سبق نمبر 27: غزل: کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر: ۲۷
  • غزل: کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں
  • شاعر: فیض احمد فیضؔ
  • ماخوذ:

شاعر کا تعارف:

فیض احمد فیضؔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی بی۔اے کرنے کے بعد عربی میں بی۔اے آنرز کیا اور پھر انگریزی اور عربی میں ایم ۔اے کیا۔ فیض کی عملی زندگی بڑی متنوع اور ہنگامہ خیز تھی۔ کچھ عرصے فوج میں بھی ملازمت کی۔ راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوئے اور سب کو یقین تھا کہ انھیں پھانسی کی سزا ہو جائے گی لیکن انھیں ڈھائی سال قید کی سزا ملی۔ فیض کا پہلا مجموعہ کلام ” نقش فریادی “کے نام سے ۱۹۴۱ میں شائع ہوا۔ اپنی شاعری اور انسان دوست خیالات کی وجہ سے انھیں لینن امن ایوارڈ بھی ملا۔

ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعراء میں فیض احمد فیضؔ کا مقام بہت بلند اور منفرد ہے ۔ فیض ؔکو پیکرتراشی میں ایک خاص ملکہ تھا۔ لفظی تصویر کشی میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ سراسر جمالیات کے شاعر ہیں۔ انھوں نے نغمگی، امیجری، استعارہ اور تشبیہ جیسے فنی لوازمات کو بڑی ہنرمندی سے استعمال کیا۔ فیض ؔاردو شاعری کی روایات سے بخوبی آگاہ تھے اور فارسی، انگریزی شاعری سے بھی واقف تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز رومان اور وجدان سے ہوتا ہے لیکن زندگی کے سخت اور کڑے حقائق جلد ہی ان کی شاعری کی مستقل راہ متعین کر دیتے ہیں۔ ذاتی دکھ کے علاوہ عالم انسانیت کا رنج و الم اپنے اندر محسوس کرتے ہیں اور یوں ان کی شاعری محبت اور حقیقت کا حسین امتزاج بن جاتی ہے۔

مجموعہ ہائے کلام: نقشِ فریادی، دستِ صبا، زندان نامہ، دست تہِ سنگ، سر وادئی سینا، شامِ شہر یاراں، میرے دل مرے مسافر، غبار ایام۔

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

تشریح:۔

درج بالا شعر فیض احمد فیضؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر فیض احمد فیضؔ اپنے محبوب سے مخاطب ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب! ایسا کوئی لمحہ نہیں جس میں، مَیں نے تم سے غفلت برتی ہو۔ میں نے روزگار زندگی میں مصروف ہونے کے باوجود بھی تمہیں ہمیشہ اپنی یاددوں میں آباد رکھا ہے، جیسے تم میرے سامنے ہو میری دسترس میں ہو۔ اسی لیے شکر ادا کرتا ہوں کہ اب میرا کوئی دن بھی تمہاری عدم موجودگی میں نہیں گزرتا بلکہ میں اپنے تصور سے تمہیں ہر وقت اپنے ساتھ پاتا ہوں۔

مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں

تشریح:۔

درج بالا شعر فیض احمد فیضؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر فیض احمد فیضؔ کہتے ہیں کہ ہر طرف یہ بات مشہور ہے کہ محبوب کی گلی میں جانا خطرے سے خالی نہیں۔ جو بھی وہاں جاتا ہے اس کی حالت ابتر ہو جاتی ہے اور وہ دیوانہ ہو جاتا ہے۔ مگر شاعر اس پر زمانے والوں کو جواب دیتا ہے کہ اگر محبوب کے دیدار کی قیمت دل و جاں قربان کرنا ہے تو وہ اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔بلکہ اپنا تن من محبوب کی راہ میں نچھاور کر دیں گے۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

تشریح:۔

درج بالا شعر فیض احمد فیضؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر فیض احمد فیضؔ کہتے ہیں کہ عاشق جب آتش عشق محسوس کرتا ہے تو وہ دنیا سے دنیاداری سے اوپر اٹھ جاتا ہے، اسے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں رہتی۔ جب عاشق یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ محبوب کی گلی مقتل گاہ ہے جاتا ہے تو اس کی یہ دلیری، یہ بہادری ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے۔ موت تو ہر ذی روح کو آنی ہے، موت سے ڈرنا کیسا، مگر عاشق کا یہ ولولہ زندہ و جاوید ہو جاتا ہے۔

میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں

تشریح:۔

درج بالا شعر فیض احمد فیضؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر فیض احمد فیضؔ کہتے ہیں کہ عشق ایسا جذبہ ہے جو دلوں پر وار کرتا ہے، عشق کے کوئی قواعد و ضوابط نہیں کہ یہ کس دل کو گھائل کرےگا۔ عشق کے میدان میں کسی کا نام نسب یا عہدہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ سب کو یکساں طور پراسیر کرتا ہے۔عشق کسی کی ذاتی جاگیر نہیں یہ سب کے ساتھ ایک جیسا ہی سلوک کرتا ہے۔

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

تشریح:۔

درج بالا شعر فیض احمد فیضؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر فیض احمد فیضؔ کہتے ہیں کہ اگر عاشق سچا ہے اور اس کا عشق بھی سچا ہے تو اسے دنیا کی پروا نہیں کرنی چاہیے، اسے تو وہ کچھ کر گزرنا چاہیے جو ضروری ہے ۔ اس میں اسے اگر جان کی بازی بھی ہارنی چاہیے تو ہار جائے مگر ڈرنے سے گریز کرے۔ اگر اسے وصل و دیدار میسر آگیا تو یہ اس کی جیت ہو گی اگر ہار بھی گیا تو اس کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جائے گا۔

  • مشق

سوال نمبر ا:اس غزل کے قوافی لکھیں:

جواب:ہاتھ، رات، حالات، بات، ذات اور مات غزل کے قوافی ہیں۔

سوال نمبر ۲: کوچۂ جاناں، میدانِ وفا، نام و نسب کون سے مرکبات ہیں۔

  • جواب: کوچۂ جاناں مرکب اضافی ہے۔
  • میدانِ وفا مرکب اضافی ہے۔
  • نام و نسب مرکب عطفی ہے۔

سوال نمبر۳: اس غزل میں حروفِ عطف، حروفِ اضافی اور حروفِ جار تلاش کر کے لکھیں۔

  • جواب:حروف عطف: اس غزل کے حروف عطف نام و نسب ہے۔
  • حروف اضافی: کوچۂ جاناں، میدان وفا، عشق کی بازی، ہجر کی رات
  • حروف جار: میں، سے، حروف جار ہے۔

سوال نمبر ۴: اس غزل کے کس شعر میں صنعتِ تضاد موجود ہے؟

جواب:اس غزل کے مندرجہ ذیل شعر میں صنعت تضاد موجود ہے۔
گر بازی عشق کی باری ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں
جیت ہار صنعت تضاد ہے۔

سوال نمبر ۵: غزل کے مطابق درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں:

۱۔ پہلے شعر میں کس بات پر شکر کا اظہار کیا گیا ہے؟

جواب: پہلے شعر میں شاعر نے چشم تصور سے محبوب کے دیدار پر شکر کا اظہار کیا ہے۔

ب۔ دل بیچنے سے کیا مراد ہے؟

جواب: دل بیچنے سے شاعر کی مراد دل و جان قربان کرنا کے ہیں۔

ج: تیسرے شعر کے مطابق کس انداز کو دوام حاصل ہے؟

جواب: جو سچا عاشق اپنے عشق کے لیے دل و جان کی قربانی دیتا ہے اسے دوام حاصل ہوتا ہے۔

د۔ میدان وفا اور عام زندگی میں کون سی چیز مشترک نہیں ہے۔

جواب: میدان وفا میں نام و نسب اور خاندان مشترک نہیں۔

ہ۔ عشق میں جیت اور ہار کو ایک جیسا مقام کیوں دیا جاتا ہے؟

جواب: اگر عشق میں کوئی شخص اپنی تمام تر سعی کرنے کے بعد کامیاب ہو جائے تو یہ اس کی خوش نصیبی ہے ، اگر وہ ناکام ہو جائے تو بھی اس کا نام استعارے کے روپ میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے۔

  • شعر: وہ کلامِ موزوں جو بامقصد ہو، ایک خیال کو ظاہر کرے اور جس کے دونوں مصرعے ایک ہی وزن میں ہوں ”شعر“کہلاتا ہے۔