Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: 21
- نظم: شکست کی آواز
- شاعر: میرا جی
- ماخوذ: پابند نظمیں
تعارفِ شاعر:
میرا ؔجی اصل نام محمد ثنا اللہ ڈار اور تخلص میراؔ جی تھا۔ اُن کے آباؤ اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا جو ڈوگرہ راج میں ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں آباد ہو گئے تھے ۔جب کہ میراؔ جی کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔ چونکہ اُن کے والد منشی مہتاب الدین ریلوے میں ملازم تھے اور مختلف مقامات پر ڈیوٹی انجام دیتے رہے اس لیے میرا ؔجی با قاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ میٹرک کا امتحان بھی پاس نہ کر سکے لیکن مطالعے کا شوق جنون کی حد تک تھا اور وہ اپنے طور پر مطالعہ کرتے رہے۔
اس عرصے میں لاہور میں حلقہ ارباب ذوق کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ حلقے کے قیام کے چار سال بعد میرا ؔجی اس میں شامل ہوئے۔ اُن کی شمولیت سے حلقے میں جان پڑ گئی۔ میراؔ جی حلقے کے سرگرم کارکن اور منتظم رہے ہیں۔ وہ حلقے کے قواعد و ضوابط کی خود بھی پابندی کرتے اور دوسروں سے بھی کرواتے۔
میرا جی کی ساری عمر محرومیوں میں گزری جس کا مداوا اُنھوں نے شاعری میں تلاش کیا۔ اُنھوں نے اُردو نظم کو چکا چوند روشنی سے نکال کر نیم روشن سایوں سے متعارف کرایا۔ وہ اپنی شاعری میں زندگی کی مکمل اور واضح تصویر کی بجائے ایسے دائرے اور خطوط بناتے ہیں کہ واضح ہونے کے باوجود بھی اُس پر ابہام کا پردہ پڑا رہتا ہے۔
مغربی شعرا کے مطالعے سے انھیں جدید شاعری میں نئے خیال آیا اور یہ تجربات کامیاب رہے ۔ اُنھوں نے ان تجربات کو ”ادبی دنیا“ اور حلقہ ارباب ذوق میں پروان چڑھایا۔ وہ ایک ایسے شاعر ہیں جس کی جڑیں اپنی دھرتی میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی نظموں میں ہندوستانی تہذیب کا ارضی پہلو نمایاں ہے۔ اُنھوں نے نظم کو خارجی حقیقت نگاری سے نکال کر انسانی باطن میں اُتارا اور نظم کی ایک سطحی معنویت کو ہمہ جہت بنایا
مجموعۂ ہائے کلام: میراؔ جی کے گیت، میراؔ جی کی نظمیں، گیت ہی گیت، تین رنگ، پابند نظمیں۔
نظم: شکست کی آواز تشریح
| امنگوں نے میرے دل کو عجب الجھن میں ڈالا ہے سمجھتا ہے کہ جو بھی کام ہے وہ کرنے والا ہے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی کہتے ہیں کہ میرا دل بے تحاشہ خواہشات کا گڑھ ہے۔ہزاروں خواہشیں میرے دل میں پیدا ہوتی ہیں اور میں یہی چاہتا ہوں کہ اسے جلد از جلد کر گزروں، اور اس میں کسی قسم کی تاخیر کا شکار نہ ہوں۔
| یہ کہتا ہے نئے رستے دکھاؤں میں سواروں کو یہ کہتا ہے کہ لے آؤں فلک جسے ماہ پاروں کو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی کہتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں لوگوں کوراہ دکھاؤں، اس سمت کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرواؤں جو آنکھوں سے اوجھل ہے یا جس جانب کسی کا دھیان نہیں گیا ۔ شاعر کا دل چاہتا ہے کہ وہ چاند پر جا کر چاند کے ٹکڑے سمیٹ کر دنیا میں لے آئے۔
| یہ کہتا ہے کہ صحراؤں کی دوری طے کروں پل میں حقیقت میں یہ إحساس شعوری طے کروں پل میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ صحراؤں کی طوالت کو میں کسی طور سمیٹ لوں کہ اسے سر کرنا ایک ساعت بھر کا کام ہو جائے۔ اپنی اس سوچ کو کہ شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔
| جہانِ نو کو دیکھ آؤں جو ہے قلب سمندر میں بیاں سنگ پالوں منجمد ہے کوہ کے سر میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سمندر کی تہہ میں جو جہان نو آباد ہے وہ دیکھ آؤں۔ یعنی شاعر سمندر کی تہہ میں سیر کر کے وہاں کے ماحول کا مشاہدہ کرنے کا اشتیاق رکھتے ہیں ۔پھر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی برف کو بھی دریافت کرنے کی چاہ کرتے ہیں۔
