سبق نمبر 3:فاقہ میں روزہ، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر 3
  • سبق : فاقہ میں روزہ
  • مصنف : خواجہ حسن نظامی
  • ماخوذ : بیگمات کے آنسو

تعارفِ مصنف :

خواجہ حسن نظامی کا پورا نام سید علی حسن نظامی تھا جب کہ علامہ اقبال نے انھیں خواجہ حسن نظامی کا نام دیا اور وہ اسی نام سے مقبول ہوئے۔ اُن کی ولادت دہلی سے تین میل دور بستی درگاه حضرت خواجہ نظام الدین اولیا میں ہوئی۔ ابھی خواجہ صاحب کی عمر صرف گیارہ برس تھی کہ ان کے سر سے ماں باپ کا سایہ اُٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اُن کی پرورش کی۔ خواجہ صاحب نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں تصوف کی حکمرانی تھی۔ اُنھوں نے مروجہ علوم کے ساتھ ساتھ تصولی کی تعلیم بھی حاصل کی۔

منشی غلام نظام الدین ( تاجر کتب دہلی) کے فیض صحبت سے اُن میں ادبی ذوق اور صحافتی میلان پیدا ہوا۔ انھوں نے پہلا مضمون انڈیا کی نازک حالت کے عنوان سے لکھا۔ پھر کچھ عرصے تک پیسہ ، وکیل اور مخزن نامی رسائل کے لیے لکھتے رہے۔ حلقہ نظام المشائخ کے مقاصد کی ترویج کے لیے 1911ء میں اُنھوں نے مصر ، شام فلسطین ، عرب اور دیگر اسلامی ممالک کا سفر کیا۔ 1919ء میں نظام المشائخ کے عنوان سے پہلا ماہنامہ رسالہ جاری کیا۔ انھوں نے مختلف اوقات میں چھوٹی بڑی کئی سو کتا ہیں اور رسالے تصنیف کیے۔

خواجہ صاحب کا تعلق ایک صوفی گھرانے سے تھا اس لیے ایک مقصد کو سامنے رکھ کر اُنھوں نے سادہ ، آسان اور عام فہم زبان میں تصوف کے اسرار و رموز کو عام لوگوں کے لیے لکھنا شروع کیا۔ اُنھوں نے ایسا دلکش طرز تحریر اور پیرایہ بیان اختیار کیا کہ خشک اور بے کیف اخلاقی اور روحانی مباحث تصوف اور فلسفے سے نکل کر ادب میں داخل ہو گئے۔

اُن کے مضامین کے مقبول ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انھوں نے سب سے الگ طرز اختیار کیا۔ جو کچھ لکھا سیدھے سادے اور عام پیرائے میں لکھا، عوام کے لیے لکھا اور ان موضوعات پر لکھا جن پر انسان کی طبیعت خود بخود مائل ہوتی ہے۔ انشا پردازی کے معاملے میں اُنھوں نے کسی کی تقلید نہیں کی۔ وہ انشا پردازی میں عربی اور سنسکرت کے ثقیل الفاظ استعمال کرنے کے خلاف تھے۔ وہ اپنی بات سادہ ، آسان اور عام فہم انداز میں کہتے تھے۔ اُنھوں نے اپنے گرد و نواح میں جو کچھ دیکھا من و عن بیان کیا، ان کے ہاں کہیں بھی تصنع اور بناوٹ نہیں ہے۔

تصانیف: بیگمات کے آنسو، سیپارہ دل، دہلی کی آخری شمع، بہادر شاہ کا روز نامچہ، دہلی کی سزا، سفر نامہ حجاز مصر و شام، جنگ بیتی کہانیاں، انگریزوں کی چتا، محرم نامه، طمانچه بررخسارِ یزید وغیره۔

مشق

سوال نمبر ایک: درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں۔

الف: مرزا سلیم والدہ کی باتوں سے کیوں آزردہ تھا ؟

جواب: مرزا سلیم کی والدہ نے انھیں رمضان میں گانے بجانے کی محفلیں بند کرنے کا کہا تھا۔ مرزا صاحب چونکہ گانوں کے شوقین تھے اس لیے وہ آزردہ تھے کہ باقی دن اب کیسے گزریں گے۔

ب: مغلیہ دور میں رمضان میں جامع مسجد میں کیا سماں ہوتا تھا؟

جواب: مغلیہ دور میں رمضان میں جامع مسجد میں بہار کا سا سماں ہوتا تھا۔ وہاں رنگ برنگ آدمی اور طرح طرح کے جمگھٹے دیکھنے میں آتے تھے۔

ج: ۱۸۵۷ء کے بعد رمضان میں اس مسجد کی کیا حالت تھی؟

جواب: ۱۸۵۷ء کے بعد رمضان میں اس مسجد کی یہ حالت تھی کہ جگہ جگہ چولہے موجود تھے۔ سپاہی روٹیاں پکارہے تھے۔ گھوڑوں کے دانے دلے جارہے تھے اور وہاں گھاس بھی موجود تھی اور وہ مسجد اصطبل نظر آرہی تھی۔

د: مرزا شہ زور کون تھے؟

جواب: مرزا شہ زور مرشا سلیم کے بھانجے تھے جو نوعمری میں اپنے ماموں کی صحبت میں بےتکلف مسجد کی محفلوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔

ہ: میواتیوں نے مرزا شہ زور کے خاندان سے کیسا برتاو کیا ؟

جواب: میواتیوں نے مرزا شہ زور کو سر چھپانے کی جگہ دی اور کھانے کو اناج دیا اور ان سے کہا تم ہمارے کھیت کی رکھوالی کرو اور تمھاری عورتیں ہمارے لوگوں کے کپڑے سی دیں تو ہم تمھیں جو اناج دیا کریں گے وہ تمھیں سال بھر کو کافی ہوا کرے گا۔

