سبق نمبر 12: کنڈکٹر، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر: 12
  • سبق: کنڈکٹر
  • مصنف: الطاف فاطمہ
  • ماخوذ:

تعارفِ مصنف:

فاطمہ لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان سمیت لاہور میں مستقل رہائش اختیار کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے بی ایڈ کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہو گئیں۔ اسلامیہ کالج برائے خواتین اور اپوا گرلز کالج میں اردو ادب پڑھاتی رہیں۔ وہ ملازمت سے ریٹائر ہو چکی ہیں اور آج کل لاہور ہی میں مقیم ہیں۔

لاہور اور رہائش اور زندگی کا ایک طوریل عرصہ گزارنے کے باوجود وہ ہر طرح کی ادبی مجالس، اداروں اور تحریکوں سے لاتعلق رہیں۔ ان کے افسانے حقیقت کے ترجمان ہیں انھوں نے مشرقی عورت کی نفسیات کی ترجمانی کی ہے۔ انھوں نے عام معاشرتی مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔ اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتی ہیں۔
تصانیف: نشان محفل، دستک نہ دو، چلتا مسافر (ناول) وہ جسے چاہا گیا، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، تارعنکبوت (افسانے)۔

مشق

سوال نمبر ایک: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:

(الف): لالو کے بارے میں ماسٹر صاحب کیا کہتے تھے؟

جواب: لالو کے بارے میں ماسٹر صاحب کہتے تھے کہ وہ پڑھ نہیں سکتا، وہ بہن بھائیوں کی نوکری کرے گا اور گھاس کھودے گا۔

(ب): لالو گھر سے غائب ہو کر کہاں جاتا تھا؟

جواب:لالو گھر سے غائب ہو کر مسلم لیگ کے جلسوں میں شرکت کرتا تھا۔وہ آزادی کی تحریک میں سرگرم تھا اور جلسوں میں ”لے کے رہیں گے پاکستان“ اور قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگاتا تھا۔

(ج): ماسٹر صاحب لالواور اس کے بھائی کو کہاں سے پکڑ کر لائے تھے؟

جواب:ماسٹر صاحب لالو اور اس کے بھائی کو مسلم لیگ کے جلسے سے پکڑ کر لائے تھے۔ وہ دونوں لیاقت علی خان کے جلوس میں نعرے لگا رہے تھے۔

(د): قیام پاکستان کے بعد لالو نے اپنی زندگی کیسے گزاری؟

جواب: قیامت پاکستان کے بعد لالو نے اپنی زندگی ایک بس میں کنڈکٹر کے طور پر گزاری۔ پھر معلوم ہوا کہ ایک اسکول ٹیچر سے شادی کر لی اور کالج میں داخلہ لے لیاہے۔

(ہ): لالو کی سرگرمیوں پر لالو کے والد نے کن خیالات کا اظہار کیا؟

جواب:لالو کی سرگرمیوں پر لالو کے والد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ ہم لالو کو نہیں روک سکتے۔ آزادی کی جو لہر چلی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے اور یہ فطری جذبہ ہے۔

(و): لارڈ ماؤنٹ بیٹن کون تھے؟

جواب: لارڈ ماؤنٹ بیٹن تاج برطانیہ کی طرف سے ہندوستان کے آخری وائسرائے تھے۔

سوال نمبر دو: خالی جگہ پر کریں۔

  • الف: اب تو اس نے کراچی میں کوئی بزنس جمالی ہے۔
  • ب: لالو کے خدوخال پر حماقت کی گہری چھاپ نمایاں تھی۔
  • ج: ہم لوگ اپنی برتری جتانے کیلئے لالو کا مذاق اڑاتے۔
  • د: ان نعروں اور جلوسوں میں عجیب سی کشش تھی۔
  • ہ: اب وہ دیوانہ وار مسلم لیگ کے دفتر جاتا۔

سوال نمبر تین: درج ذیل جملوں کی وضاصت کریں:

ا: اب ہم پلاسی اور سرنگاپٹم کے میدانوں میں اپنی شکست کے أسباب ڈھونڈ رہے تھے۔

جواب: کنڈکٹر کی مصنفہ الطاف فاطمہ کہتی ہیں کہ لالو پاکستان کی آزادی کے لیے دن رات کوشش کرتا رہا تھا۔ وہ نظریاتی طور پر اور عملی طور پر اس تحریک میں شامل تھا۔ وہ عملی طور پر مسلم لیگ کے رہنماؤں کے ساتھ آزادی کی جدوجہد کر رہا تھا جبکہ ہم لوگ پلاسی میں سراج الدولہ اور سرنگاپٹم میں سلطان ٹیپو کی شکست پر غور و فکر کر رہے تھے۔ اس لیے لالو کو ہم پر برتری حاصل تھی۔

