سبق نمبر 7: افسانہ منظور، خلاصہ، سوالات و جوابات

0

تعارفِ مصنف:

سعادت حسن منٹو موضع سمبرالا (لدھیانہ) میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام خواجہ غلام حسن تھا۔ منٹو کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ منٹو کا تعلیمی ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہ تھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اُردو میں اکثر فیل ہوتے تھے۔ منٹو کو زمانہ طالب علمی سے ہی ادب سے دلچسپی تھی۔ اُنھوں نے ادبی زندگی کا آغاز غیر ملکی کہانیوں کے تراجم سے کیا لیکن جلد ہی وہ حقیقی کہانیاں لکھنے لگے۔ اس کے علاوہ ریڈیو اور فلموں کے لیے کہانیاں لکھ کر پیسے کماتے رہے۔

قیام پاکستان کے بعد وہ بمبئی سے لاہور منتقل ہو گئے ۔ منٹو کی آخری عمر بڑی کسمپرسی کی حالت میں گزری۔ منٹو اردو ادب کا ایک اہم اور متنازعہ افسانہ نگار ہے۔ نقاد انھیں ترقی پسند کہتے ہیں لیکن ترقی پسند انھیں قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ وہ انسانی زندگی اور اس کی نفسیات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ انھوں نے کھردری حقیقت کو بے رحمی سے موضوع بنایا اور قارئین کو چونکایا۔ وہ ایک حساس طبع اور باریک مشاہدے کا فنکار تھا۔ منٹو کی تصانیف اور تخلیقات مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں۔
تصانيف: آتش پارے، منٹو کے افسانے، دھواں، لذتِ سنگ، چغد، ٹھنڈا گوشت، یزید، نمرود کی خدائی، بادشاہت کا خاتمہ وغیرہ۔

مشق

سوال نمبر 1: خالی جگہ پر کریں۔

  • الف: اُس کے دل کی رفتار ٹھیک تھی۔
  • ب: مریض کو دل کا عارضہ ہے جسے کرونری تھرومبوس کہتے ہیں۔
  • ج: وہ ہوش میں تھا اور اپنے گرد و پیش کا جائزہ لے سکتا تھا۔
  • د: اس نے نیم مندی ہوئی ہوئی آنکھوں سے منظور کی طرف دیکھا۔
  • ہ: منظور کی ذات اُس کی نظر میں مسیحا کا درجہ رکھتی تھی۔

سوال نمبر دو: درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں۔

الف: اختر کو کسی حالت میں ہسپتال لایا گیا؟

جواب: اختر کو جب ہسپتال لایا گیا تو اس کی حالت بہت خراب تھی۔

ب: منظور کی بیماری کی وجہ کیا تھی؟

جواب: منظور کی بیماری کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک شام کھیل کر گھر آیا تو ٹھنڈے پانی سے نہا لیا جس کی وجہ سے اس جا نچلا دھڑ فالج زدہ ہوگیا۔

ج: منظور ہسپتال سے گھر کیوں نہیں جانا چاہتا تھا؟

جواب: منظور ہسپتال سے گھر اس لیے نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ وہاں وہ اکیلا ہوتا اور اس سے باتیں کرنے والا کوئی نہ ہوتا۔

د: اختر کے خیال میں اُس کے صحت مند ہونے کی کیا وجہ تھی؟

جواب: اختر کے خیال میں اس کے صحت مند ہونے کی وجہ منظور کی دعائیں تھیں۔

ہ: ہسپتال کے اہلکاروں کا منظور سے کیسا رویہ تھا؟

جواب: ہسپتال کے تمام لوگ منظور سے بہت محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔

سوال نمبر 3: منظور کے کردار پر ایک پیراگراف لکھیں۔

جواب: منظور ایک نو عمر لڑکا تھا جو ہسپتال میں موجود نرسوں، مریضوں، جمعداروں اور ڈاکٹروں سب سے باتیں کرتا تھا اور سب اس کے دوست تھے۔ اس کا نچلا دھڑ فالج زدہ تھا لیکن اس بیماری نے اسے مایوس نہیں کیا تھا بلکہ وہ بہت خوش اخلاق تھا۔ سب اس سے محبت کرتے تھے اور اس پر ترس کھاتے تھے۔ منظور سب کے لیے دعا کرتا تھا اور اسے امید تھی وہ خود بھی ٹھیک ہوجائے گا لیکن جب ڈاکٹرز نے منظور کے والدین کو کہا کہ اسے گھر لے جائیں اس کی بیماری لاعلاج ہے تو منظور گھر جانے سے قبل ہسپتال میں ہی مرگیا۔

