر سحر “سے اخذ ہے، اس میں شاعر جوش ؔملیح آبادی قدرت کی توصیف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ صبح کے آثار واضح ہو گئے ہیں، ستارے جو رات بھر روشن تھے اب ٹمٹماکر اوجھل ہو گئے ہیں۔صبح کی خاموشی میں جھرنوں سے پانی کے بہنے کی آواز سنائی دینے لگی تھی۔ یہ پانی کے بہنے کی آواز انتہائی سریلی اور کانوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ افق پر اندھیرے اجالے کے مابین ایک جنگ جاری ہے جس میں بلآخر روشنی کی جیت ہو گئی تھی اور اندھیرا پس پا ہو گیا۔صبح کے وقت آہستہ آہستہ ہوا چلتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی پری کے کندھے پر بال بکھرے ہوں۔

وہ پھیلنا خوشبو کا وہ کلیوں کا چٹکنا
وہ چھاؤں میں تاروں کی گل تر کا مہکنا
وہ چاندنی مدھم، وہ سمندر کا جھلکنا
وہ جھومنا سبزہ کا، وہ کھیتوں کا لہکنا
شاخوں سے ملی جاتی ہیں شاخیں وہ اثر ہے
کہتی ہے نسیم سحری ”عید سحر سے“

تشریح:

درج بالا مسدس جوشؔ ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نظم ”مناظر سحر “سے اخذ ہے، اس میں شاعر جوش ؔملیح آبادی فطرت کی توصیف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ صبح کے وقت پھول کھلنے لگ جاتے ہیں، پھول انگڑائی لے کر جب کھلتے ہیں اور اپنے شباب کی نمائش کرتے ہیں تو خوشبیوں کے بھبکے چاروں اور پھیل جاتے ہیں۔چاند جو رات بھر سے افق پر راج کر رہا تھا اس کی روشنی میں سمندر کی لہریں صاف دکھائی دیتی تھیں۔ کھیتوں میں ہری بھری فصلیں ہواؤں کے جھونکوں کے ساتھ جھومنے لگتیں۔ اسی ہوا کے ساتھ درختوں کی شاخیں بھی آپس میں گلو گیر ہوتی معلوم ہوتی جیسے آپس میں ایک صبح کی آمد کا جشن منا رہی ہوں۔

خنکی وہ بیاباں کی، وہ رنگینئ صحرا
پیشانی گردوں پر، وہ ہنستا ہوا تارا
وہ وادئ سرسبزہ و تالاب مصفا
وہ راستے جنگل کے، وہ بہتا ہوا دریا
ہر سمت میں گلستاں میں وہ انبار گلوں کے
شبنم سے وہ دھوئے ہوئے رخسار گلوں کے

تشریح:

درج بالا مسدس جوشؔ ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نظم ”مناظر سحر “سے اخذ ہے، اس میں شاعر جوش ؔملیح آبادی فطرت کی توصیف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ صبح کے وقت صحرا بھی خوبصورت لگتے ہیں، وہ صحرا جو سارا دن گرمی کی شدت اختیار کیے ہوتا ہے وہ بھی صبح کے وقت ٹھنڈک بخش ہوتا ہے۔ صبح کے وقت ابر اجلا دکھائی دیتا ہے جنگ بیاباں غرض کہ ہر جگہ ہی خوبصورت نظر آتی ہے۔ ہر سمت پھولوں نے کھلنا شروع کر دیا اور شبنم کے قطروں نے گویا ہر چیز کو نہلا کر خوبصورت کر دیا ہے۔

وہ روح میں انوارِ خدا، صبح وہ صادق
وہ سادگی انسان کی فطرت کے مطابق
وہ حسن جسے دیکھ کے ہر آنکھ ہو عاشق
زریں، وہ افق نور سے لبریز وہ مشرق
وہ نغمۂ داؤدؑ پرندوں کی صدا میں
پیراہن یوسفؑ کی وہ تاثیر ہوا میں

تشریح:

درج بالا مسدس جوشؔ ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نظم ”مناظر سحر “سے اخذ ہے، اس میں شاعر جوش ؔملیح آبادی فطرت کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صبح صادق کی فضا ہی اور قسم کی ہوتی ہے جس سمت بھی نظر اٹھے خدا کے انعامات دکھائی دیتے ہیں۔ سرسبز و شادابی، چشموں کا میٹھا پانی، پرندوں کی رنگا رنگ اقسام کو دیکھ کر انسان کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ہر چیز صبح کے وقت اپنی اصل حاصل میں ہوتی ہے جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوتی اسی لیے یہ مناظر صبح کے وقت زیادہ دلکش ہوتے ہیں۔ سورج مشرق کی طرف سے اگتا ہے اس لیے مشرق کی جانب افق کے ساتھ ساتھ نور ابھرتا معلوم ہوتا ہے۔ پرندوں کی حمد و ثنا میں مشغول لحن داؤدؑ اور باد صبا میں یوسفؑ کی قمیض کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔

وہ برگ گل تازہ، وہ شبنم کی لطافت
وہ جلوۂ اصنام، وہ بت خانہ کی زینت
اک حسن سے وہ خندہ سامان حقیقت
زاہد کا وہ منظر، وہ برہمن کی صباحت
ناقوس کے سینے سے صدائیں وہ فغاں کی
وہ حمد میں ڈوبی ہوئی آواز اذاں کی

تشریح:

درج بالا مسدس جوشؔ ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نظم ”مناظر سحر “سے اخذ ہے، اس میں شاعر جوش ؔملیح آبادی فطرت کی توصیف بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ صبح کے وقت جو تازہ پھول کھلتے ہیں ان پر شبنم کے قطروں کی لطافت ایک عجیب نظارہ پیش کر رہی ہوتی ہے۔ بڑے سلیقے کے ساتھ فطرت اپنے حسن کی نمائش کرتی ہے۔ مندروں میں پڑے صنم ان عبادت گاہوں کی زینت ہیں ، لوگوں کا صبح اٹھ کر اپنی عبادت گاہوں میں جانا اور ان کا تقویٰ و پرہیزگاری بھی دیدنی ہے۔ صبح کے وقت مندر کے بجھن یا مسجد کی آزان فضا میں گونج کر اسے اور مسحور کن بنا دیتی ہے۔

آقا کا غلاموں سے یہ قرب کا ہنگام!
چھا جاتی ہے رحمت، تو برس پڑتے ہیں انعام
دل ہوتے ہیں سرشار فنا ہوتے ہیں آلام
اس وقت کسی طرح مناسب نہیں آرام
رونے میں جو لذت ہے تو آہوں میں مزا ہے
اے روح! خودی چھوڑ کہ نزدیک ”خدا“ ہے

تشریح:

درج بالا مسدس جوشؔ ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نظم ”مناظر سحر “سے اخذ ہے، اس میں شاعر جوش ؔملیح آبادی فطرت کی توصیف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ صبح کے وقت جب تمام دنیا نیند میں ڈوبی ہوتی ہے ، اس وقت اپنی نیند کی قربانی دے کر جب بندےا پنے رب کے حضور پیش ہوتے ہیں تو ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا ، تمام دوریاں مٹ جاتی ہیں۔ چونکہ صبح کے وقت خدا اپنی رحمتوں کی بارش کرتا ہے، اس وقت خدا بندے کی پکار کو سنتا ہے اور اسے وہ عطا کرتا ہے جس کا وہ مشتاق ہو۔ اس وقت بندے کا خدا کے سامنے رونا، آہیں بھرنا اسے کام آجاتا ہے کیونکہ خدا صبح سویرے اپنے بستر چھوڑ کر اس کے سامنے پیش ہونے والے بندے کی بات کیسے ٹال سکتا ہے۔

مشق

سوال نمبر 1: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:

(۱): مناظر سحر میں پیش کیا گیا صبح کا منظر اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

جواب: صبح صادق کے مناظر آنکھوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ سبزا شبنم میں نہایا ہوا ہوتا ہے، اور ہر طرف ایک خوشنما چمک ہوتی ہے۔ فضا اجلی اجلی اور مہکی ہوئی ہوتی ہے۔ ہر جانب خوشبو کا راج ہوتا ہے ۔ پرندوں کی چہچہاہٹ خدا تعالیٰ کی حمد و ثناں میں مصروف ہوتے ہیں۔صبح صبح ہر شخص اپنی عبادت گاہوں کا رخ کرتا ہے ، یہی خدا کے حضورپیش ہونے کا سماں ہے۔

(۲): جوشؔ کو شاعر فطرت کہا جاتا ہے۔ اس نظم کے حوالے سے وضاحت کریں۔

جواب: جوشؔ ملیح آبادی کو فطرت کا شاعر کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے اشعار اور تخیل میں قدرتی مناظر کی بے حد رونمائی ہوتی ہے۔ انھیں قدرت کے نظارے بے حد بھاتے ہیں جس کا ذکر وہ اپنے ہاں کثرت سے کرتےہیں۔ اس نظم مناظر سحر میں بھی وہ قدرت کو اسی طرح پیش کرتے ہیں جیسے وہ اپنی اصل حالت میں ہے، اس میں کسی قسم کی ملاوٹ کا تصور نہیں ہوتا۔ مثلاً افق، ستارے، چاند تارے، چشمے، پرندوں کی صدائیں وغیرہ۔

