Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: ۲۴
- نظم: ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
- شاعر: منیرؔ نیازی
- ماخوذ:
تعارفِ شاعر:
منیرؔ احمد خان نیازی ضلع ہوشیار پور ( مشرقی پنجاب کے )ایک گاؤں خان پور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم خان پور ہی میں حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد اُن کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آیا اور ساہیوال میں رہائش اختیار کی۔ بہاولپور سے انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد منیر ؔنیازی نے دیال سنگھ کالج لاہور سے بی۔ اے کیا۔ انھوں نے ”سات رنگ“ کے نام سے ایک ہفتہ وار رسالہ جاری کیا۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات، رسائل اور ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے ۔جبکہ فلموں کے لیے بھی شاعری کرتے رہے۔
منیر ؔنیازی کی شناخت کے لیے ایک ہی لفظ کافی ہے اور وہ ہے ” تحیر“ وہ تحیر کے شاعر ہیں۔ وہ نا معلوم کیفیات کا سراغ لگانا چاہتے ہیں اور جانی پہچانی اشیا کو اپنی شاعرانہ حسیات سے ایک نیا رخ دیتے ہیں ۔ منیر کی شاعری محض خلا میں پروان نہیں چڑھی بلکہ اپنے عہد کی ترجمانی کرتی ہے۔ جو نئے رموز اور علامات کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اُن کی شاعری میں والہانہ سرشاری کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ وہ اپنے ڈھنگ کے ایک الگ شاعر ہیں جو گھسی پٹی راہوں سے دُور کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کا لہجہ عام اسلوب سے اتنا مختلف ہے کہ اُن کی شناخت آسانی سے ہو سکتی ہے۔ اُن کی ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں ”کمال فن“ اور ”ستارۂ امتیاز“ سے بھی نوازا گیا ہے۔
مجموعۂ ہائے کلام: تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، چھے رنگین دروازے وغیرہ۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں نظم کی تشریح
| ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں |
تشریح:۔
نظم ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“ کے درج بالا بند میں شاعر منیرؔ نیازی صاحب رنجیدہ حالت میں انسانی نفسیاتی کمزور کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ،میں ہر کام کرنے میں تاخیر کا شکار ہوں۔ میں کسی کام کو وقت پر کرنے میں ناکام ہو جاتا ہوں۔ کسی سے کچھ اہم بات کرنی ہو، کوئی قول و قرار نبھانے ہوں میں اکثر دیر کر دیتا ہوں۔ کسی کو کوئی پیغام دینا ہو یا جانے والے شخص کو روکنا ہو میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں اور بات نہیں بن پاتی۔
| مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں |
تشریح:۔
نظم ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“ کے درج بالا تین مصروعوں میں شاعر منیرؔ نیازی صاحب رنجیدہ حالت میں بشری کمزور کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ،کسی عزیز کو مصیبت میں دیکھوں اور اس کی مدد کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہوں، اس کی تکلیف کا ماداوا کرنا ہو ، حوصلہ افزائی یا ہمدردی جتانی ہو۔پرانے طور پر زندگی کوچلانا ہو توہمیشہ سستی اور کاہلی کا شکار ہو جاتا ہوں۔
| بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں |
تشریح:۔
نظم ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“ کے درج بالا تین مصروعوں میں شاعر منیرؔ نیازی صاحب رنجیدہ حالت میں اعتراف کرتے ہیں کہ جب کبھی حالات و واقعات بدلتے ہیں، زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، تو میں سب کو اپنا نہیں پاتا۔ میں موسموں کی بدلتی رتوں سے اپنے آپ کو مانوس نہیں کر سکتا۔ غرض کہ میں اپنے آپ کو کسی تبدیلی کے ساتھ موزوں نہیں پاتا کیونکہ میں ہر کام میں تاخیر کا عادی ہوں۔
| کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں |
تشریح:۔
نظم ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“ کے درج بالا تین مصروعوں میں شاعر منیرؔ نیازی صاحب رنجیدہ حالت میں اعتراف کرتے ہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس کا مزہ ہر ذی روح نے چکھنا ہے، مگر موت سے قبل کسی کو مصیبت و مشکل سے بچانا ہو، یعنی اس کی غلط فہمی دور کرنے کا معاملہ ہو، اسے اس بات سے آگاہ کرنا کہ جس کی لاعلمی سے اسے بے چینی ہے ۔ افسوس میں وہ بے چینی دور کرنے میں بھی دیر کر دیتا ہوں۔
مشق
سوال نمبر ا: اس نظم میں انسان کی کس نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے؟
جواب:۔اس نظم میں شاعر منیرؔ نیازی کے انسان کی بروقت کام نہ کرنے اور تاخیر کے شکار ہو جانے کی نفسیاتی کیفیت کو بیان کیا ہے۔
سوال نمبر ۲ان کاموں کی تفصیل بیان کریں۔ جن کے کرنے میں شاعر سے دیر ہو جاتی ہے۔
جواب: شاعر نے اس نظم میں نفیساتی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وہ وعدہ پورا کرنے، مدد کرنے، دنیا کے بدلتے موسموں سے مانوس ہونے میں کسی کی مشکل حل کرنے میں اور غلط فہمی ختم کرنے میں دیر کر دیتے ہیں۔
سوال نمبر ۳: عام زندگی میں دیر کرنے کے کیا نقصانات متوقع ہوتے ہیں۔
جواب:ایک مقولہ ہے کہ ”آج کا کام کل پر نہ چھوڑو“ یعنی کام میں دیری نہ کرو۔ کیونکہ آج کا کام کل پر چھوڑنے سے یہ تاخیر کا شکار ہو جائے گا اور پھر ایسے ہی وہ کام کبھی پورا نہ ہوگا۔ عام روز مرہ کی زندگی میں بھی دیر کرنے کے بہت نقصانات ہیں، ہم دیر کرتے ہیں اور وقت کی اہمیت کو نہیں جانتے جس کے ہمیں بہت گہرے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔
سوال نمبر۴: درج ذیل مصروعوں کی وضاحت کریں۔
جواب: ؎مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
٭ اس مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ اگر مجھے میرے عزیز کی مدد کرنی ہو جو مشکل میں مبتلا ہے۔ اسے تسلی و تشفی دینی ہو میں یہ کام بھی تاخیر کی وجہ سے نہیں کر پاتا۔
؎ حقیقت اور تھی کچھ، اس کو جا کر یہ بتانا ہو
٭ اس مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ اگر کو کچھ غلط فہمی ہو جائے اور اس میں وہ بے چینی میں مبتلا ہو تو میں اس کی غلط فہمی ختم کرنے میں بھی تاخیر کر دیتا ہوں۔
؎ اسے آواز دینی ہو ، اسے واپس بلانا ہو
٭ اس مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص مجھ سے روٹھ چکا ہے، اور اس سے بات کرنی ہو اسےمنانا ہو تو میں اس میں بھی تاخیر کا شکار ہو جاتا ہوں اور اسی وجہ سے اپنے ایک اچھے دوست کو گنوا دیتا ہوں۔
سوال نمبر۵: ایسے پانچ الفاظ لکھیں جن کے دو دو معنی ہوں۔
- جواب: ادا ادا کرنا
- ادا ناز
- نفس سانس
- نفس جان
- کل دن
- کل مشین کا پرزہ
- بری خشکی
- بری آزاد
- بار پھل
- بار دفعہ
سوال۶: اس نظم کا خلاصہ تحریر کریں۔
جواب: اس نظم میں شاعر منیر نیازی کہتے ہیں کہ میں زندگی کے ہر امتحان میں خواہ کہ مجھے کسی کو کوئی ضروری بات بتانی ہو، کسی سے کیا وعدہ نبھانا ہو، روٹھے ہوئے دوست کو منانا ہو میں ہمیشہ تاخیر کا شکار ہو جاتا ہوں۔ مجھے کسی دوست کی مشکل دور کرنی ہو اسے تسلی دینی ہو پہلی سے رابط برقرار رکھنے ہوں میں دیر کر دیتا ہوں۔الغرض شاعر اس نظم میں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ شعبہ ہائے زندگی کے تمام معاملات میں، میں دیر کر دیتا ہوں۔
سوال۷: درج ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کریں۔
| دیرینہ: | علی میرا دیرینہ دوست ہے۔ |
| ڈھارس بندھانا: | فٹ بال کے میچ میں پورے اسکول نے اپنی ٹیم کی ڈھارس بندھائی۔ |
| حقیقت: | ہمیں حقیقت پسندانہ رویوں کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ |
| دل لگانا: | ہمیں دل لگا کر قرآن پڑھنا چاہیے۔ |
| وعدہ نبھانا: | اسلام میں وعدہ نبھانے کی بڑی تلقین ہے۔ |