سبق نمبر 19: نظم بڑھے چلو، تشریح، سوالات و جوابات

0

تعارفِ شاعر:

اختر شیرانی کا اصل نام محمد داؤد خاں تھا اور اخترؔ تخلص کرتے تھے ۔ وہ مشہور عالم محقق ، ماہر تعلیم اور نقاد حافظ محمود شیرانی کے بیٹے تھے۔ اخترؔ شیرانی ریاست ٹونک میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ٹونک سے لاہور منتقل ہو گئے۔ انھوں نے لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ اورینٹل کالج لاہور سے منشی فاضل اور ادیب فاضل کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مختلف ادبی رسائل سے وابستہ رہے۔

اخترؔ نے کم عمری سے ہی شعر کہنے شروع کیے۔ اُن کی طبیعت میں شوخی اور رنگینی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ انھیں مناظرِ قدرت سے گہری دلچسپی تھی۔ وہ اپنے دور کے ایک اہم رومانی شاعر تھے، لیکن اُن کی رومانیت سے جذبات کو منہا نہیں کیا جاسکتا۔ اچھی شاعری میں جس طرح کی تہہ داری ہوتی ہے، وہ اُن کے ہاں نظر نہیں آتی، لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت شاعر ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زد عام ہیں۔

اُن کی شاعری کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اُن کے ہاں عورت کوئی ماورائی چیز نہیں بلکہ عام انسان ہے اور اُس کے رویوں میں کوئی غیر فطری عناصر نہیں ہیں۔ اُن کے نزدیک شاعر شاعری ایک ایسا جذبہ ہے جو عاشقانہ تنہائیوں کی پیدا وار ہے۔ اختر ایک باشعور فنکار ہیں، اُنھوں نے سے مروجہ اسالیب سے گریز کرتے ہوئے ہیئت کے مختلف تجربے کیے ہیں۔
مجموعۂ کلام: کلیات اختر شیرانی

نظم: بڑھے چلو تشریح

رکو نہیں، جو دشت و ریگزار آئیں سامنے
ہٹو نہیں، جو بحر و کوہسار آئیں سامنے
بچو نہیں جو سیل و جوئے بار آئے سامنے
ہو راہ کتنی ہی کٹھن بڑھے چلو، بڑھے چلو
دلاورانِ تیغ زن بڑھے چلو، بڑھے چلو
بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو، بڑھے چلو

تشریح:

درج بالا مسدس اختر شیرانی کی مشہور زمانہ نظم ”بڑھے چلو “سے اخذ ہے، اس میں شاعر اختر شیرانی قوم کے نوجوانوں اور سپاہیوں کو پکار کر کہتے ہیں کہ اے دین و ملت کے مجاہدوں، وطن کی خاطر میدان عمل میں اترو، اس کی حفاظت کے لیے سنگلاخ چٹاں، بیابانوں اور ریگستانوں کی رکاوٹوں سے نہ گھبراؤ، ان سب مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بڑھتے چلو۔ تمہارا راستہ نہ تو کوئی سمندر روک سکے نہ ہی کوئی پہاڑ یا دریا، تم اسےجذبے سے پاش پاش کرکے آگے بڑھو۔دشمنوں کو کسی طور بھی خود پر حاوی نہ ہونے دو تمام رکاوٹیں عبور کرو اور بڑھتے چلو۔

تمہاری تیغ تیز پر وطن کو افتخار ہے
تمہیں ہو جن کے دل میں اس کا عشق بے قرار ہے
وطن کی مرگ و زیست کا تمہیں پہ انحصار ہے
لگاے دل میں اک لگن بڑھے چلو، بڑھے چلو
دلاورانِ تیغ زن بڑھے چلو، بڑھے چلو
بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو، بڑھے چلو

تشریح:

درج بالا مسدس اختر شیرانی کی مشہور زمانہ نظم ”بڑھے چلو “سے اخذ ہے، اس میں شاعر اختر شیرانی جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری تیز تلواروں اور جدید ہتھیاروں پر قوم و ملت کو فخر ہے۔ قوم و ملت کے تم ستارےہو تمہارے ہی جذبوں سے وطن عزیز میں امن امان کی صورتحال ہے۔تمہارے دلوں میں ملت کے لیے عشق اور بے قراری کی جو کیفیت ہے ہر فرد کو اسی کا آسرا ہے۔ دل میں یہی شمع اپنی جلائے رہو اور وطن کے لیے مر مٹنے کا جذبہ لیے آگے بڑھو۔ اے شمشیر زنوں آگے بڑھو اور میدان فتح کرو، مخالفین کی صفوں کو الٹ کر دو۔

اٹھاؤ تیغ بے اماں، وطن کے پاک نام پر
نثار کر دو اپنی جاں، وطن کے پاک نام پر
لٹا دو عمرِ نوجواں، وطن کے پاک نام پر
صدائیں دیتا ہے وطن بڑھے چلو
دلاورانِ تیغ زن بڑھے چلو، بڑھے چلو
بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو، بڑھے چلو

تشریح:

درج بالا مسدس اختر شیرانی کی مشہور زمانہ نظم ”بڑھے چلو “سے اخذ ہے، اس میں شاعر اختر شیرانی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی وہی شمشیریں اٹھا لو جن سے دشمنوں کے دل سہمے ہوئے ہیں، وطن عزیز کی حفاظت کے لیے اس شمشیر کی کاری ضربیں لگاؤ۔ اپنے اس جذبہ حب الوطنی کے لیے اپنی عمر کی بازی کھیل جاؤ تاکہ تم امر ہو جاؤ۔ اپنی قوم و مٹی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر دو کیونکہ یہی اس وقت تمہاری حب الوطنی کا امتحان ہے کہ وطن کی بقا کے لیے نوجوانوں کی شہادتیں چاہیں۔ تلوار چلاتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کو تہہ تیغ کر دو۔

سپاہیانہ زندگی جو قسمتِ سعید ہے
جبا تو فخرِ قوم ہے، مرا تو وہ شہید ہے
تو رزم گہ کی موت بھی سپاہیانہ عید ہے
سروں سے باندھ کر کفن بڑھے چلو، بڑھے چلو
دلاورانِ تیغ زن بڑھے چلو، بڑھے چلو
بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو، بڑھے چلو

تشریح:

درج بالا مسدس اختر شیرانی کی مشہور زمانہ نظم ”بڑھے چلو “سے اخذ ہے، اس میں شاعر اختر شیرانی نوجواں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ سپاہیانہ زندگی تو زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے۔ اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھا جائے۔ کیونکہ جس روز وہ میدان عمل میں اتر کر شہید ہو جاتا ہے، وہ دن اس کے لیے عید کا دن ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر وہ میدان جنگ سے زندہ لوٹ آئے تو وہ قوم کے لیے غازی اور ہیرو کا درجہ رکھنے لگتا ہے۔ قوم پر بھر پور فخر کرتی ہے۔ جبکہ اس کی شہادت اسے امر کر دیتی ہے اسے وطن کے جھنڈے میں لپیٹ کر عزت سے نوازا جاتا ہے۔ اے شمشیر زنوں تلوار چلاؤ اور صفوں کو تہس نہس کردو۔

مشق

سوال نمبر ایک: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:

(الف): وطن کے نام پر کن چیزوں کو قربان کر دینے کی تلقین کی گئی ہے؟

جواب:وطن کے نام پر شاعر اختر شیرانی نے نوجوانوں کو اپنی جانوں کے نذرانےبے دریغ پیش کرنےکی تلقین کی ہے۔

(ب): اس نظم کا مرکزی خیال تحریر کریں؟

جواب:نظم ”بڑھے چلو“ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ قربانی اور حب الوطنی کے جذبے کے بغیر وطن کی ترقی ناممکن ہے۔

(ج): پہلے بند میں کن کن مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی نصیحت کی گئی ہے؟

جواب: شاعر اختر شیرانی کہتے ہیں کہ ، کہ دشت وریگستان، طوفانی دریا، سمندر اور پہاڑ بھی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے حائل ہوں تو ان کو بھی عبور کرتے ہوئے آگے بڑھ جاؤ۔

(د): وطن کی ترقی و تنزلی کا انحصار کس چیز پر بیان کیا گیا ہے؟

جواب:وطن کی ترقی و تنزلی اس کے نوجوانوں کے قربانی کے جذبے پر ہے انحصار کرتی ہے۔

(ہ): ”سروں پر کفن باندھے“ سے کیا مراد ہے؟

جواب:سر پر کفن باندھے سے مراد ہے وہ مجاہد جو میدان جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے جائیں۔

سوال نمبر دو:مندرجہ ذیل مرکبات کا مفہوم واضح کریں:

سیل و جوئبار: طوفانی دریا
مرگ و زیست:موت و حیات
تیغ بے اماں:وہ شمشیر جس سے کوئی دشمن نہ بچ سکے
قسمتِ سعید:خوش قسمتی
فخرِ قوم: قومی ہیرو
تیغ زن:شمشیر سے لڑنے والا مجاہد
رزم گاہ:میدان جنگ
صف شکن:دشمن کے لشکر کو تتر بتتر کرنیوالا مجاہد

سوال نمبر تین:درج ذیل الفاظ پر اعراب لگا کر تلفظ واضح کریں۔

صَفۡ شِکَنۡ۔ کَفَنۡ۔ رَزَمۡ۔ دَشۡت۔ بَحَرۡ۔ دِلَاوَرۡ۔ اِفۡتِخَارۡ۔ بَہَادَرۡ۔

سوال نمبر چار:نظم کے مطابق درست جملوں کے سامنے (✓)کا غلط کے سامنے (✗) کا نشان لگائیں:

  • ا: گل و گلزار بھی راستے میں آئیں تو بڑھے چلو۔ (✗)
  • ب: دلوں میں ایک جذبہ پیدا کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔ (✓)
  • ج: بہادر لوگوں کو بزدلوں کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ (✗)
  • د: وطن کے پاک نام پر اپنی جان بھی قربان کر دینی چاہیے۔ (✓)
  • ہ: میدانِ جنگ کی موت بھی سپاہی کے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ (✓)
  • و: وطن پکار رہا ہے کہ آگے بڑھے چلو۔ (✓)
  • ز:امیر لوگوں کو غریبوں کی مدد کرنی چاہیے۔ (✗)

مسدس ترجیح بند:

مسدس کے ہر بند کا تیسرا شعر اگر من و عن دہرایا جائے تو اسے ٹیپ کا شعر اور ایسی مسدس کو مسدس ترجیح بند کہتے ہیں۔ ”نظم بڑھے چلو“ بھی مسدس ترجیح بند کی مثال ہے۔