سوال نمبر 4: اس افسانے کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔

جواب: اس سبق کے آغاز میں افسانے کا ایک کردار اختر انتہائی ناساز حالت میں ہسپتال لایا جاتا ہے۔ اسے دل کا مرض لاحق ہوتا ہے اور نرس کا خیال ہوتا ہے یہ مریض صبح تک بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔ لیکن اختر زندہ بچ جاتا ہے اور جب اس کی حالت کچھ بہتر ہوتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کے اس ہسپتال میں اس کے برابر والے بیڈ پر ایک بچہ موجود ہے جس کا نام منظور ہے۔

منظور ایک نو عمر لڑکا تھا جو ہسپتال میں موجود نرسوں، مریضوں، جمعداروں اور ڈاکٹروں سب سے باتیں کرتا تھا اور سب اس کے دوست تھے۔ اس کا نچلا دھڑ فالج زدہ تھا لیکن اس بیماری نے اسے مایوس نہیں کیا تھا بلکہ وہ بہت خوش اخلاق تھا۔ سب اس سے محبت کرتے تھے اور اس پر ترس کھاتے تھے۔ منظور سب کے لیے دعا کرتا تھا اور اسے امید تھی وہ خود بھی ٹھیک ہوجائے گا لیکن جب ڈاکٹرز نے منظور کے والدین کو کہا کہ اسے گھر لے جائیں اس کی بیماری لاعلاج ہے تو منظور گھر جانے سے قبل ہسپتال میں ہی مرگیا۔

منظور جب اختر کو دیکھتا ہے تو اسے سلام کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے آپ کے لیے دعا کی تھی اور مجھے یقین تھا آپ بچ جاؤ گے۔ اختر کو بھی یہی لگتا ہے کہ وہ منظور کی وجہ سے ہی زندگی کی جانب واپس آرہا ہے۔ منظور کی بیماری کے عرصے میں اختر کو کئی بار دل کا دورہ پڑتا ہے لیکن وہ پہلے کی طرح شدید نہیں ہوتا ہے اور اختر بہادری سے اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ لیکن جس روز منظور مرجاتا ہے اس دن اختر کو لگتا ہے اب اس کا دل بھی شاید بند ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوتا اور اس دن اسے مکمل صحتیاب قرار دے کر ہسپتال سے ڈس چارج کردیا جاتا ہے۔

سوال نمبر 5: اس افسانے سے کم از کم ایسے پانچ جملوں کا انتخاب کریں جن میں امدادی افعال کا استعمال ہو۔

  • جواب: بیچارہ صبح ساڑھے پانچ بجے مرگیا۔
  • پھر ٹونے ٹوٹکوں کا سہارہ لیا۔
  • اپنے دوستوں سے کھیلا کرنا۔
  • اسکول جایا کرنا۔
  • لڑکے کا چہرہ اور زیادہ ٹمٹما اٹھا۔

سوال نمبر 6: اعراب لگائیں

مَفْلُوْج، مُعْجِزَه، مُعَیَّنْ، مَسِیْحَاء، مَرِیْض، مَرَضْ، مَانِنْد۔

سوال نمبر 7: سرکاری ہسپتال میں داخل کسی مریض کی آپ بیتی لکھیں۔

آپ بیتی: میرا نام سمینہ ہے۔ میرا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے میرے ہاتھ کی ہڈی بالکل چور چور ہو گئی تھی۔ تب میں ایک سرکاری ہسپتال گئی اور وہاں مجھے فوری طور پر ایڈمٹ کیا گیا۔ پھر اس ہسپتال کے عملے نے ماہر سرجن کو بلایا اور انہوں نے میری حالت دیکھتے ہوئے میری سرجری کی ڈیٹ دی۔ اس ہسپتال کے عملے نے فوری طور پر میرا علاج کیا اور ایک ماہ کے اندر اندر مجھے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور بہت جلد میری ریکوری بھی ہو گئی۔ جتنا وقت میں ہسپتال میں رہی عملے نے بہت اچھے طریقے سے نا صرف میرا خیال رکھا بلکہ وہ سب مجھ سے بہت خوش اخلاقی سے پیش ائے۔

سوال نمبر 8: درج ذیل پیرا گراف میں مناسب مقامات پر رموز اوقاف لگائیں۔

دور حاضر میں بجلی ایک خادمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ گھروں، کارخانوں اور دفتروں میں ہر جگہ یہ ہماری روز مرہ زندگی کا لازمہ ہے۔ بٹن دبایا پنکھا چل پڑا، روشنی ہوگئی، ہیٹر جل اُٹھا، ائیر کنڈیشن نے کمرہ ٹھنڈا کر دیا، ریفریجریٹر میں ہر چیز یخ بستہ ہو گئی، کھانا تیار ہے، کپڑے دھل گئے، استری ہو گئی، لفٹ نے آپ کو سیکڑوں فٹ بلندی پر پہنچا دیا، غرض سوئیچ دباتے ہی سب کچھ آن کی آن میں ہو جاتا ہے۔