| یہ کہتا ہے کہ ساری کائنات اک ذرہ بن جائے جو ہے لا انتہا ہو وقفہ وہ اک لمحہ بن جائے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ ساری کائنات سمٹ کر ایک ریت کا ذرہ بن جائے، وہ اتنی معمولی اور چھوٹی سی چیز میں تبدیل ہو جائے کہ اس میں پنہاں رازوں کو میں جان سکوں۔ پھر ازل سے جو وقت چل رہا ہے وہ بھی تھم جائے اور ایک لمحہ میں تبدیل ہو جائے۔
| مگر اونچے ارادے میں، تو کیا، اونچے ارادوں کو سمجھنے کا نہیں إحساس حاصل سیدھے سادوں کو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی کہتے ہیں کہ میرےادارے اگرچہ بہت بلند اور اونچے ہیں، لیکن یہ سود مند معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ ارادے، یہ جذبے، بھولے بھالے دنیا دار لوگوں کے لیے رتی برابر بھی اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے دماغ کا بہت کم استعمال کرتے ہیں۔
| جہاں میں سیدھے سادے آدمی کثرت سے بستے ہیں ہے محدود ان کی ہمت اور محدود ان کے راستے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے دل میں کس قدر بلند ارادے موجود ہیں مگر افسوس کہ یہ معاشرہ اس کا متحمل نہیں۔ یہ دنیا والے سادہ لوح دنیا دار لوگ ہیں ان میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ اس قدر بلند خیالات کے لیے کام کر سکیں۔ ان کا ادراک اور راستے انتہائی محدود ہیں، وہ اس سے آگے نہیں سوچ سکتے۔
| تمدن اور تہذیب نے پھندا ان پہ ڈالا ہے وہ کہتا ہے کہ ہونا ہی وہی ہے جو ہونے والا ہے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے نہیں لگتا کہ جو ارادے اور عزم میرے ہیں وہ ان دنیا والوں کے بھی ہوں۔ یہ بھولے بھالے لوگ قدامت پرست ہیں، یہ اپنے رسم و رواج میں الجھے ہوئے ہیں، وہ خود سے کچھ بھی کرنے کے اہل نہیں بس جو ہو رہا ہے اسے اپنی تقدیر جان کر مان لیتے ہیں۔
| بدل کر کیا کریں گے ہم طریقے آج قدرت کے ہمارے دامنوں پر ہاتھ کل ہونگے مشیت کے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں جس بلند عزم کا ارادہ رکھتا ہوں یہ لوگ اس میں میرا ساتھ دیں گے۔ یہ ہمیشہ میری پس پائی کا سبب رہے ہیں، کیوں کہ یہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ جو ہو رہا ہے خدا کی مرضی سے ہو رہا ہے، ہم ےو عاجز لوگ ہیں ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے۔
| انہیں تسکین ہے پہلی لکیروں کی فقیری میں یہ کھوئے ہیں تمنا کی ضعیفی اور پیری میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگ اپنی جہالت اور سستی میں خوش ہیں۔ وہ جس طرح زندگی گزار رہے ہیں وہ اس سے مطمئن ہیں۔ وہ اپنے رسم و رواج میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں جیسے کولہو کا بیس پھنسا ہوتا ہے۔
| میں ان کو دیکھتا ہوں دل پہ ہوتا ہے اثر ان کا میں اک مظلوم ہوں ماحول کے اس جذب ساکن کا |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں، میری سوچ اور جذب بہت بلند ہے، مگر میں کیا کروں جب میں آس پاس کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو ان کا اثر بھی مجھ پر ہو جاتا ہے۔ میں ایسے معاشرے میں رہ کر کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوں اور ان کی سوچیں مجھ پر حاوی ہو جاتی ہیں۔
| مگر ہاں باوجود اس کے میرے دل میں جو جوالا ہے امنگوں نے میری ہستی کو اک الجھن میں ڈالا ہے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر میرا جی اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں خود کو اپنے دل کو جانتا ہوں ۔ میں اپنے آپ میں اس قابل پاتا ہوں کہ میں جو سوچتا ہوں میں وہ کر سکتا ہوں، جن کے لیے جستجو کرنے سے میری ذات میں الجھنیں در آئیں ہیں۔
