Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: ۳۰
- غزل: آکے پتھر تو مرے صحن، میں دو چار گرے
- شاعر: شکیب ؔجلالی
- ماخوذ:
شاعر کا تعارف:
سید حسن رضوی شکیبؔ جلالی قصبہ جلالی، ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی۔ شکیب جلالی کی معاشی حالت شروع سے ہی خراب تھی۔ والد کی بیماری کے باعث سارے گھر کی ذمہ داری ان پر آن پڑی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے اور لاہور سے بی۔ اے کیا۔ ابتدا میں رسائل کے دفاتر میں ملازمت کی پھر محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ ان کی تمام زندگی کرب و ملال اور تلخیوں میں گزری۔ وہ اکثر بیمار رہا کرتے تھے اور آخر میں کئی دہنی و نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ صرف ۳۲ برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
شکیبؔ جلالی کا مجموعہ کلام “روشنی اے روشنی ” بہت جلد مقبول ہوا اور اس کے اکثر اشعار زبان زد خاص و عام ہو گئے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز اس وقت کیا جب اردو غزل نئے امکانات اور تجربات سے گزر رہی تھی۔ ذہنی اور فکری رویوں میں تبدیلی آرہی تھی۔ اُس دور میں ایسے شعرا قابل قدر جانے جاتے تھے جن کے ہاں عصری شعور کے ساتھ ساتھ تجربات اور مشاہدات میں بھی جدت نظر آئے ۔ جدید رجحانات کے باعث شکیب ؔجلالی بہت جلد ممتاز ہو گئے۔ وہ آسان زبان کے شاعر سمجھے جاتے ہیں لیکن ان آسان الفاظ میں بھی معنوی تہہ داری موجود ہے۔ شکیبؔ جلالی نے چند ایک نظمیں کہی ہیں لیکن اُن کی اصل مہارت غزل کے میدان میں ہے۔
مجموعہ ہائے کلام: روشنی اے روشنی۔
| آ کے پتھّر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اُس پیڑ کے پھل تھے، پسِ دیوار گِرے |
تشریح:
درج بالا شعر شکیبؔ جلالی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر شکیب جلالی کہتے ہیں کہ میری بدقسمتی ہے کہ مجھے دنیا سے جب بھی ملا دکھ و درد ہی ملا ہے۔ وہ اپنے آپ کو پھل دار پیڑ کی مثل بتاتے ہیں جس سے لوگ پھل توڑنے کے لیے اسے پتھر مارتے ہیں اور سارے پھل تو وہ لے جاتے ہیں اور صحن کی قسمت میں پتھر ہی باقی رہتے ہیں۔ یعنی شاعر لوگوں کی دھوکہ دہی اور عادت کا ذکر کر رہے ہیں کہ مجھے دھوکا دے کر انھیں تو شاید پل بھر کی خوشی حاصل ہو جاتی ہوگی مگرمیرے لیے اس دھوکا دہی کے داغ دیر پا رہتے ہیں۔
| مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں پہ گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گِرے |
تشریح:
درج بالا شعر شکیبؔ جلالی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر شکیب جلالی کہتے ہیں کہ مجھے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے میں تو چاہتا ہوں کہ میں خودمختیاری سے اپنی زندگی گزاروں مجھے کسی پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ وہ دنیا والوں سے پوری طرح اداس ہو چکے ہیں اور کسی کا سہارا نہیں چاہتے بلکہ وہ خواہش کرتے ہیں کہ جیسے دیوار اپنے ہی سائے پرگرتی ہے ویسے میں بھی اپنی مشکلات کے لیے خود ہی کافی رہوں مجھے اپنے دکھ کا مداوا کرنے کے لیے کسی کی محتاجی نہ ہو۔
| تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط یہ ستراے مرے گھر ٹوٹ کے بیکار گِرے |
تشریح:
درج بالا شعر شکیبؔ جلالی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر شکیب جلالی مایوسی کے ساتھ کہتے ہیں کہ آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے جو روشنی کے استعارے ہیں ۔ یہ ستارے اگر کسی کے گھر میں گریں گے تو وہاں روشنی ہر جانب پھیل جائے گی، لیکن روشنی کے ان استعاروں کا گرنا میرے لیے خوش گوار نہیں ہے میرے گھر میں تو لازمی تاریکی پھیل جائے گی۔
| دیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں میرے ہمسائے میں جب بھی کوئی دیوار گِرے |
تشریح:
درج بالا شعر شکیبؔ جلالی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر شکیب جلالی کہتے ہیں کہ اگر کسی میرے گھر کے ارد گرد اگر طوفان سے کوئی گھر کی دیوار گرے تو میں یک دم فکر مند ہو جاتا ہوں کیونکہ میرا بھی گھر خستہ حال ہے۔ شاعر کی مراد لوگوں کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے ہے کہ جب کبھی کوئی دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو مجھے اپنی فکر لگ جاتی ہے۔
| وقت کی ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹے کس گھڑی سر پہ لٹکتی ہوئی تلوار گِرے |
تشریح:
درج بالا شعر شکیبؔ جلالی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر شکیب جلالی کہتے ہیں کہ مجھے ہر وقت موت خوف کھائے جاتا ہے ، کیونکہ یہ میرے اور تمام لوگوں کے سروں پر تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے ۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کسی بشر کو اپنی موت سے آگاہی نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ڈور کی طرح ہے جو کبھی بھی کسی بھی وقت کہیں سے بھی کٹ سکتی ہے یعنی کسی بھی عمر میں موت آسکتی ہے ، جس پر شاعر فکرمند ہیں۔
| دیکھتے کیوں ہو شکیبؔ اتنی بلندی کی طرف نہ اٹھایا کرو سر کو کہ یہ دستار گِرے |
تشریح:
درج بالا شعر شکیبؔ جلالی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر شکیب جلالی خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے شکیب! اتنی بلندی کی طرف مت دیکھو، یہ بہت اوپر جانے کی خواہش یہ دنیا داری کی محبت ہمیشہ مشکلات پیدا کرتی ہے۔ یعنی جب انسان حرص و طمع میں مبتلا ہو جائے اور دنیا میں اپنا مقام بلند کرنے کی تگ و دو میں سرگرم ہو جائے تو اسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔جیسے بلندی کو دیکھتے دیکھتے ٹوپی یا دستار سر سے گر جاتی ہے۔
مشق
سوال نمبر ۱: کلام میں اعداد کا ذکر کرنا، خواہ ترتیب سے ہوں یا بے ترتیب ہوں، صفت الاعداد کہلاتا ہے۔ جیسے:
| آ کے پتھّر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اُس پیڑ کے پھل تھے، پسِ دیوار گِرے |
سیاقتہ الاعداد کی مزید تین مثالیں لکھیں:
جواب:
| ؎ قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج یہ ساری گتھی تیری اک سیدھی نظر کی ہے |
| ؎آئے تھے چار دن کیلئے اس دیار میں دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں |
| ؎ جھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابر آغوش میں لئے ہوئے دنیائے آب و رنگ |
سوال نمبر۲: درج ذیل الفاظ کے مترادف لکھیں:
| پیڑ: | درخت |
| تیرگی: | تاریکی |
| ہمسایہ: | پڑوسی |
| بلندی: | اونچائی |
| اجالا: | روشنی |
سوال نمبر ۳: اس غزل کے اس شعر کی نشان دہی کریں، جس میں صنعت تضاد کا استعمال ہے۔
جواب:۔
| تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کی طرح یہ ستارے میرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے |
تیرگی، اجالے صنعت تضاد ہیں۔
سوال نمبر۴: دی گئی غزل کے مطابق درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں:
ا۔ ”صحن میں پتھر گرنے“ سے کیا مراد ہے؟
جواب:۔ ”صحن میں پتھر گرنے “ سے مراد مصیبت نازل ہونا کے ہیں۔
ب۔ شاعر کے دل میں کون تیرگی چھوڑ گئے؟
جواب:شاعر کے دل میں ستارے تیرگی چھوڑ گئے۔
ج۔ شاعر کیوں لرز جاتا ہے؟
جواب:جب شاعر کے پڑوس میں کوئی دیوار گرتی ہے تو اسے یک دم إحساس ہوتا ہے کہ اس کے اپنے گھر کی دیواریں بھی خستہ ہیں اور کبھی بھی گر سکتی ہیں اس لیے شاعر لرز جاتا ہے۔
د۔وقت کی ڈور ٹوٹنے سے کیا مراد ہے؟
جواب:۔وقت کی ڈور ٹوٹنے سے مراد موت ہے۔
ہ۔ شاعر نے بلندی کی طرف دیکھنے سے کیوں منع کیا ہے؟
جواب: شاعر نے بلندی کی طرف دیکھنے سے اس لیے منع کیا ہے کہ بلندی کی طرف دیکھنے والے شخص کے سر سے ٹوپی یا پگڑی گر جاتی ہے۔