سبق نمبر 2: سقراط، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر دو
  • سبق : سقراط
  • مصنف : مہدی افادی
  • ماخوذ : افاداتِ مہدی

تعارفِ مصنف :

مہدی افادی کا اصل نام مہدی حسن تھا۔ وہ گورکھپور کے ایک شریف اور معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حاجی علی حسن تھا۔ مہدی افادی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ چنانچہ گھر پر ہی عربی ، فارسی اور اُردو کی اچھی خاصی استعداد بہم پہنچائی۔ پھر ایک انگریزی سکول میں داخل ہوئے۔ کچھ مدت علی گڑھ میں بھی زیر تعلیم رہے۔ اُنھوں نے عملی زندگی کا آغاز نائب تحصیلداری سے کیا۔ مہدی افادی ایک نفیس انسان تھے ، ان کا ادبی ذوق بھی نہایت پاکیزہ تھا۔ اپنے زمانے کے عظیم اہل قلم اور ادیبوں سے ان کے ذاتی مراسم تھے جن میں سرسید، حالی، شبلی، سید سلیمان ندوی اور عبد الماجد دریابادی وغیرہ شامل ہیں۔ مہدی افادی کا انتقال ۴۶ برس کی عمر میں ہوا۔

مہدی افادی کے مضامین کا ایک مجموعہ “افاداتِ مہدی کے نام سے اُن کی اہلیہ نے ان کی وفات کے بعد ترتیب دے کر شائع کیا۔ اُن کی تحریر کی سب سے بڑی خصوصیت زندہ دلی اور ظرافت ہے۔ اُن کی تحریر کلفتہ اور رواں ہے۔ اُنھوں نے خشک اور سنجیدہ مضامین کو بھی اپنی طبعی شکفتگی سے دلچسپ اور جاذب نظر بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے دلکش اسلوب بیان اور جمالیاتی نقطہ نظر کی بدولت مقبولیت حاصل کی۔ اُردو ادب میں انھیں رومانی تحریک کے محرکین میں شمار کیا جاتا ہے۔
تصنیف: افادات مہدی۔

مشق

سوال نمبر ایک: مختصر جواب تحریر کریں۔

الف: سقراط کے مخالفین نے ان پر کیا الزامات لگائے؟

جواب : سقراط کے مخالفین نے اس پر الزامات عائد کئے کہ وہ نوجوانوں کے اخلاق کو خراب کرتا ہے۔ اور لڑکوں کو سکھاتا ہے کہ اپنے والدین کی اطاعت سے انحراف کریں۔ اسی بِنا پر عدالت نے سقراط کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔

ب: سقراط کے لیے کیا سزا تجویز کی گئی؟

جواب: سقراط کو جیل میں زہر کا پیالہ بطورِ سزا دیا گیا۔

ج: سقراط کو فوج میں کیوں بھرتی ہونا پڑا؟

جواب: سقراط کو ملکی آئین کی وجہ سے اوائل عمر میں فوج میں بھرتی ہونا پڑا۔

د: سقراط کے شاگردوں کے نام لکھیں۔

جواب: سقراط کے شاگردوں کے نام افلاطون اور ذنوفن ہے۔

ہ: سقراط کی تعلیمات کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔

جواب: سقراط کی تعلیمات یہ تھیں کہ آج کو کسی اور آنے والے وقت کی امید پر زیادہ کردینا غلطی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتساب علم کے لیے کسی خاص عمر کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق کتب بینی ایک عیش ہے۔ وہ جاہلوں کو رحم کے قابل سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں بڑے ظرف والے لوگ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ رکھتے ہیں۔ غیبت کرنے والوں کو وہ شریف نہیں سمجھتے تھے۔

و: سقراط نے کتنے برس کی عمر پائی؟

جواب: سقراط نے 71 سال کی عمر پائی۔

سوال نمبر دو: خالی جگہ مناسب الفاظ سے پر کریں۔

الف: سقراط کا باپ ایک سنگ تراش تھا۔

ب: سقراط کے نزدیک کسی چیز کا پس انداز کرنا ایک فضول کام ہے۔

ج: داروغہ جیل نے سقراط کو باھاگ جانے کی ترغیب دی۔

د: سقراط کی طبیعت نے تیزی کے ساتھ فلسفہ کا اثر قبول کیا۔

ہ: سقراط ایک جاہل شخص کو واجب الرحم سمجھتا تھا۔

سوال نمبر تین: اس مضمون کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔

خلاصہ :

اس سبق میں مصنف نے سقراط کی زندگی کے متعلق چیدہ چیدہ معلومات دی ہیں جہاں وہ بتاتے ہیں سقراط ملکی آئین کی وجہ سے اوائل عمر میں فوج میں بھرتی ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے فلسفہ کی تعلیم دینا شروع کردی جب سقراط کے مخالفین نے اس پر الزامات عائد کئے کہ وہ نوجوانوں کے اخلاق کو خراب کرتا ہے۔ اور لڑکوں کو سکھاتا ہے کہ اپنے والدین کی اطاعت سے انحراف کریں۔ اسی بِنا پر عدالت نے سقراط کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ وہاں کے جیلر نے اور تمام لوگوں نے انھیں وہاں بھاگنے کا مشورہ دیا لیکن سقراط نے موت سے بھاگنے سے انکار کردیا اور زہر کا پیالہ جو انھیں بطورِ سزا دیا گیا وہ پی کر موت کو گلے لگا لیا۔ ان کی موت کے بعد ان کے مخالفین کو بہت پریشانی کا سامنا ہوا اور سقراط کے شاگردوں نے ان کے اقوال کو مرتب کیا۔ ان کا انتقال ۷۱ برس کی عمر میں ہوا۔ ان کی چند تعلیمات یہ تھیں