سوال نمبر 9: سبق کے مطابق جو جملوں کے سامنے درست یا غلط کا نشان لگائیں۔

  • الف: اختر کے بدن پر رعشہ طاری تھا۔ درست
  • ب: اختر اور منظور ہم عمر تھے۔ غلط
  • ج: اختر کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ غلط
  • د: منظور صحت یاب ہو کر گھر چلا گیا۔ غلط
  • ہ: منظور کی چار پائی پر ایک نحیف و نزار بوڑھا پڑا تھا۔ درست
  • و: کامیاب علاج نے ہی اختر کی بیماری ختم کی۔ غلط

سوال نمبر 10: تقریبا چار سو الفاظ پر مشتمل افسانہ لکھیں جس کا عنوان ایثار و قربانی ہو۔

ناصر میرا دوست تھا۔ میری اور اس کی دوستی مثال تھی۔ جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ ایک دن ہم نے اسلام آباد کی سیر کا پروگرام بنایا۔ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔ کافی سوچ و بچار کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ نہر کے کنارے سرکاری درختوں کو رات کے وقت کاٹ کر فروخت کر دیں گے۔ اور سیر کیلئے پیسے جمع کریں گے۔ چنانچہ ہم نے رات کو پانچ درخت کاٹے اور راتوں رات انھیں ٹھکانے لگا دیا۔ لیکن میری بد قسمتی یہ ہوئی کہ جائے وقوعہ پر میری جیب سے ایک خالی پاکٹ بک گر گئی تھی۔ جو صبح محکمہ انہار کے اہلکاروں نے جائے وقوعدہ سے حاصل کر کے قبضے میں لے لی۔

اس میں میرا نام پتہ اور دیگر حساب کتاب اور یادداشتیں درج تھیں۔ چنانچہ میرے خلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ میری پہلی پیشی ہوئی۔ لیکن میں نے عدالت میں صاف انکار کر دیا۔ لیکن جو ثبوت عدالت کے پاس موجود تھا۔ اس سے میں انکار نہیں کر سکتا تھا۔ مقدمہ چلتا رہا اور میرا دوست ہر مرتبہ میرے ساتھ موجود ہوتا تھا۔ لیکن اس پر کوئی دعوی نہیں تھا۔

اس دوران میرے والدین نے میرے لئے ایک لڑکی کا رشتہ مانگا۔ جو طے ہو گیا اور میرے منگنی کا دن مقرر ہوا منگنی سے ایک دن پہلے میرے ایک اور دوست نے آسکر مجھے بتایا کہ ناصر اس رشتے سے ناخوش ہے۔ کیونکہ اس لڑکی کا رشتہ دو مہینے پہلے ناصر کے لیے مانگا گیا تھا اور لڑکی کے والدین نے انکار کر دیا تھا۔ ناصر نے مطالبہ کیا تھا کہ میں اس لڑکی کے ساتھ شادی نہ کروں۔ یہ اس کی عزت کا سوال ہے۔ لیکن بہت سوچ و بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ اب میری اور میرے والدین کی عزت کا بھی سوال ہے۔

چنانچہ منگنی ہوگئی اور ناصر اب مجھ سے کترانے لگے۔ نہ مجھ سے ملتا نہ بات کرتا یہاں تک کہ گاؤں کے لوگ بھی ہم دونوں کی عداوت محسوس کر رہے تھے۔ چند مہینے بعد میری شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ اتفاق سے شادی سے دو دن پہلے میرے مقدمے کی آخری تاریخ تھی۔ جس میں فیصلہ ہونے والا تھا۔ مضبوط ثبوت کی وجہ سے سب کا خیال تھا کہ مجھے جیل بھیج دیا جائے گا۔

جب میں عدالت میں داخل ہوا تو ناصر عدالت میں موجود تھا کاروائی شروع ہوئی تو ناصر نے اُٹھ کر درختوں کی چوری کا اعتراف کر لیا اور مجھے بے گناہ ثابت کیا۔ اسے ہتھکڑیاں لگا کر جیل بھیج دیا گیا۔ ناصر نے جیل جا کر مجھے شادی کا تحفہ دیا تھا ناصر نے عدالت کو بتایا کہ میرا پاکٹ بک اس رات ناصر کی جکب میں تھا۔ اس دن میں بوجھل قدموں سے عدالت سے باہر آیا۔ ناصر کو جیل جاتے دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو نکلے کیونکہ اس نے میری خوشوں کے لئے یہ قربانی دی تھی۔