Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: ۱۵
- سبق: طائر لاہوتی
- مصنف: فارغ بخاری
- ماخوذ:
تعارفِ مصنف:
سید میراکبر شاہ بخاری پشاور میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے اُن کی طبیعت میں جولانی تھی۔ وہ صرف تیرہ سال کی عمر میں ”نوجوان بھارت سبھا“ میں شامل ہو گئے ، جس نے تحریک آزادی میں متشددانہ کردار ادا کیا۔ تحریک آزادی اور قیام پاکستان کے بعد جمہوریت اور اظہار آزادی کے لیے جد وجہد میں بار ہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
وہ بنیادی طور پر ایک سکالر اور شاعر تھے۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیوں میں سے تھے۔ اُنھوں نے رضا ہمدانی کے ساتھ مل کر ماہنامہ ”سنگِ میل“ کا اجرا کیا۔ ان دونوں نے پشتو زبان و ادب و ثقافت سے متعلق بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں ادبیات سرحد، پشتو لوک گیت، سرحد کے لوک شاعر، پشتو شاعری اور پشتو نثر شامل ہیں۔ زیر و بم ، شیشے کے پیراہن، خوشبو کا سفر، پیاسے ہاتھ، غزلیہ، اور بچھڑا ساول اُن کی شاعری کے مجموعے ہیں۔ اُنھیں ۱۹۹۵ء میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
تصانیف: باچا خان، البم، برات عاشقان(نثر)۔
مشق
سوال نمبر ایک: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:
(الف): مصنف نے ضیاؔ جعفری کو بوڑھے برگد سے کیوں تشبیہ دی؟
جواب: مصنف نے ضیاؔ جعفری کو بوڑھے برگد سے اس لیے تشبیہ دی کہ ضیاءؔ صاحب کا بڑا پن تمام دوستوں اور شاگردوں کیلئے ،سایہ دار برگد کے مثل تھا ۔
(ب): ضیاؔ جعفری کا گھر کہاں واقع تھا؟
جواب:ضیاء جعفری کا گھر گور گٹھڑی کے قریب واقع تھا۔
(ج): دائرہ ادبیہ میں کون کون شامل تھے؟
جواب:دائرہ ادیبہ کے بانی ضیاء جعفری اور عبدالودود قمر تھے جبکہ جگر کاظمی اور خالص مکی بھی سرپرست تھے نیز محمود سرحدی، نذیر مرزا برلاس، مسعود أنور شفقی، خاطر غزنوی، احمد فراز، محسن احسان، مظہر گیلانی، فرید عرش مجید شاہد، شیخ ثناء اللہ، عاجز اور مضمر تاتاری شامل ہیں۔
(د): عبدالودود قمرؔ کون تھے؟
جواب: عبدالودود قمرؔ شاعر اور ادیب تھے اور دائرہ ادیبہ کے منتظم اعلیٰ بھی تھے۔
(ہ): قمرؔ صاحب دائرہ کے أصول و ضوابط کیسے برقرار رکھتے تھے؟
جواب: قمر صاحب دائرہ کے أصول و ضوابط پر سختی سے عمل کرتے تھے، وہ اپنی زیر تربیت شاگردوں پر اصولوں کی پابندی کراتے تھے۔وہ اٹھنے بیٹھنے، بات کرنے اور پڑھنے کے آداب بھی سکھلاتے تھے۔
(و) شاعروں کے بارے میں مصنف کے کیا جذبات تھے؟
جواب:جگر کاظمی اور خالص مکی دائرہ ادیبہ کے سرپرست اور اردو فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔مصنف ان دونوں اشخاص کی پیشہ وارانہ قابیت کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان دونوں کا آپس میں علمی مباحثہ مقابلہ بھی ہوتا ہے، جگر صاحب اپنے آپ کو بڑا شاعر جبکہ خالص مکی اپنے آپ کو سینیئر سمجھتے تھے۔
سوال نمبر دو: خالی جگہ پر کریں:
- الف: ضیاء جعفری ایسے دریا تھے۔ جنھیں سمندر میں بھی بند کرنا محال تھا۔
- ب: محفل اسی کی طلسمی خوشبو سے مہکنے لگتی۔
- ج: جب میں ہوش سنبھالا تو پتہ چلا کہ یہ دونوں حضرات مشہور شاعر ہیں۔
- د: ضیاء جعفری روشن خیال اور وسیع المشرب تھے۔
- ہ: ضیاء اور قمر کی دوستی سارے شہر میں ضرب المثل تھی۔
- و:درحقیقت مجھے قلم پکڑنا قمر صاحب نے ہی سکھایا۔
- ذ:سنجیدہ گفتگو میں بھی ان کی رگ ظرافت پھڑک اٹھتی۔
سوال نمبر تین:درج ذیل الفاظ پر اعراب لگائیں اور الفبائی ترتیب سے لکھیں۔
تَلۡخ کَلَامِیۡ، جَاذِبِیَّتۡ، مَقَالَاتۡ، مُشَاعِرَہ ،نَظۡمُ و ضَبَطۡ۔
سوال نمبر چار: درج ذیل جملوں میں مناسب مقامات پر رموزِ اوقاف لگائیں۔
- الف: عمران خان نے (جو پاکستان کا نامور فرزند ہے )کینسر ہسپتال بنایا۔
- ب: جھیل سیف الملوک تک (جو سارا پہاڑی علاقہ ہے )سفر آسان نہیں ہے۔
- ج: سنو !کیا تم میری مدد کرو گے۔
- د: ماشاء اللہ !کتنی ذہین بچی ہے۔
- ہ: بچے بولے، ماموں جان آگئے۔
سوال نمبر پانچ: درج ذیل جملوں کو قواعد کے مطابق درست کریں۔
- ۱: اور شاعر کا نام بھی لکھیں۔
- ۲: ہمارا گھر شہر میں واقع ہے۔
- ۳:بزرگوں کی بات غور سے سنو۔
- ۴: تم کب واپس آؤ گے۔
- ۵: تم نے کیوں شور مچایا ہے۔
- ۶: میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں۔
سوال نمبر ۶: اس سبق میں سے محاورات کی نشان دہی کریں:۔
جواب: محاورات سبق:
گھل ملنا، منہ تکنا، چار چاند لگانا، فقرہ کسنا، پیچ و تاب کھانا، جان چھڑکنا، پارہ چڑھ جانا ،پھلنا پھولنا، کسر اٹھا نہ رکھنا ۔