سبق نمبر 28: غزل: کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا، تشریح، سوالات و جوابات

0

شاعر کا تعارف:

احمد ندیم قاسمی پاکستان کے ضلع خوشاب میں 20 نومبر 1916 کو پیدا ہوئے۔ تین سال کی عمر میں والد پیر غلام نبی کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے نتیجہ میں بچپن میں ان کو شدید مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے میٹرک کا امتحان 1930 میں شیخو پورہ کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے پاس کیا ۔ اسی زمانہ میں انھوں نے شاعری شروع کردی تھی۔

1968 میں حکومت پاکستان نے انھیں “تمغۂ حسن کارکردگی” سے اور 1980 میں ملک کے سب سے بڑے سیویلین ایوارڈ ” نشان امتیاز” سے نوازا۔ 2006 میں دمہ کے عارضہ میں ان کا انتقال ہوا۔
مجموعہ ہائے کلام: جلال و جمال، شعلۂ گل، اورکشتِ وفا وغیرہ

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

تشریح:۔

درج بالا شعر احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد ندیمؔ قاسمی استعارے کا استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موت جسے تمام جہان فنا کا نام دیتا ہے ، میں اسے فنا نہیں مانتا ، بلکہ وہ ایک دوسری طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان ایک دریا کی مانند ہے اور وہ مر کر دوام پا جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ کی زندگی کی جانب چلا جاتا ہے۔ انسان گویا ایک دریا ہے اور وہ سمندر میں مل جاتا ہے، یعنی چھوٹی سی دنیا سے نکل بڑے جہان میں منتقل ہو جاتا ہے۔

تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا

تشریح:۔

درج بالا شعر احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد ندیمؔ قاسمی اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اگر تم مجھے دھتکار بھی دو گے ، اور مجھے میری محبتوں کا جواب محبت سے نہیں دو گے تو بھی میں تم اپنی محبت ختم نہیں کر سکتا۔ بلکہ میں اگر تمہاری گلی سے گزرنا چھوڑ دوں گا تو میں اپنی ہی ذات میں قید ہو جاؤں گا ۔

تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا

تشریح:۔

درج بالا شعر احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد ندیمؔ قاسمی اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اگر تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور میری داد رستی نہ کرو گے ، میری خبر گیری نہ بھی کرو تو بھی میرے لیے مشکل نہیں۔ کیونکہ اگر میں تم سے دور ہو بھی گیا تو ہر سو تمہیں پاؤں گا، اپنی چشم تصور سے تمہیں اپنے مقابل پاؤں گاجہاں جہاں میری نگاہ جائے گا۔

اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا

تشریح:۔

درج بالا شعر احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد ندیمؔ قاسمی کہتے ہیں کہ اگر میں اب محبوب کے راستے میں دوبارہ آیا تو محض بے اعتنائی سے گزر جاؤں گا۔ اگر اب کے محبوب کے کوچہ سے گزر ہوا تو یہ محض اتفاق ہوگا میں اب اس کی طلب میں وہاں نہیں جاؤں گا۔ میرا گزر ایسا ہی ہوگا جیسے بادل کسی بھی جگہ سے بھی بلاوجہ گزر جاتے ہیں۔

تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا

تشریح:۔

درج بالا شعر احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد ندیمؔ قاسمی اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ہم نے جو جینے مرنے کا وعدہ لیا تھا، اب وہ میری راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے۔یہ قول و قرار مجھے کسی پل فرار کی اجازت نہیں دیتا، ورنہ میں کب کا تجھ سے غفلت برت چکا ہوتا اور جہاں کو مرضی ہوتی چلا جاتا لیکن تمہارے ساتھ کیا یہ وعدہ میرے پاؤں میں زنجیر کی طرح پڑا ہوا ہے۔

چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا

تشریح:۔

درج بالا شعر احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد ندیمؔ قاسمی اپنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہتےہیں کہ میں حکماء و أطباء سے کچھ الگ ہوں۔ حکیم و طبیب تو کسی گھاؤ ، زخم یا چوٹ پر طرح طرح کی جڑی بوٹھیاں اور ادویات لگا کر اسے بھرتے ہیں جبکہ میں جب بھی زخم کھاتا ہوں تو پہلے سے زیادہ بہتر ہو جاتا ہوں۔ یعنی شاعر کی مرادیہ ہے کہ وہ جب بھی دھوکہ کھاتا ہے تو ہوش مندی کا ہنر سیکھ لیتا ہے۔

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

تشریح:۔

درج بالا شعر احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد ندیمؔ قاسمی اپنی ذات کو شمع کی مماثل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیسے ایک شمع کی زندگی کا مقصد روشنی دینا ہوتا ہے، وہ اپنی ذات کو فنا کر کے دوسروں کے لیے اجالا کرتی ہے۔ اسی طرح شاعر نے اپنے آپ کو شمع سے تشبیہ دی ہے کہ میں بھی اپنی زندگی کو جلاؤں گا یعنی مشکلات سہہ کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کروں گا۔جس سے میرے بعد والوں کے لیے راستہ سہل اور ہموار ہو جائے گا۔

مشق:

سوال نمبر ا:اس غزل کا مطلع اور مقطع لکھ کر ان کی تشریح کریں:

جواب:اس شعر کا پہلا شعر مطلع ہے اور آخری شعر مقطع ہے۔ ان دونوں کی تشریح اوپر دی جا چکی ہے۔

سوال نمبر ۲: اس غزل کے قوافی لکھیں۔

جواب:مر، اتر، بکھر، جدھر، گزر، مر، سنور، کر

سوال نمبر۳: درج ذیل الفاظ پر اعراب لگائیں۔

سَمُنْدَر، صَحْرا، مِعْیار، شَمْع، صُبْح

سوال نمبر ۴: شعر کی تشریح لکھیں۔

؎ زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

جواب: ایضاً

سوال نمبر ۵:

تیرا در چھوڑ کے میں کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا

دو الفاظ جو تحریر میں بالکل یکساں ہوں لیکن اعراب میں فرق ہو، تجنیس محرف کہلاتے ہیں۔ درج بالا شعر میں لفظ ”گھر“ تجنیس محرف ہے۔ جو دو بار الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ دو ایسے اشعار لکھیں جن میں تجنیس موجود ہو۔

جواب:

؎یہ بھی نہ پوچھا کبھی صیاد نے
کون رہا کون رہا ہو گیا (رَہا-رِہا)

؎ میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے(بَن-بِن)

سوال نمبر ۶: غزل کے آخری شعر میں تشبیہ استعمال ہوئی ہے۔ اس کے ارکان تشبیہ بیان کریں۔

  • جواب: ارکان تشبیہ مندرجہ ذیل ہیں:
  • ٭مشبہ ٭ مشبہ بہ ٭ وجہ شبہ یا غرض تشبیہ ٭ حرف تشبیہ
  • آخری شعر میں ”ندیم کی زندگی“مشبہ
  • شمع مشبہ بہ
  • جلنا وجہ شبہ یا غرض تشبیہ
  • مانند حرف تشبیہ

سوال نمبر ۷: غزل کے مطابق درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں:

ا: شاعر نے اپنے لیے کون سا استعارہ استعمال کیا ہے؟

جواب:شاعر نے اپنے لیے دریا کا استعارہ استعمال کیا ہے۔

ب: صحرا میں بکھرنے سے کیا مراد ہے؟

جواب:صحرا میں بکھرنے سے مراد ہے اپنےآپ کو گم کرنا اور آبادی سے قطع تعلق کر دینا۔

ج: تیسرے شعر میں شخص کا لفظ کس کے لیے استعمال ہوا ہے؟

جواب:تیسرے شعر میں شخص سے شاعر کی مراد محبوب ہے۔

د: شاعر کی موت میں کون سی چیز حائل ہے۔

جواب:شاعر کی موت میں محبوب سے کیا ہوا وعدہ حائل ہے۔

ہ: زخم کھا کر سنورنے سے کیا مراد ہے؟

جواب:زخم کھا کر سنورنے سے مراد ہے جب محبوب اپنی نگاہوں کے نشتر سے گھائل کرے تو عاشق سنور جاتا ہے۔