سبق نمبر 10: سیاہ فام، خلاصہ، سوالات و جوابات

0

تعارفِ مصنف:

شوکت حسین صدیقی لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ ہائی اسکول لکھنؤ سے میٹرک پاس کیا اور اس کے بعد ایم- اے تک پرائیوٹ تعلیم حاصل کی۔ قیامت پاکستان کے بعد لاہور آئے اور پھر کراچی میں رہائش اختیار کی۔ انھوں نے عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ وہ ترکش، جدید ادب، فیض آباد، ٹائمز آف کراچی، مارننگ نیوز اور الفتح وغیرہ سے منسلک رہے۔

شوکت صدیقی ابتدا ہی سے ادبی ذوق کےمالک تھے۔ انھوں نے ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا۔ ان کے افسانوں کے پہلے مجموعے نے ان کے مستقبل کی نشاندہی کر دی۔ وہ بیک وقت ایک افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور کالم نویس تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ”تمغہ حسن کار کردگی“ اور ”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ “ عطا کیا گیا۔

شوکت صدیقی نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی۔ وہ اردو کے فکری اور فنی ارتقا کے سلسلے میں ایک اہم نام ہیں۔ ان کے ناول ”خدا کی بستی“ پر انھیں آدم جی ایوارڈ ملا۔ شوکت صدیقی کی کامیابی کا راز ان کی حقیقت نگاری ہے۔ وہ معاشرے کے تلخ حقائق اور مسائل کو اپنی تحریروں کا موضوع بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کردار نگاری بھی قابل ذکر ہے۔ یہ کردار زندۂ جاوید اور ہمارے ارد گرد معاشرے میں موجود ہیں۔ شوکت صدیقی اپنے افسانوں اور ناولوں میں نہایت سادہ سلجھی ہوئی اور عام فہم زبان استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں مکالمہ نگاری، کردار نگاری، جذبات نگاری اور منظر نگاری کے بہترین مرقعے ملتے ہیں۔

تصانیف:تیسرا آدمی، اندھیرا اور اندھیرا، راتوں کا شہر، کیمیا گر، کمیں گاہ، خدا کی بستی، جانگلوس، چار دیواری، تانتیا، شریف آدمی، رات کی آنکھیں، کوکا بیلی وغیرہ۔

مشق

سوال نمبر ایک: درج ذیل سوالات کے جوابات لکھیں۔

(الف): ”برے کا برا انجام“ کے عنوان سے کہانی تحریر کریں۔

جواب:کسی گاؤں میں ایک چرواہا رہا کرتا تھا۔ چرواہا گاؤں سے زرا ہٹ کر جنگل کی طرف اپنی بھیڑوں کے ریوڑکو چرایا کرتا تھا۔ ایک دن اسے ایک شرارت سوجھی اس نے اونچا اونچا چلانا شروع کر دیا، ”شیر آگیا ، شیر، مدد کرو مدد کرو۔“ یہ صدا سن کر گاؤں والے اپنے کام کاج چھوڑ کر اس کی مدد کو پہنچے تو وہ درخت پر بیٹھا ہنس رہا تھا۔ یہی شرارت اس نے دو بار اور کی تھی گاؤں والے سخت غصے کی حالت میں واپس چلےگئے تھے۔ مگر اتفاق سےا یک دن شیر سچ مچ کا آگیا، اور وہ چلاتا رہا مگر مدد کو کوئی نہ آیا۔ شیر نے ایک ایک کر کے اس کی ساری بھیڑوں کو مار دیا۔ شام کو جب وہ واپس گاؤں لوٹا تو اس کے چہرے پر ندامت تھی، اور اسے یہ سبق بھی ملا کہ ”برے کا برا انجام “ہی ہوتا ہے۔

(ب): سکینہ بیگم کے بیٹے کو کیا ہوگیا تھا؟

جواب:سکینہ بیگم کے بیٹے نے ماں سے فرمائش کی کہ اس کے لیے ارہر کی کھچڑی بنائی جائے۔ مگر سکینہ بیگم کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور ارہر کی کھچڑی نہ بن سکی۔ دسترخوان پر بیٹے نے کھچڑی نہ پا کر ناراضی کا اظہار کیا اور گھر سے نکل گیا، وہ دن اور آج کا دن برسوں گزر گئے مگر اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔

(ج): ”مکھن ٹوش“ کا نعرہ کس کا تھا؟

جواب:ایک کرنل جو جنگوں میں حصہ لیتا تھا اب عمر کے آخری حصہ میں سودائی ہو گیا تھا۔ جس شخص کی بھی اس سے مڈبھیڑ ہوتی تھی وہ اسے دیکھ کر ”مکھن ٹوش“ کا نعرہ لگاتا۔

(د): جب کوئی راہگیر ڈر کر بے ہوش ہو جاتا تو عبداللہ کیا کرتا؟

جواب: جب بھی کوئی راہگیر ڈر کے مارے بے ہوش ہو جاتا تو عبداللہ جلدی سے اس راہگیر کی جیب سے نقدی اور سامان لوٹ کر فرار ہو جاتا ۔