آج کو کسی اور آنے والے وقت کی امید پر زیادہ کردینا غلطی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اکتساب علم کے لیے کسی خاص عمر کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کے مطابق کتب بینی ایک عیش ہے۔
وہ جاہلوں کو رحم کے قابل سمجھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں بڑے ظرف والے لوگ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ رکھتے ہیں۔
غیبت کرنے والوں کو وہ شریف نہیں سمجھتے تھے۔

سوال نمبر چار: درج ذیل الفاظ درست اعراب کے ساتھ لکھیں۔

جَمَادَات، پِیُروِیُ، رَشَکُ و حَسَد، اِسْتِقْلَالْ، ذِلَّتْ

سوال نمبر پانچ: تحریک پاکستان کے کسی رہنما کی زندگی اور خدمات پر ایک مفصل مضمون لکھیں۔

جواب : قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے مسلمانوں کے عظیم محسن ہیں اس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی۔ قائد اعظم 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے میٹرک کا امتحان مشن ہائی سکول کراچی سے پاس کیا۔ اور قانون کی تعلیم کیلئے انگلستان چلے گئے۔ آپ 1894 کو وطن واپس آگئے۔ اور کراچی میں وکالت شروع کی۔ پھر وہ بمبئی چلے گئے۔ لیکن وہاں بھی وکالت نہ چل سکی۔ اور سرکاری ملازمت اختیار کی۔ لیکن ملازمت بھی راس نہ آئی ۔ اور استغفی دے دیا۔ آپ نے کبھی جھوٹا مقدمہ نہیں لڑا۔

آپ نے زندگی میں ایک مقدمہ بھی نہیں ہارا۔ قائدا عظم نے 1913 ء میں مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کر لی۔ اور بیک وقت دونوں جماعتوں کے رکن بن گئے۔ عدم تعاون کی تحریک کے دوران چند اصولی اختلافات پر وہ کانگریس سے الگ ہو گئے۔ اور مسلم لیگ کے سازشی اور بنیاد پرست عناصر کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر انگلستان چلے گئے۔ 1934ء میں علامہ اقبال اور کچھ مخلص مسلمانوں کے مشورے سے وطن واپس آگئے۔ اور مسلم لیگ کے صدر بنا دئے گئے۔

23 مارچ 1940 ء کو منٹو پارک لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قائد اعظم کے زیر صدارت ایک قرارداد منظور کی گئی۔ جسے بعد میں قرار داد پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد قائد اعظم نے مسلمانان ہند کیلئے ایک الگ وطن بنانے کے سلسلے میں اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ اور کانگریس کی مخالفت کے باوجود انگریزوں سے ایک آزاد اور مختار وطن کا مطالبہ منوالیا۔ اور آخر کار 14 اگست 1947ء کو قائد اعظم کی ان تھک کوششوں سے پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر آیا۔ وہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس نے پاکستان کیلئے دن رات کام کیا۔ جس کی وجہ سے ان کے تپ دقی کے مرض میں اضافہ ہو گیا۔ اور کام کی زیادتی نے بالاخر ان کی جان لے لی۔ وہ 11 دسمبر 1948ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔

سوال نمبر چھ: درج بالا رموز اوقاف کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم پانچ جملے لکھیں۔

الف: “خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔”
“ہمیشہ خوش رہنا چاہیے۔”
تم کہاں ہو؟
کیا تم کل آؤ گے؟
سنو! ادھر آؤ۔
رکو! وہاں خطرہ ہے۔

سوال نمبر سات: دیے گئے مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بتائیے کہ مصنف نے کس حد تک سقراط کی شخصیت اور کارہائے نمایاں کا ذکر کرتے ہوئے قارئین کو متاثر کیا ہے؟

جواب: مصنف مہدی آفادی نے اگرچہ ایک بہت ہی مختصر مضمون میں سقراط کی زندگی اور کارہائے نمایاں کا احاطہ کیا ہے۔ لیکن مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اتنا جامع ہے۔ کہ سقراط کی پوری زندگی اور نظریات و خیالات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے۔ مصنف نے سقراط کی ابتدائی زندگی اس کی سنگتراشی اور فوجی خدمات کا بھی اجمالی خاکہ پیش کیا ہے۔ اور اس کی فلسفیانہ موشگافیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کے خیالات اور نظریات کو بھی مختصر اور جامع الفاظ میں بیان کیا ہے۔ جس سے قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ سقراط کی نظریات جو ہم اس مضمون سے اخذ کر سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور اسے آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہیے وہ بچوں پر والدین کی بے جا بندیوں کے بھی خلاف ہیں۔ اور حکومت وقت کے بعض قوانین کا بھی مخالف ہے۔