سبق نمبر 18: نظم جواب شکوہ، تشریح، سوالات و جوابات

0

تعارفِ شاعر:

شیخ محمد اقبال سیالکوٹ کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ روایات کے مطابق اقبال کی ابتدائی تعلیم دینی مدرسے میں ہوئی۔ انگریزی سکول سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور مرے کالج میں داخل ہو گئے۔یہاں انھیں مولوی سید میر حسن جیسا استاد میسر آیا۔ اقبال کو فارسی اور عربی کا صحیح ذوق انھیں کی بدولت حاصل ہوا۔ ایف اے کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے، وہاں بھی انھیں پروفیسر آرنلڈ جیسا شفیق استاد ملا۔ جن کی وجہ سے اقبال کی خفیہ صلاحیتیں بیدار ہوئیں۔

اسی کالج سے ایم اے کرنے کے بعد اُنھوں نے کچھ عرصہ یہاں تدریس کے فرائض انجام دیے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے اور وہاں بیرسٹری اور فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کیا۔ واپس آنے کے بعد اُنھوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ مگر اس پیشے سے طبیعت جلد اُچاٹ ہوگئی۔ علامہ اقبال نے کچھ عرصہ سیاست میں بھی دلچسپی لی۔ ایک مرتبہ جب مسلم لیگ کی صدارت کے لیے اُن کا نام تجویز ہوا، تو اُنھوں نے اپنی بجائے قائد اعظم محمد علی جناح کو اس منصب کا اہل قرار دیا۔ علامہ اقبال کا ایک اہم کارنامہ ۱۹۳۰ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں قیام پاکستان کی تجویز ہے۔ آخری عمر میں مختلف بیماریوں نے آن گھیرا اور وہ ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ کو خالق حقیقی سے جاملے۔

اقبال وہ ہستی ہیں، جن پر نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا فخر کرتی ہے۔ اُنھوں نے شاعری کا آغاز تو سکول کے زمانے سے کیا تھا، لیکن دورہ یورپ کے بعد صحیح معنوں میں اُن کے موضوعات کا تعین ہو گیا۔ اُنھوں نے تاریخ عالم کا مطالعہ کیا تھا، اس لیے وہ مسلمانوں کے زوال کے اسباب سے آگاہ تھے۔ اُنھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے حرکت و عمل کا پیغام دیا۔ اُن کا فلسفہ خودی اور تصور مرد مومن مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بن گیا۔ اُردو کے روایتی شعراء کے برعکس اقبال نے اُردو شاعری کو نئے موضوع، خیالات، اسلوب اور فلسفیانہ خیالات سے روشناس کرایا۔ اُن کا مشاہدہ بے حد قوی تھا۔

منظر نگاری پر پر ا اُنھیں عبورحاصل تھا۔ غرض اقبال کی شاعری روایت اور جدت کا بہترین امتزاج ہے۔ اپنی بے پناہ شاعرانہ خصوصیات کے باعث اُنھیں شاعر مشرق، حکیم الامت، اور نباض فطرت کہا جاتا ہے۔ اقبال کو عربی اور فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا اُنھوں نے اپنے کلام میں قرآنی آیات کا استعمال بڑی خوب صورتی سے کیا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کے کلام کا ایک بڑا حصہ فارسی زبان پر مشتمل ہے۔ اقبال کے آفاقی نظریات زیادہ تر اُن کے فارسی کلام میں موجود ہیں۔

تصانیف:بانگ درا، بال جبریل، ضرب کلیم، ارمغان حجاز، زبور عجم، جاوید نامہ، اسرار خودی، رموز بے خودی، پس چہ بائد کردہ اے اقوام شرق، مسافر، پیام مشرق، علم الاقتصاد (نثر) وغیرہ۔

نظم: جواب شکوہ کی تشریح

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قُدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اُٹھتی ہے، گردُوں پہ گزر رکھتی ہے
عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چِیر گیا نالۂ بے باک مرا