(ہ): جب لوگوں نے شام کے بعد گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا تو عبداللہ نے خوراک کے حصول کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟

جواب:جب لوگوں نے شام کے بعد گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا تو عبداللہ نے خوراک کے حصول کے لیے یہ طریقہ اختیار تھا کہ دن بھر سویا کرتا اور رات کو گلی میں کھڑا ہو جاتا اور جو بھی گزر گاہ سے گزرتا اس کے سامنے آکر ”مکھن ٹوش“ کا نعرہ لگایا، جب سامنے والا ڈر کے مارے بے ہوش ہو جاتا تو عبداللہ اس کے جیب سے نقدی اور سامان لوٹ کر غائب ہو جاتا۔

(و): ”بھوت “ کا سن کر محلے والوں نے کیا کیا؟

جواب: بھوت کا سن کر محلے والوں نے شام کے بعد اندھیرے میں گھروں سے نکلنا ترک کر دیا۔

(ز): عبداللہ کی موت کہاں واقع ہوئی؟

جواب:عبداللہ کی موت اسی جگہ ہوئی جہاں وہ واردات کرنے اور لوگوں کو لوٹنے کے لیے کھڑا رہتا تھا، محلے والوں نے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا۔

سوال نمبر دو: خالی جگہ درست روز مرہ کے مطابق پر کریں:

  • الف: مگر یہ شخص تو موت کے فرشتے کی طرح نازل ہوا۔
  • ب: میری آواز خوف سےنہیں رہی تھی؟
  • ج: دونوں مزے سے پاؤں پھیلا کر سوئیں گے۔
  • د: بلی کی طرح لپک کہ میرا گلا دبوچ لیا۔
  • ہ: میری طبیعت اب ذرا سنبھل چکی تھی۔

سوال نمبر تین: مندرجہ ذیل الفاظ و تراکیب کو اپنے جملوں میں استعمال کریں۔

سنسان:رات کے پہر سنسان علاقوں سے گزر نے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
مڈبھیڑ:اپنے ہم جماعت سے برسوں بعد مڈبھیڑ ہوئی تو میں نے فوراً اسے پہچان لیا تھا۔
چوڑا چکلا:عدیل کا جسم دیگر پہلوانوں کے مقابلے میں زیادہ چوڑا چکلا ہے۔
امتدادِ زمانہ:امتداد زمانہ سے ہمارے محلے کی حالت بدل گئی ہے۔
سنگسار کرنا:أفغانستان میں سنگسار کی سزا اب تک رائج ہے۔
ہوکا عالم:کورونا وائرس کے دوران شہر کے شہر ہو کا عالم بنے ہوئے تھے۔
باچھیں کھلنا:لاٹری نکلنے پر احمد کی باچھیں کھل گئیں۔

سوال نمبر چار: درج ذیل الفاظ پر اعراب لگائیں۔

نُوۡعِیَّتۡ غَنِیۡم بَرۡاَفۡرُوخۡتَہ
سَنَاٹَا مُڈۡبَھیۡڑ بَدرُوۡ

سوال نمبر پانچ: درج ذیل جملے روزمرہ کے مطابق درست کریں۔

  • الف: چور مع مال مسروقہ گرفتار ہو گیا۔
  • ب: عمارت پرسرکاری پرچم لہرا رہا ہے۔
  • ج: وادی کاغان کے مناظر تو دیکھنےکے قابل ہیں۔
  • د: مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔
  • ہ: یکم ستمبر کو میرا کالج کھلے گا۔

سوال نمبر چھ: درج عبارت میں مناسب مقامات پر رموز اوقاف لگائیں۔

سنو بیٹا !ملک کو انجینئروں اور ڈاکٹروں کے علاوہ دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بھی ضرورت ہے۔ اس ملک میں کوئی چوٹی کا مؤرخ، ماہر اقتصادایات، یگانۂ روزگار ادیب یا شاعر ،بہترین منتظم، بین الاقوامی معیار کا قانون دان یا سیاست دان، سائنس دان نہیں ہے یہ سب کچھ تو آرٹس کے شعبے سے متعلق ہے۔

معلومات:

افسانہ:

افسانہ کے لیے انگریزی زبان کے الفاظ Fiction اور Short story استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ناول اور داستان کی نوعیت (قسم) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر جہاں ناول ایک پورے جہان کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ وہاں افسانہ اس جہان انسانی کی زندگی کا صرف ایک پہلو یا معاشرتی، معاشی اور سیاسی مسائل کا صرف ایک رخ پیش کرتا ہے۔ پس ہم افسانہ کی تعریف یوں پیش کرتے ہیں:

”افسانہ“ ادب کی وہ صنف ہے جو زندگی، کردار یا واقعہ کے کسی ایک پہلو کو مکمل طور پر اس طرح پیش کرتا ہے کہ اسے ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکے۔“

یعنی افسانہ وہ مختصر کہانی ہے جسے آدھے گھنٹے سے لے کر ایک یا دو گھنٹے میں پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ کسی شخص کی زندگی کے اہم اور دلچسپ واقعے کو فنی شکل میں پیش کرتا ہے۔ اس واقعے کے بیان میں ابتدا، عروج اور خاتمہ شامل ہے۔