سبق نمبر 25: نظم بڑے ڈرپوک ہو، تشریح، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر: ۲۵
  • نظم: بڑے ڈرپوک ہو
  • شاعر: وزیرؔ آغا
  • ماخوذ:

تعارفِ شاعر:

ڈاکٹر وزیر آغا کی پیدائش 18مئی 1922ء کو سرگودھا میں ہوئی تھی۔ آپ نے 1943 ء میں گورنمنٹ کالج لاہو ر سے معاشیات میں ایم اے کیا تھا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری انھوں نے جامعہ پنجاب سے 1956ء میں حاصل کی۔ اپنی ادبی سفر کا آغاز انھوں نے ادبی دنیا لاہو ر کے جوائنٹ ایڈیٹیر کی حیثیت سے 1960ء میں کیا تھا پھر انھوں نے لاہور سے اپنا سہ ماہی رسالہ اوراق 1965ء میں شائع کرنا شروع کیا۔ جو 2003ء تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا اور ان برسوں میں اس رسالے نے تو تین ادبی نسلوں کی آبیاری کی اوراق نے مضامین نو کے انبار لگا دیے۔
ڈاکٹر وزیر آغا 7 ستمبر 2010 کو رخلت فرما گئے۔

مجموعۂ ہائے کلام: نئے تناظر، غزلیں، شام اور سائے، چنا ہے ہم نے پہاڑی راستہ، گھاس میں تتلیاں وغیرہ۔

نظم: بڑے ڈرپوک ہو

بڑے ڈرپوک ہو تارو!
فقط شب کو نکلتے ہو!
کبھی آنسوکی
بھیگی مامتامیں
مہکتی چاندنی کی اوڑھنی میں
چھپ کے آتے ہو
کبھی تم
روشنی کی ان گنت میخوں کی صورت
تیرگی کے جسم میں پیوست ہوتے ہو
نہ جیتے ہو نہ مرتے ہو

تشریح:

درج بالا اشعار ڈاکٹر وزیر آغا کی نظم ”بڑے ڈرپوک ہو“ سے لیا گیا ہے، جس میں شاعر ڈاکٹر وزیر آغا ستاروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے ستارو! تم تو بہت ہی ڈرپوک ہو، ستارو تم بہت کمزور ہو جو فقط رات کو ہی نکلتے ہو۔ یعنی ستاروں کو وہ ایک طرح سے طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ستارو ! تم تو رات کو چاند کی روشنی میں ، چاند کی آغوش میں چھپے اپنا چہرہ ظاہر کرتے ہو، اس سیاہ آسمان میں چمکتی ہوئی میخوں کی مانند ابھرتے ہو تمہاری اپنی خواہش نہیں کہ تم اپنی مرضی سے بغیر چاند کے سہارے کے چمکو۔

بڑے ڈرپوک ہو تارو!
کبھی دیکھا نہیں تم نے کہ دن کتنا منّور
کس قدر بے انت ہوتا ہے
کبھی دیکھا نہیں تم نے
وہ تارا
جو فقط دن کو نکلتا ہے
چمکتی برچھیوں سے لیس ہو کر
اک سنہرا گرز اپنے ہاتھ میں لے کر
بہادر سورما

تشریح:

تشریح:درج بالا اشعار ڈاکٹر وزیر آغا کی نظم ”بڑے ڈرپوک ہو“ سے لیا گیا ہے، جس میں شاعر ڈاکٹر وزیر آغا ستاروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے ستارو!تم بہت ہی بزدل ہو، جو رات کی تاریکی میں چاند کی روشنی کے سہارے میں نکلتے ہو۔ کیا تم نے کبھی دن کے اجالوں کے بارے میں غور کیا ہے، دن کس قدر روشن اور طویل ہوتا ہے جب سورج کی روشنی چاروں اور پھیلی ہوتی ہے۔ سورج کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بہادر گرز لیے کھڑا ہے۔ سورج بھی تو ہے جو دن کو نکل کر اپنی روشنی میں سارے جہاں کو نہلا دیتا ہے کیا تمہیں اس کی تیز روشنی سے إحساس کمتری نہیں ہوتی۔ سورج کس طرح اکیلا دن کو نکلتا ہے جیسے کوئی جنگجو ڈھال تھامے اکیلا ہی ساری مشکلات کے سامنے کھڑا ہو۔

تنہا گزرتا ہے
افق کی قوس سے
غم کی، خوشی کی سرحدوں سے
بے خطر بڑھتا چلا جاتا ہے
آخر شام کے کہرام میں
منزل پہ اپنی پہنچ جاتا ہے
بڑے ڈرپوک ہو تارو!
فقط شب کو نکلتے ہو!