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ دل سے آہ یا فریاد نکلتی ہے جو درد اور سوز کے ساتھ بلند ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ کسی قسم کے پر نہیں لگتے ہوگے مگر وہ صدا اس قدر بلند ہوتی ہے کہ سیدھا عرش تک جاتی ہے۔اس کی تاثیر سے سارا عالم واقف ہو جاتا ہے۔ اس سچے عاشق کی صدا جب اٹھتی ہے تو وہ سارے عالم کو اپنے لپیٹے میں لے لیتی ہے، وہ صدا دنیا کے کسی کونے سے چھوٹے سے شہر سے ہی کیوں نہ اٹھے مگر اس کی رفتار اور مسافت دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ شاعر اس میں بتاتے ہیں کہ خدا کو مخاطب کرکے جس شکوہ اور نافرمانی کا ارتکاب میں نے کیا ہے وہ آسمان تک چلی گئی ہے۔ اس سے آسمان تک کانپ گیا ہے۔

پیرِ گردُوں نے کہا سُن کے، کہیں ہے کوئی
بولے سیّارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی
چاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رِضواں سمجھا
مجھے جنّت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ خلا میں موجود تمام مکینوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا شکوہ نہیں سنا تھا، ایسی فریاد ان تک کبھی بھی نہیں پہنچی تھی، جب دل سے پرسوز صدا نکل کر آسمان تک گئی تو سب حیران تھے۔ یہ کون ہے جو نعرہ مستانہ بلند کر کے خدا سے شکوہ کر رہا ہے۔ وہ آپس میں پوچھنے لگے ، اس صدا کو سن کر آسمان نے کہا کہ کہیں سے یہ نالہ بلند ہوا ہے مگر کہاں ہے، سیاروں نے اس کو جواب میں کہا شاید عرش سے یہ صدا بلند ہوئی ہے۔ جس پر چاند نے اپنا اندازہ بیان کرتے ہوئے کہا نہیں یہ صدا تو زمین سے کسی نے لگائی ہے۔ ان سب کی چہ مگوئیاں سن کر حضرت رضوان نے انکشاف کیا کہ یہ حضرت انسان کا نالہ ہے۔ جو آسمان تک آگیا ہے۔ کیونکہ حضرت رضوان جانتے ہیں یہ وہی حضرت انسان ہے جسے جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا تھا۔

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھُلتا نہیں یہ راز ہے کیا!
تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!
آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!
غافل آداب سے سُکّانِ زمیں کیسے ہیں
شوخ و گُستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ دل سے نکلی ہوئی وہ پرسوز آواز سن کر فرشتے بھی شش و پنج میں مبتلا تھے ۔ اور یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ یہ فریاد کس کی ہے جو عرش پر آکر پھیل گئی تھی۔ اس صدا نے عرش کے تمام مکینوں کے دلوں میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔انسان تو مٹی کا بنا ہوا ہے اس کی صدا جسے نہ کوئی پر لگے ہوئے ہیں نہ کوئی غیر معمولی طاقتیں ہیں پھر یہ فریاد آسمانوں کی تما م رکاوٹیں عبور کرتی ہوئی عرش تک کیسے پہنچی۔کیا انسان نے فرشتوں کی طرح پرواز کرنا سیکھ لیا ہے کیا؟ مسلسل چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بہت بے ادب اور گستاخ ہے، جسے عرش معلیٰ کے آداب بھی نہیں معلوم۔

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
تھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے!
عالِمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ میرے نالہ جو عرش تک پہنچے تھے ان پر اب تمام عرش کے مکین باتیں کر رہے ہیں۔ فرشتے آپس میں اس بات پر گفتگو کر رہے ہیں کہ یہ انسان کس قدر گستاخ اور بے باک ہے کہ خدا سے بھی ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ فرشتوں کو اس گستاخی پر تعجب ہو رہا ہے کہ کیا یہ وہی انسان ہے جسے فرشتوں کو خدا نے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ کیا یہ وہی خدا کی سب سے اعلیٰ تخلیق ہے جسے اشرف المخلوقات ہیں جس پر خدا کو اس قدر ناز تھا۔ انسان میں اس قدر شوخی اور مستی ہے، اس میں تو عاجزی اور انکساری کے مادے کا فقدان ہے۔ اس انسان کو خدا کے حضور آنے کے آداب تک معلوم نہیں۔ باتیں اچھالنے والے انسان کو تو خدا کے روبرو بات کرنے کا سلیقہ تک نہیں آتا۔