سوال نمبر دو: خالی جگہ پر کریں:

  • الف: مرزا سلیم رمضان میں گانے بجانے کی محفلیں سجاتے۔
  • ب: مصاحب کے کہنے پر مرزا سلیم مسجد جانے لگے۔
  • ج: مرزا شہ زور کی والدہ مرزا سلیم کی بہن تھی۔
  • د: انگریز ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو غدر کہتے ہیں۔
  • ہ: گوجروں نے مرزا شہ زور اور اُس کے خاندان کا سارا مال و اسباب لوٹ لیا۔
  • و: مغل خاندان چنگیز خان اور تیمور کی نسل سے تھا۔

سوال نمبر تین: درج ذیل رموز اوقاف کی وضاحت کریں:

رابطہ :

اس کا استعمال وہاں ہوتا ہے۔ جہاں وقفے سے زیادہ ٹھہرنا مقصود ہو۔

تفصیلیه :

یہ علامت تفصیل بیان یا تشریح کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ جہاں مثال، فہرست یا کوئی تفصیل بیان کرنی ہو۔ اس کا استعمال ہوتا ہے۔

قوسین :

یہ علامت جملہ معترضہ یا کسی چیز کی تشریح کے موقع پر استعمال ہوتی ہے۔ نیز عبارت میں ایسا جملہ یا بیان جس کا اصل مضمون سے تعلق نہ ہو۔ قوسین میں لکھا جاتا ہے۔

خط :

یہ علامت جملہ معترضہ سے پہلے اور آخر میں لگائی جاتی ہے۔ نیز مخذوف کلمات کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

سوال نمبر چار: اس سبق کا خلاصہ لکھیں۔

اس سبق کے آغاز میں مصنف نے اس دور کا ذکر کیا ہے جب دہلی زندہ تھی اور ہندوستان کا دل کہلانے کا حق رکھتی تھی۔ اس دور میں مرزا سلیم بہادر جو بہادر شاہ ظفر کے بھائی تھے وہ اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے اپنے دوستوں کے ساتھ بے تکلفانہ انداز میں باتیں کررہے تھے جب انھیں ان کی والدہ نے بلایا۔ جب وہ واپس آئے تو ان سے پوچھا گیا کہ والدہ نے کیوں بلایا تھا تو کہنے لگے کہ والدہ کو میری گانوں کی محفل پسند نہیں اور انھوں نے کہا ہے رمضان کے باقی دن یہ محفل نہ رکھی جائے۔

وہ اس بات سے اداس تھے کہ اب باقی دن کیسے گزریں گے۔ مصاحب نے عرض کیا کہ آپ افطار سے پہلے جامع مسجد آجایا کریں وہاں عجب بہار کا سماں ہوتا ہے۔ مرزا کو یہ بات پسند آئی اور اگلے روز وہ مسجد چلے گئے۔ وہاں کا ماحول انھیں پسند آیا۔ افطار کے وقت کا منظر بھی ان کے دل کو بھاگیا اور وہ روزانہ مسجد جانے لگے۔ مرزا سلیم کے ایک بھانجے مرزا شہ زور بھی ان کی صحبت میں مسجد جایا کرتے تھے۔ مرزا شہ زور بیان کرتے ہیں ایک وقت یہ تھا اور پھر دوسرا دور وہ دیکھا جب دہلی زیر و زبر ہوگیا۔

وہ کہتے ہیں مسلمانوں کی شان و شوکت اس وقت ختم ہوچکی تھی اور اس دوران ایک رمضان میرا جامع مسجد جانا ہوا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد رمضان میں اس مسجد کی یہ حالت تھی کے جگہ جگہ چولہے موجود تھے۔ سپاہی روٹیاں پکارہے تھے۔ گھوڑوں کے دانے دلے جارہے تھے اور وہاں گھاس بھی موجود تھی اور وہ مسجد اصطبل نظر آرہی تھی۔ اس کے بعد وہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کو مل گئی۔ اس کے بعد رمضان میں جانا ہوا تو چند مسلمان وہاں موجود تھے جو قرآن پڑھ رہے تھے لیکن پہلے سی رونق موجود نہ تھی۔

اس واقعہ کے بعد مصنف کہتے ہیں کہ مرزا شہ زور کے بیان میں درد تھا لہذا مصنف نے مرزا شہ زور سے غدر کا واقعہ بیان کرنے کا کہا۔ تب انھوں نے خود پر بیتے مظالم بتائے اور بتایا کہ میرے ساتھ میری والدہ تھیں۔ میری بیوی اور بہن بھی تھی۔ جب ہمیں بمشکل ایک گاؤں ملا ہم وہاں گئے تو میواتیوں نے مجھے سر چھپانے کی جگہ دی اور کھانے کو اناج دیا اور کہا تم ہمارے کھیت کی رکھوالی کرو اور تمھاری عورتیں ہمارے لوگوں کے کپڑے سی دیں تو ہم تمھیں جو اناج دیا کریں گے وہ تمھیں سال بھر کو کافی ہوا کرے گا۔ اس گاؤں میں مرزا شہ زور کی بیوی کی وفات ہوگئی۔ کچھ عرصہ وہیں رہنے کے بعد مرزا شہ زور اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ واپس آگئے۔ والدہ کا انتقال ہوگیا اور بہن کی انھوں نے شادی کردی۔ مرزا شہ زور کی حکومت نے ماہانہ پینشن مقرر کردی جس پر ان کا گزر بسر ہونے لگا۔