تشریح:

درج بالا اشعار ڈاکٹر وزیر آغا کی نظم ”بڑے ڈرپوک ہو“ سے لیا گیا ہے، جس میں شاعر ڈاکٹر وزیر آغا ستاروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے ستارو! تم بہت بزدل ہو، تم کبھی دن کے اجالوں میں نہیں نکلتے بلکہ تم ٹولیوں کی صورت میں رات کی تاریکی میں ابھرتے ہو۔ جبکہ سارا دن سورج تن تنہا سارے جہان کو روشنیوں سے منور کرتا ہے۔ سورج جو تمام مشکلات ہائے زندگی سے گزرتا ہوا افق کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اپنی تمام تر روشنیوں کے ساتھ اکیلا ہی غروب ہو جاتا ہے۔ جبکہ ستارو تم جھنڈ ، رات کی تاریکی اور چاند کی روشنی کےمحتاج ہو۔

مشق

سوال نمبر ا: نظم کے درج سوالوں کا جواب لکھیں؟

ا۔ اس نظم میں شاعر ستاروں سے کیا کہہ رہا ہے؟

جواب:۔ اس نظم میں شاعر رات کو نکلنے والے ستاروں سے کہہ رہا ہے کہ تم بہت بزدل ہو۔ رات کے ہونے اور چاند کی روشنی کا انتظار کرتے ہو تم میں جرأت نہیں کہ دن کے اجالے میں تن تنہا نکلو جیسے سورج نکلتا ہے۔

ب۔ شاعر نے نظم میں بہادر اور سورما کس کو کہا ہے؟

جواب:۔ شاعر نے نظم میں سورج کو تن تنہا دن میں نکلنے پر بہادر اور سورما کہا ہے۔

ج۔ شاعر نے ستاروں کو ڈرپوک کیوں کہا ہے؟

جواب:۔ نظم میں شاعر نے ستاروں کو بار بار ڈرپوک اس لیے کہا ہے کہ وہ تنہا نہیں نکلتے بلکہ وہ ٹولیوں میں چاند کی روشنی کی محتاجی میں نکلتے ہیں۔

د۔ آزاد نظم اور معریٰ نظم کی تعریف کریں اور ایک ایک مثال دیں۔

جواب:آزاد نظم عروض و قافیے کی پابندی سے آزاد ہوتی ہے۔ اس کے مصروعے جھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں مگر موسیقت سے پر ہوتے ہیں۔ تاہم یہ اوزان اور بحر سےآزاد نہیں ہوتی۔جبکہ معریٰ نظم میں مصرعوں کے ارکان کی تعداد ہمارے اپنے عروضی نظام کے مطابق برابر ہوتی ہے۔ مگر لازماً قافیے کی پابندی نہیں ہوتی۔آزاد نظموں میں ن م راشد، میرا جی کی نظمیں شامل ہیں۔ جبکہ معریٰ نظم کے لیے محمد حسین آزاد کی ”جغرافیہ کی پہیلی“ بطور مثال پیش کی جا سکتی ہے۔

ہ۔ دن کو نکلنے والے ستاروں کو کون کون سی خوبیاں بیان کی گئی ہے؟

جواب:۔ دن کو نکلنے والا ستارہ یعنی سورج روشنی کے ہتھیاروں سے مسلح ہوتا ہے۔سورج سارا دن بہادر سورما کی طرح آگے بڑھتا جاتا ہے اور تن تنہا ہی اپنی منزل مقصود کو پہنچ جاتا ہے۔

آزاد نظم:

اُردو شاعری میں جب موضوعات اور خیالات کی بھرمار ہوگئی تو شاعروں کو قافیہ اور ردیف کی پابندی سے اُلجھن ہونے لگی۔ مغربی ادب کے زیر اثر یہاں بھی جدید نظم کا رواج ہوا۔ ان میں آزاد نظم اور نظمِ معریٰ قابل ِذکر ہیں۔ آزاد نظم میں قافیہ اور ردیف سمیت وزن اور بحر کی پابندی نہیں ہوتی تاہم اشعار میں تسلسل، روانی اور موسیقیت ضروری ہے۔ آزاد نظم کی بنیاد ایک بحر پر ہوتی ہے لیکن اس بحر کے ارکان کی تقسیم شاعر کی صوابدید پر ہوتی ہے۔ کوئی مصرع بڑا اور کوئی چھوٹا ہوتا ہے اور بعض اوقات تو ایک مصرع بہت طویل ہوتا ہے۔ آزاد نظم میں ہیئت کے حوالے سے متعدد تجربات ہوئے ہیں ۔ آزاد نظم میں شعری آہنگ اور صوتی تاثر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