آئی آواز، غم انگیز ہے افسانہ ترا
اشکِ بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا
آسماں گیر ہُوا نعرۂ مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا
شُکر شکوے کو کِیا حُسنِ ادا سے تو نے
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ فرشتوں کی انسان بارے ابھی تک گفتگو جاری ہے کہ کیسے ایک ہیبت ناک آواز نے سب کو خاموش کر دیا ہے۔ فرشتوں نے انسان سے کہا کہ تمہاری کہانی بہت زیادہ درد و الم سے بھری ہوئی ہے، تمہاری صدا بھی اس قدر پراثر تھی کہ عرش بریں سے ٹکرائی۔ کس کرب سے تم نے اپنے دل کی بات کہی کہ وہ اس قدر اثر انداز ثابت ہوئی۔مگر تیرے نعرہ مسانہ میں گستاخی کا پہلو بھی واضح ہے، جس پر عرش والے بھی حیران ہیں۔ مگر تمہاری اسی شوخی نے خدا اور بندے کے مکالمے کی ہم راہ بھی کی ہے۔

ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دِکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ انسان کی اس صدا نےجہاں عرش بریں پر ہنگامہ برپا کیا ہے وہاں اس کا جواب بھی آنے لگ گیا ہے۔ خدا نے ان نالوں کو سن کر جواب دیا ہے کہ ہم تو انسان پر اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کرنا چاہتے ہیں مگر کوئی اس قابل ہی نہیں۔ ہم کس پر اپنے انعام و اکرام کریں مگر ہمارے بتائے راستے پر چلنے والے انسان ہی نہیں۔ انسان کو جس مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا تھا انسان اس کام سے غافل اور بھٹک گیا ہے یہ وہ انسان ہے ہی نہیں جسے خدا نے اشرف المخلوقات کہا تھا۔ جسے فرشتوں سے سجدہ کروایا تھا ۔ مگر انسان دنیا کے ہر قسم کے مکر و فریب میں مبتلا ہو چکا ہے ، اسے ہم کیا عطا کریں جبکہ وہ اس عطا کے قابل ہی نہیں۔

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
اُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ ہیں
بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیں
بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے
حَرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تُم بھی نئے

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ خدا نے انسان کے نالوں کے جواب میں انسان کو آئینہ دکھا دیا ہے، کہ آج کل کا مسلمان جس میں نہ قوت ہے نہ اس کی گفتگو میں وہ سوز و ساز ہے جس سے دنیا کی سلطنت الٹ جاتی تھیں۔ وہ خدا کی توحید کے لیے زمینوں اور صحراؤں میں اترتے تھے اور انھیں ہر میدان میں فتح ہوتی تھی۔ وہ توحید پرست جو بتوں کو پاش پاش کرتے جاتے تھے، اب تو مسلمان بت بنانے والے ہیں اور شراب و کباب کی محفلوں میں بیٹھنے والے ہیں۔ انسان نے آج خدا اور اس کے رسول ؐ کو پشت دکھا دی ہے جس وجہ سے تم زلت و رسوائی سے دو چار ہو۔ نئے دور نے مسلمانوں کو بدل دیا ہے اب ان کی للکار میں وہ توحید کی پہلی سی بات نہیں رہی۔