(۳): نظم کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔

جواب: نظم مناظر سحر میں شاعر جوش ملیح آبادی قدرتی مناظر کا ذکر کرتے ہیں۔وہ اپنی فطرت پسندی کی خوبی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر چیز کو اس کی اصلی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صبح کے رخساروں کا جلوہ دلوں کو لبھاتا ہے، ہر چیز پر جنت کا سا گمان گزرتا ہے۔ پھولوں پتیوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی مثل ہوتے ہیں۔ ہر چیز تر و تازہ ہوتی ہے اور خوشبوؤں سے ہوا معطر ہوتی ہے۔ ہر چیز ہی گویا سرسبز و شاداب نظر آتی ہے۔ صبح کے وقت افق بھی کس قدر اجلی ہوتی ہے کہ ستارے بھی واضح نظر آتے ہیں۔ اسی وقت مسلمان، ہندو گو کہ ہر مذہب کا فرد اپنی اپنی عبادت گاہوں کی جانب چل پڑتا ہے، کہ یہی ساعت خدا کے حضور پیش ہونے کا ہے۔

(۴): بند نمبر ۳ میں کن اشیا کو ”عید سحر“ سے تعبیر کیا گیا ہے؟

جواب:نظم کے بند نمبر ۳ میں شاعر نےپھولوں کی خوشبو کے پھیلنے، کلیوں سے چٹکنے ، گل کے مہکنے ، کھیتوں کے لہلہانے اور شاخوں کے گلے ملنے کو عید سحر سے تعبیر کیا ہے۔

(۵): بند نمبر ۵ میں ”انوارِ خدا“ سے کیا مراد ہے؟

جواب:نظم کے بند نمبر ۵ میں ”أنورِ خدا“ سے مراد ہے صبح صادق کا وقت ہے۔

(۶): صنعتِ تلمیح سے مراد کلام میں کسی قرآنی آیت، حدیث شریف، کسی مشہور تاریخی واقعہ یا علمی اصطلاح کو نظم کرنا ہے۔

جواب:مذکورہ درج بالا نظم میں شاعر جوش ملیح آبادی نے دو تلمیحات کا استعمال کیا ہے۔ ان میں سے ایک ”داؤدؑ“ اور دوسرا ”پیراہن یوسفؑ“ ہے۔

(۷):آپ اس نظم سے دو تلمیحات کی نشاندہی کریں اور وضاحت بھی پیش کریں۔

تمیز یا متعلق فعل:

وہ الفاظ جو فعل کی کیفیت یا حالت میں تھوڑی سی کمی بیشی کرتے ہیں۔
چند تمیزی الفاظ درج ذیل ہیں:
کبھی، کبھی کبھی، کبھی نہیں، کبھی نہ کبھی، ہمیشہ، اکثر، عموماً، آئے دن، روز روز، یکا یک، اچانک، جلد۔ جلدی، وغیرہ وغیرہ۔

درج بالا تمیزی الفاظ سے دو دو جملے بنائیں۔

  • کبھی: راحت بھی کبھی ہمارے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔
  • کبھی کبھی: انسان کبھی کبھی بسیار خوری سے بھی بیمار پڑ سکتا ہے۔
  • کبھی نہیں: میری وہ کتاب پھر کبھی نہیں ملی ۔
  • کبھی نہ کبھی: کبھی نہ کبھی تو وہ مکافات عمل کا شکار ہوگا۔
  • ہمیشہ: ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“ منیر نیازی کا مصرع ہے۔
  • اکثر: میری اس سے اکثر و بیشتر مڈبھیڑ ہو جاتی ہے۔
  • عموماً: وہ عموماً ورزش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
  • آئے دن: آئے دن اس کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • روز روز: وہ روز روز کے قرض خواہوں کے آنے سے عاجز آچکا تھا۔
  • یکا یک: یکا یک زور کا دھماکہ ہوا اور میرا دل تیز دھڑکنے لگا۔
  • اچانک: وہ اچانک لاپتہ ہو گیا۔
  • جلد: بہت جلد میرے والد عمرہ ادا کرنے کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔
  • جلدی جلدی: اس نے جلدی جلدی سے اپنا لنچ ختم کیا۔