Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر :5
- سبق : شہرت عام اور بقائے دوام کا دربار
- مصنف : مولانا محمد حسین آزاد
- ماخوذ : نیرنگِ خیال
تعارفِ مصنف :
محمد حسین آزاد دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولوی محمد باقر تھا، جو ایک جید عالم اور مجتہد تھے۔ ان کے والد کے شیخ محمد ابراہیم ذوق سے دوستانہ مراسم تھے، اس لیے آزاد نے ذوق کی زیر نگرانی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں دہلی کالج میں داخل ہو کر عربی و فارسی کی تحصیل کی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کی شہادت اور گھر کی تباہی کے بعد انھیں دہلی چھوڑنی پڑی۔ مختلف علاقوں میں قیام کیا۔
سات سال بعد لاہور آئے اور بڑی مشکل سے محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے۔ یہاں انھوں نے عربی اور فارسی میں کچھ درسی کتب لکھیں، جو بہت مقبول ہوئیں۔ لاہور میں انجمن پنجاب کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ آزاد کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں شمس العلما کا خطاب ملا۔ اپنی ایک جوان اور چہیتی بیٹی کے انتقال سے انھیں بے حد صدمہ پہنچا اور وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ تاہم اس دوران میں جب بھی افاقہ ہوتا تو تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھتے۔
آزاد عربی اور فارسی کے بہت بڑے عالم تھے۔ وہ سنسکرت اور ہندی زبان و ادب کی خوبیوں سے بھی آشنا تھے۔ وہ اُردو اور دیگر مشرقی زبانوں کے بڑے محقق اور ماہر تھے۔ اُن کا شاہکار آب حیات اُردو زبان کی پہلی تاریخی اور تنقیدی و تحقیقی کتاب ہے۔ آزاد کی انشا پردازی بے مثل ہے، وہ ایک ایسے طرز کے بانی تھے، جس کا خاتمہ انھیں کے ساتھ ہوا۔ اس طرز سے انھوں نے تمثیلی اور تخیلی مضامین میں خوب کام لیا۔
تصانیف: نیرنگ خیال، سخن دان فارس، دربار اکبری، نگارستان، آب حیات وغیرہ
مشق
سوال نمبر ایک: درج ذیل جملے کس شاعر یا ادیب کے بارے میں کہے گئے؟
الف: کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا مگر سب واہ واہ اور سبحان اللہ کرتے رہ گئے۔
جواب: مرزا اسد اللہ خان غالب
ب: اپنی سحر بیانی سے پرستان کی تصویر کھنچتے تھے۔
جواب: میر حسن
ج: اس کے قلم نے ایک جہان سے لڑائی باندھ رکھی ہے۔
جواب: مولانا محمد حسین آزاد
د: لیکن چار خاکسار اور پانچواں فاصلہ تاجداران کے ساتھ تھے۔
جواب: میر امن دہلوی
ہ: ایک لکھنو کے بانکے پیچھے پیچھے گالیاں دیتے تھے۔
جواب: رجب علی بیگ سرور
سوال نمبر دو: درج ذیل جملے کن بادشاہان یا مشاہیر کے بارے میں ہیں؟
الف: جس کے کپڑوں میں لہو کی بو آئے، وہ قصاب ہے۔
جواب: چنگیز خان
ب: اِس سرے سے اُس سرے تک ایک گردش کی اور چلے گئے۔
جواب: حافظ شیرازی
ج: رنگ زرد تھا اور شرم سے سر جھکائے تھا۔
جواب: بادشاہ دارا
د: قیافہ روشن اور چہرہ فرحت روحانی سے شگفتہ نظر آتا تھا۔
جواب: سقراط
ہ: ہندوستان کے بہت سے گراں بہا زیور اس کے ہاتھ میں تھے۔
جواب: محمود غزنوی
سوال نمبر تین: درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں۔
الف: مصنف نے بقائے دوام کی کتنی قسمیں بتائی ہیں؟ وضاحت کریں۔
جواب: مصنف نے بقائے دوام کی دو قسمیں بتائی ہیں۔ ایک جس میں روح مرنے کے بعد بھی رہ جائے گی اور اس کے لیے فنا نہیں ، دوسری عالم یادگار کی بقاء جس کی بدولت لوگ نام کی عمر سے جیتے ہیں اور شہرت دوام کی عمر پاتے ہیں۔
ب: خوبصورت عورتیں در حقیقت کون تھیں؟
جواب: خوبصورت عورتیں درحقیقت نہ پری زاد عورتیں تھیں اور نہ ہی پریاں تھیں۔ بلکہ وہ غفلت پرست اور عیاش پسند لوگوں کی غلط فہمی تھی۔
ج: ایرانی شعرا کو دربار میں کیوں نہیں آنے دیا گیا؟
جواب: ایرانی شعرا کو دربار میں اس لیے نہیں آنے دیا گیا کیونکہ انھوں نے غیر حقیقی چیزوں کی مصوری کی تھی جس میں کوئی قطعیت نہیں تھی۔
د: سلطنت میں میراث نہیں چلتی سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس سے مراد یہ ہے کہ سلطنت تلوار اور زور بازو کی بنیاد پر ملتی ہے یعنی جس میں سلطنت سنبھالنے کی طاقت ہو اسے ہی سلطنت ملتی ہے اور جس کے پاس اتنی طاقت نہ ہو اسے سلطنت نہیں ملتی ہے۔
ہ: شیخ سعدی کیا کہتے ہوئے باہر چلے گئے؟
جواب: انھوں نے کہا کہ یہ دنیا دیکھنے کے لیے برتنے کے لیے نہیں۔ی
سوال نمبر چار: روزمرہ کے مطابق خالی جگہ پر کریں۔
- الف: خواب میں دیکھتا ہوں کہ گویا ہوا پر چلا جاتا ہوں۔
- ب: خود بخود پچھلی محنتوں کے غبار دل سے نکل جاتے ہیں۔
- ج: اُس نے صلاح دی کہ نقاب چہرے پر ڈالو۔
- د: جرات کو کوئی خاطر میں نہ لاتا تھا۔
- ہ: اس کیلئے بھی تکراروں کا غل ہوتا تھا۔
سوال: درج ذیل الفاظ کو الفبائی ترتیب سے لکھیں اور معنی بھی واضح کریں۔
| جاہ و جلال: | شان و شوکت |
| گروه کثیر: | بہت بڑی جماعت |
| اولوالعزم: | بلند ارادوں والا |
| قیل و قال: | بحث و مباحثہ |
| بلا تامل: | بےسوچے سمجھے |
| عالی وقار: | بلند مرتبے والا |
سوال: اپنے کسی دلچسپ خواب کا حال بیان کریں۔
جواب: میں نے ایک روز خواب میں دیکھا کہ میں ایک گھر سے باہر نکلی ہوں اور روتی جارہی ہوں۔ اس گھر سے نکل کر بےمقصد چلتے چلتے میں کچھ لوگوں سے ملی اور ان ہی میں سے ایک لڑکی جو مجھے نہیں جانتی تھی اس نے مجھے دلاسہ دیا اور مجھے خاموش کروایا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ مجھے اپنے خواب یاد نہیں رہتے لیکن مجھے اپنا یہ خواب من و عن یاد تھا اور صبح اٹھ کر مجھے یاد آیا رات کو سوتے ہوئے میں بہت زیادہ اداس تھی اور شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اشارہ تھا کہ اس نے اس دنیا میں اگر اداسی رکھی ہے تو اس اداسی کا حل بھی موجود ہے۔