مشق
سوال نمبر 1: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:
(الف): اس نظم کا مرکزی خیال لکھیں۔
جواب: اس نظم کا مرکزی خیال ہے کہ دنیا کے زیادہ تر لوگ لکیر کے فقیر ہیں عمل سے عاری اور زبان کے غازی ہیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے سستی اور کاہلی کا مجسمہ بنے بیٹھے ہیں۔ اپنی تقدیر پر اعتقاد کر کے جو ہو رہا ہے اسے خدا کا حکم سمجھ کر سر نگوں کیے ہیں۔
(ب): شاعر اپنے دل کی کس امنگ کا ذکر کرتا ہے؟
جواب: شاعر اپنے دل کی امنگ کا ذکر کرتا ہے کہ وہ کائنات کے رازوں کا آشکار کرے، اور زندگی کو آسان اوربہتر بنائے کے طریقے معلوم کرے۔
(ج): آسمان سے کن کو لانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے؟
جواب: شاعر نے آسمان سے چاند کے ٹکڑوں کو زمین پر لانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
(د):جہاںِ نو کہاں واقع ہے؟
جواب:شاعر کے مطابق سمندر کی تہہ میں جہاںِ نو آباد ہے۔
(ہ): دنیا میں زیادہ تر لوگ کس قسم کے ہیں؟
جواب: دنیا میں زیادہ تر لوگ لکیر کے فقیر ہیں وہ تقدیر پر انحصار کر کے بیٹھے ہیں۔
(و):وہ خواہش کیوں کی گئی ہے کہ کائنات ایک ذرہ بن جائے؟
جواب:شاعر کی خواہش ہے کہ یہ ساری کائنات ایک ریت کا ذرہ بن جائے تاکہ اس کے رازوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
(ز): قدرت کے طریقے بدلنے میں کیا چیز حائل ہے؟
جواب:قدرت کے طریقے بدلنے میں وہ لوگوں حائل ہیں جو ہر عمل کو مشیت ایزدی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔
(ح): ”لکیر کا فقیر“ سے کیا مراد ہے؟
جواب:”لکیر کا فقیر“ یہ اردو زبان کا محاورہ ہے، جس سے مراد سیدھے سادہ لوگوں کے ہیں۔
(ط): شاعر کی ذات میں الجھاؤ کی کیا وجہ ہے؟
جواب:شاعر کی ذات میں الجھاؤ کی سب سے بڑی وجہ ماحول کا ساکن ہونا اور زمانے کا ٹھہراؤ ہے۔ شاعر کوئی کارنامہ انجام دینا چاہتا ہے مگر معاشرہ عمل سے عاری ہے۔ شاعر بری طرح اس معاشرے کی سستی و کاہلی سے متاثر ہے اس لیے وہ پیہم ایک ہیجان کی کیفیت میں گرفتار ہے ۔ اسی صورتحال سے نکلنے کی کوشش میں شاعر کی ذات الجھاؤ کا شکار ہے۔
(ی): اس نظم کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔
جواب: نظم شکست کی آواز میں شاعر میرا جی نے اپنے رنج و غم کا نوحہ کہا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان کے دل کی تمنا ہے کہ وہ نئی جہتیں تلاش کر سکیں اور ان سے زندگی کو آسانی سے گزارنے کے طور طریقہ لوگوں کو بتائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کائنات سمٹ کر ایک ریت کے ذرے میں تبدیل ہو جائے اور انسان کو تمام راز کائنات مل جائیں اور پھر وہ اپنے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ وہ وقت ، بلندی اور پستی کو یکسر ختم کرکے ایک نئے دور کی بنیاد رکھیں مگر اس سب میں معاشرہ ان کے آڑے آتا ہے۔ لوگ سستی اور کاہلی کا شکار ہیں، لوگوں اپنے قدامت پسندانہ نظریات کی بنا پر اس نئی سوچ کو جگہ نہیں دے سکتے، جس کا گہرا اثر شاعر پر بھی پڑتا ہے۔ اسی لیے شاعر اپنی ان تمام سوچوں کے ادھورا ہونے کی وجہ سے اپنی ذات میں ایک اضطراب کی کیفیت پاتا ہے۔
سوال نمبر 2: تشریح کریں۔
| مگر ہاں باوجود اس کے مرے دل میں جو جوالا ہے امنگوں نے مری ہستی کو اک الجھن میں ڈالا ہے |
جواب: ایضاً
سوال نمبر 3: ”لکیر کا فقیر ہونا“محاورہ ہے۔ محاورے کی تعریف کریں اور کوئی سے پانچ محاورات لکھیں:
جواب: محاورہ: محاورہ دو یا دو سے زیادہ الفاظ کی ترکیب سے بنتا ہے۔ حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اہل زبان کے روز مرہ کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلا: حلوائی کی دکان پر دادا کی فاتحہ، منہ کی کھانا، کمر باندھنا، سر مندواتے ہی اولے پڑنا، کان بھرنا۔