ب: اب ہم کس کس کو روکیں گے؟ یہ تو وقت کی آواز ہے، زبان خلق ہے۔

جواب:جب لالو کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر لالو کی ماں نے لالو کے والد سے شکایت کی تو لالو کے والد نے جواب دیا کہ آزادی حاصل کرنا اور اس کے لیے جدوجہد کرنا یہ وقت کا تقاضا ہے۔ یہی زبان خلق ہے۔میں کیسے لالو اور اس کے بھائی کو روک سکتا ہوں کیونکہ آزادی کی فضا میں کسی کو روکنا ہمارے بس کی بات نہیں۔

ج: کسے خبر تھی کہ وہ انتظار کر رہا ہے۔

جواب: لالو نے اپنی منزل حاصل کر لی تھی، وہ اکثر کسی گہری سوچ میں ڈوبا رہتا۔ وہ نیم وا آنکھوں سے نیلے آسمان کو دیکھتا رہتا ہمارا خیال تھا کہ وہ بیکاری سے تنگ آگیا تھا۔ مگر ہمارا خیال غلط تھا، وہ انتظار کر رہا تھا۔ اسے پاکستان بننے کا انتظار تھا۔

سوال نمبر چار: لالو اپنی تعلیم اور امتحانوں کو چھوڑ کر جلسے جلوسوں میں شریک ہوتا۔ کیا اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا کر اسی کا یوں جلسے جلوسوں میں جانا درست تھا؟

جواب: لالو کا جلسے جلوسوں میں شرکت کرنا درست تھا۔ کیونکہ یہ آزادی کے تحریک تھی اور یہ کوئی عام جلسے نہیں تھے۔ غلام ملک میں لالو پڑھ بھی لیتا تو اس کی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لالو آزادی کی اہمیت جانتا تھا اس لیے اس نے اپنی تعلیم اور امتحان کی پروانہ کرتے ہوئے آزادی کی تحریک میں شمولیت اختیار ی تھی۔

سوال نمبر پانچ: استدراکی اور سببی جملوں کی تمام اقسام کی دو دو مثالیں لکھیں:

جواب: استدارکی جملوں میں دو جملوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ ایسے جملوں میں بلکہ، لیکن، مگر ،اور ،پر وغیرہ استعمال کئے جاتے ہیں۔

استدراکی جملوں کی چند مثالیں:

  • پر: وہ میرا ہم جماعت ہے پر دوست نہیں۔
  • پر: وہ حاکم ضرور ہے پر بآختیار نہیں۔
  • اور: یہ منہ اور مسور کی دال۔
  • اور: تنا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کتنا احمق
  • مگر: مشال نے میٹرک پاس کیا مگر جمال ابھی تک پانچویں جماعت میں ہے۔
  • مگر: میں آپ کی مدد ضرور کرتا مگر میں آج کل تنگ دست ہوں۔

سببی جملے:

  • سببی جملوں میں دوسرا جملہ پہلے جملے کی وجہ سبب یا نتیجے کو ظاہر کرتا ہے۔ ان جملوں سے پہلے کیوں کہ، اس لئے، لہذا اور اس واسطے وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے۔
  • اس لئے: اس نے میرے ساتھ حسن سلوک سے کام لیا اس لئے میں اس کی عزت کرتا ہوں۔
  • اس لئے: وہ بہت بدتمیز ہے اس لئے میں اس سے زیادہ بات چیت نہیں کرتا۔
  • کیوں کہ: مجھے اس کی بات کا یقین ہے کیوں کہ وہ سچا ہے۔
  • اس واسطے: میں نے اس واسطے اسے اپنے گھر میں جگہ دی۔

سوال نمبر چھ: درج ذیل جملوں میں معاون افعال کی نشان دہی کریں:

  • الف: ابرار معاشرے میں اپنا وقار کھو بیٹھا۔
  • ب: ہجوم میں تو میرا دم گھٹنے لگا تھا۔
  • ج: کاش تم میچ جیت سکو۔
  • د: تمام طلبہ یک زبان ہو کر بول اٹھے۔
  • ہ: تھانیدار ملزم پر برس پڑا۔