صفحۂ دہر سے باطل کو مِٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھُڑایا کس نے؟
میرے کعبے کو جبِینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قُرآن کو سِینوں سے لگایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ خدا نے انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بنائی اس کائنات پر کفر کے اندھیرے چھائے ہوئے تھےان اندھیروں کو کس نے ختم کیا؟ نادر و لاچار لوگوں پر سخت گیر بادشاہوں کا قبضہ تھا اس قبضہ سے انسانیت کو چھڑانے والے مجاہدین کون تھے؟ کعبے میں بت پرستی کی روایت تھی وہاں نماز پڑھنے اور اسے آباد کرنے والے مجاہدین کون تھے؟میرا کلام جسے انسانیت کے لیے ہدایت بنا کر بھیجا تھا اسے کس نے اپنے سینوں میں محفوظ کیا تھا وہ مجاہدین کون تھے؟ یہ تمہارے ہی اجداد تھے جنھوں نے دنیا میں انقلاب اور توحید کی شمع جلائی تھی، اور جدید دور کے مسلمان کیا ہیں ؟ تم لوگ تو محض بیٹھے ہو بغیر کسی مشقت کے کسی مسیحا کے آنے کا انتظار کررہے ہو۔

کیا کہا! بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حور
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور
مُسلم آئِیں ہُوا کافر تو مِلے حور و قصور
تم میں حُوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جلوۂ طُور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ خدا نے انسان کے شکوہ پر برہمی سے کہا ہے کہ تم کس منطق کے تحت یہ کہہ رہے ہو کہ کافر کو دنیا میں حؤریں دی گئی ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ حور کا صرف وعدہ کیا گیا ہے۔ اگر آج کافروں کے پاس حور ہے تو وہ ان کے ہاں انصاب اور قانون کی حکمرانی ہے جبکہ مسلمانوں کے ہاں اسلامی قوانین کو رائج ہونا چاہیے تھا، یہی وہ میراث تھی جو مسلمانوں کو اپنانا چاہیے تھا مگر یہ کافروں نے اپنا کر وعدہ حور کو حاصل کر لیا۔ خدا کہتا ہے کہ ہم آج بھی موسیٰؑ کی طرح اپنا دیدار انسانوں کو کرا سکتے ہیں بس تم موسیٰؑ کی طرح کامل الیمان بن جاؤ۔

تُو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مِٹ جانے سے
نشّۂ مے کو تعلّق نہیں پیمانے سے
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مِل گئے کعبے کو صنَم خانے سے
کشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تُو ہے
عصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ خدا نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ اے مسلمانوں تمہارا دین ایران کے ختم ہونے کے ساتھ ختم نہیں ہوگا۔ یہ دین کسی ایک شخص یا ملک کی ملکیت یا میراث نہیں ہے۔ بلکہ اگر خدا چاہے تو فاسق سے بھی دین کا کام لے سکتا ہے جیسے کہ اس نے لیا ہے۔ جیسے ہلاکو خان جیسا ظالم بادشاہ جب کعبہ اور دین خدا کو مٹانے کے ارادے سے آگے بڑھا تو اسی کے بھائی برکہ خان نے اسلام قبول کر کے اس کا راستہ روک دیا تھا۔ یہ دین کسی کی میراث نہیں اگر بت پرست بھی اس کی خدمت کرے گا تو اسے بھی نعمتیں ملیں گیں۔آج کی دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے، اور مسلمان اس میں دھندلا ستارہ، اگر مسلمان اپنے آپ کو تمام دنیا داری سے پاک کر لے تو یہ دنیا میں خضر راہ بن سکتا ہے۔

مثلِ بُو قید ہے غُنچے میں، پریشاں ہوجا
رخت بردوش ہوائے چَمنِستاں ہوجا
ہے تنک مایہ تو ذرّے سے بیاباں ہوجا
نغمۂ موج سے ہنگامۂ طُوفاں ہوجا!
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ جس طرح خؤشبو غنچے میں بند ہوتی ہے ۔ اس طرح تو بھی اپنے خول میں بند ہے۔ اس خول سے نکل کر منتشر ہو جاؤ۔ تمام عالم میں پھیل جاؤ، اور ہر ایک کونے کو معطر کر دو۔اپنا سامان سفر باندھ کر نکل جاؤ ۔ اپنے آپ کو بالکل کمتر نہ سمجھو بلکہ اپنی حیثیت کو پہچانو ۔ اپنے اندر توحید کی شمع کو روشن کرو اس طوفان سے تمہاری پہچان ابھر کر سامنے آئے گی۔ اگر دل میں عشق الہٰی اور عشق رسولؐ جاگ جائے تو انسان کہیں بھی پست نہیں ہوتا بلکہ اسے دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہی ملتی ہیں۔

ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے!
حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟
وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ عرش سے مسلمانوں کو جواب آیا ہے کہ تم لوگ تو سست اور کاہل ہو ۔ اسی سستی اور کاہلی نے تمہیں کام چور اور بیکار بنا دیا ہے۔ تم لوگ نام کے مسلمان رہ گئے ہو۔ تمہارا طور طریقہ اور وضع قطع تو مسلمانوں جیسا ہیں مگر تم میں دل سیدنا علی ؓ جیسا نہیں، وہ اس عجز و انکساری سے رہتے تھے، مگر ان کی بہادر اور شجاعت کی داستان سے دنیا واقف ہے، نہ تم میں سیدنا عثمانؓ جیسی سخاوت اور نرمی ہے۔تم نام کے مسلمان ہو تم میں تو مسلمانوں جیسی نہ عجز و انکساری ہے نہ سخاوت اور نرمی ہے تم لوگوں نے قرآن یعنی حکم الہیٰ کو چھوڑ دیا ہے ،اسی وجہ سے آج ذلت و رسوائی تمہارا مقدر بن کر رہ گیا ہے۔

عقل ہے تیری سِپَر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہاں‌گیر تری
ماسِوَی اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تُو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

تشریح:

درج بالا مسدس علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”شکوہ ،جواب شکوہ“سے اخذ ہے، اس میں شاعر علامہ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ عرش بریں سے مسلمانوں کو مخاطب کیا گا ہے کہ اگر دنیا میں کامیابی اور کامرانی چاہتے ہو۔ اگر تمہاری منشا ہے کہ دنیا میں سرخرو ہو تو اپنی عقل کو استعمال کرو اسے اپنا ہتھیار بناؤ، نئی ایجادات کرو اور دنیا میں اپنے خیالات سے حکومت کرو۔ اپنی ذات میں درویشی صفات پیدا کرو اور خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ رکھو۔ اپنی حیثیت کو اجاگر کرو اور اپنی تدبیروں میں پیغمبر اسلامﷺ سے رہنمائی لو۔ اگر تم نے حضورﷺ کی راہ پر چل کر ان کی رہنمائی میں زندگی بسر کی تو دنیا کی تمام نعمتیں تو کیا آخرت کی تمام جنتیں ہی تمہاری ہوں گی۔

مشق

سوال نمبر ایک: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:

(الف): علامہ اقبال کی یہ نظم کس ہیئت میں لکھی گئی ہے؟

جواب: علامہ اقبال کی یہ نظم ”جواب شکوہ“ مسدس کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔

(ب): ”شکوہ“ سن کر فرشتوں نے کن خیالات کا اظہار کیا؟

جواب:شکوہ سن کر فرشتوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ مٹی کا انسان کس قدر گستاخ اور بے ادب ہے کہ جسے بارگاہ الہیٰ میں آنے کے آداب بھی نہیں آتے۔

(ج): اس نظم میں موجودہ دور کے مسلمانوں کی کن کمزوریوں اور خامیوں کا ذکرہے ؟

جواب: اس نظم میں موجودہ دور کے مسلمانوں کی کاہلی، بے توکلی اور ایمان کی کمزوری کا جیسی خامیوں کا ذکر ہے۔

(د): اس نظم سے ایسے مصرعے چن کر لکھیں جن میں صنعت تلمیح کا استعمال ہو۔

  • جواب: (1)کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
  • ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
  • (2) حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے
  • تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟

(ہ): اس نظم کا نام ”جواب شکوہ“ کیوں رکھا گیا ہے؟

جواب: علامہ اقبال کی نظم ”شکوہ“ جس میں انسان کا خدا کے حضور شکوہ ہے، اسی نظم کا اگلا حصہ کہ جس میں خدا نے انسانوں کو شکوہ کا جواب دیا ہے اس کا نام ”جواب شکوہ“ رکھا گیا ہے۔

(و): ”بت بھی نئے“ کی تشریح کریں۔

جواب:”بت بھی نئے“ کا مطلب ہے کہ آج کل کے دور میں مسلمانوں نے ایک خدا کو چھوڑ کر مادہ پرستی کو اپنے لیے بت بنا لیا ہےاور دن رات اسی کی عبادت کرتے رہتے ہیں۔

(ز): آخری بند میں کس چیز کو مسلمان کی شمشیر کہا گیا ہے؟

جواب: آخری بند میں توحید اور عشق الہیٰ کو مسلمانوں کی شمشیر کہا گیا ہے۔

(ح): امتی نبی کریم ﷺ کی رسوائی کا کیسے باعث بنتے ہیں؟

جواب:مسلمان بے دینی کی طرف مائل ہیں اور اسلام کے احکامات سے باغی ہیں۔ یہ نام کے مسلمان ہیں اور پیغمبرﷺ کے بتائے راستے سے منکر ہیں اسی وجہ سے یہ روز محشر آپﷺ کے لیے باعث رسوائی بنیں گے۔

(ط): نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے کا کیا انعام ہے؟

جواب:نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے کا انعام دونوں جہانوں کی سرخروہی ہے، انسان کو لوح و قلم سے اپنی تقدیر خود لکھنے کا انعام ملتا ہے۔

(ی): دنیا میں کس کے نام کی برکت سے روشنی کی تلقین کی گئی ہے؟

جواب:اللہ تعالیٰ نے تمام جہاں والوں کی ہدایت کے لیے آخری رسول محمدﷺ کو نور بنا کربھیجا ہے۔

سوال نمبر دو: درج ذیل پر اعراب لگائیں:

مُنۡفِعَتۡ، مُصۡلِحَتۡ، رَمَضَان، اَسۡرَارۡ، سِپَرۡ۔

سوال نمبر تین:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

کلام میں دو چیزوں کا ذکر کرکے دونوں کے درمیان فرق بتانے کی صنعت تفریق کہتے ہیں۔ اس نظم میں کم از کم تین ایسے اشعار تلاش کر کے لکھیں جن میں صنعت تفریق موجود ہو۔

  • (1)مثلِ بُو قید ہے غُنچے میں، پریشاں ہوجا
  • رخت بردوش ہوائے چَمنِستاں ہوجا
  • (2) تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
  • ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!
  • (3) بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
  • تھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیں

سوال نمبر چار: درست لفظ چن کر خالی جگہ پر کریں:

  • ۱: ”جواب شکوہ“ دراصل اقبال کی ایک اور نظم شکوہ کا جواب ہے۔ (ساقی نامہ، خضر راہ، شکوہ، طلوع اسلام)
  • ب: آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ تیرا۔ (افسانہ، پیمانہ، دیوانہ، مے خانہ)
  • ج: قدسی الأصل ہے رفعت یہ نظر رکھتی ہے (دولت، ثروت، رفعت، قدرت)
  • د: بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو (انسانوں، نادانوں، دیوانوں، حیوانوں۔)

سوال نمبر پانچ: اس نظم میں کم از کم دس ہم قافیہ الفاظ چن کر لکھیں۔

جواب: 1)نظر، گذر، 2) چالاک، بیباک، 3)رضوان، انسان ، 4)تگ و تاز، پرواز ،5) قابل، گل،
6)خوگر ،پیغمبر ، 7)بسایا، لگایا، 8)چھڑایا، لگایا ، 9)دستور، قصور ، 10)منایا، چھڑایا ۔

سوال نمبر چھ: اس نظم میں جو فارسی تراکیب استعمال ہوئی ہیں ان میں سے کم از کم دس تراکیب لکھیں۔

جواب: 1)لوح و علم، 2) دولت عثمانی، 3)نغمہ موج، 4)عصر نو،5) یورش تاتار،
6)جلوہ طور، 7)حورو قصور، 8)شان کئی، 9)شوخ و گستاخ، 10)اہل زمین۔