Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: 9
- سبق: مائیں
- مصنف: احمد ندیم قاسمی
- ماخوذ:
تعارفِ مصنف:
احمد ندیم قاسمی کا اصل نام احمد شاہ تھا۔ وہ تحصیل خوشاب کے قصبہ انگہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام پیر غلام نبی تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبادئی علاقے میں حاصل کی اور صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے بی-اے کا امتحان پاس کیا۔ شادی کے بعد انھوں نے محکمہ آبکاری میں بطور سب انسپکٹر ملازمت کا آغاز کیا۔
احمد ندیم قاسمی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں، وہ ایک بلند پایہ شاعر منفرد افسانہ نگار، ممتاز صحافی اور عمدہ نقاد تھے۔ ندیم کی شخصیت پر ان کے چچا خان بہادر حیدر شاہ کا گہرا اثر تھا۔ ان کے چچا علامہ اقبالؒ کے ہم سبق تھے۔ اس طرح ندیم کو شعر و ادب سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ ندیم نے صحافت میں بھی دلچسپی لی انھوں نے کئی ادبی رسائل شائع کیے جن میں پھول، تعلیم نسواں، نقوش، سحر، فنون اور روزنامہ امروز شامل ہیں۔ بلکہ فنون تو ان کی شخصیت کی پہچان بن گیا۔ وہ ”حرف و حکایت“ کے نام سے اخبارات میں فکاہیہ کالم بھی لکھتے رہے۔
ندیم کا پہلا افسانہ ”بدنصیب بت تراش“ ہے۔ ندیم کی تحریر سادہ اور رواں ہے۔ ان کے افسانوں کا موضوع دیہات کے رہنے والے عالم لوگوں کے مسائل اور جذبات ہیں۔ محبت کا جذبہ ایک کائناتی حقیقت ہے۔ دیہات کے لوگ جو محنتی، جفا کش اور زندگی کی بہت سی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں۔ لیکن محبت کا جذبہ ان کے ہاں بھی کارفرما ہوتا ہے اور یہی حقیقت ندیم کا موضوع ہے۔ ان کے افسانوں میں حقیقی زندگی کا عکس ملتا ہے۔
اگرچہ ندیم کی زیادہ تر توجہ افسانہ نگاری پر رہی اور انھوں نے افسانے تواتر سے لکھے ہیں لیکن اس سے ان کی شاعرانہ عظمت میں کوئی واقع نہیں ہوتی۔ ان کی شاعری میں ایک طرف کلاسیکی سج دھج ہے تو دوسری طرف جدید انداز و آہنگ بھی موجود ہے۔ ان کی شاعری میں عصری آگہی کا شعور ملتا ہے۔ ان کی بعض نظمین موسیقیت کے حوالے سے بڑی پر اثر ہیں۔ انھوں نے نظم اور غزل، دونوں کہیں ہیں اور دونوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تاہم ان کی پہچان غزل کے حوالے سے ہے۔ ان کا مجموعۂ کلام ”دشت وفا“ پر انھیں آدم جی ایوارڈ بھی ملا ہے۔
تصانیف: چوپال، بگولے، طلوع و غروب، گرداب، آنچل، سیلاب، آبلے، در و دیوار، سناٹا، بازار حیات، برگ حنا، گھر سے گھر تک، کپاس کا پھول، نیلا پتھر (افسانے)۔
مجموعہ شاعری:۔ دھڑکنیں، رم جھم، شعلۂ گل، دشت وفا، محیط، دوام اور لوح خاک، بسیط وغیرہ۔
مشق
سوال نمبر ایک: سبق کے مطابق ذیل سوالات کے جواب لکھیں۔
(الف): دونوں بیگمات کے برعکس ان کے شوہروں کے تعلقات کیسے تھے؟
جواب: دونوں بیگمات جو ہر وقت لڑائی جھگڑا کرتی رہتی تھیں، کے برعکس ان کے خاوندوں کے آپسی تعلقات خوشگوار تھے۔
(ب): لڑائی کا آغاز عموماً کس کی طرف سے ہوتا تھا؟
جواب:بیگمات کے مابین لڑائی کا آغاز عموماً بیگم راجہ کی طرف سے ہوتا تھا۔
(ج): زلزلہ آنے پر بیگم راجہ کا کیا رد عمل تھا؟
جواب:کسی روز زلزلہ آیا تو بیگم راجہ کو ایسا محسوس ہوا کہ بیگم خواجہ نے اپنے کمرے میں پلنگ گھسیٹا ہے وہ فوراً کھڑکی میں منہ ڈال کر بیگم خواجہ کو جلی کٹی سنانے لگیں۔
(د): محلے کے بزرگ کے سمجھانے پر راجہ صاحب کا کیا جواب تھا؟
جواب: محلےکے بزرگ کے سمجھانے پر راجہ صاحب نے جواب دیا کہ یہ خواتین کا معاملہ ہے، مردوں کو اس میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ اکٹھے رکھے ہوئے دو برتن تو آپس میں ٹکراتے ہی ہیں۔
(ہ): پانی کی بالٹی میں گیند گرنے پر دونوں بیگمات کا کیا موقف تھا؟
جواب:پانی کی بالٹی میں گیند گرنے پر دونوں بیگمات کا موقف مختلف تھا، بیگم خواجہ اس پر مصر تھیں کہ بیگم راجہ نے خود بالٹی میں پھینک کر پانی گندا کیا ہے۔ جبکہ بیگم راجہ نے یہ الزام لگایا تھا کہ بیگم خواجہ نے شرارت کی ہے اور گیند کو خود بھگویا ہے۔ تاکہ وہ مٹی میں آلودہ ہو اور بچے کے کھیلنے پر کپڑے گندے ہو جائیں، اور بیگم راجہ کو کپڑے دھونے پڑ جائیں اور صابن کا خرچ ہو جائے۔
(و): بچے کے زخم دیکھ کر بیگم راجہ نے کیا رد عمل ظاہر کیا؟
جواب: بچے کا زخم دیکھ کر بیگم راجہ نے بچے کو گود میں اٹھا کر کہا کہ وہ ہاتھ جل جائیں جس نےتمہیں زخمی کیا ہے۔اور بچے کو تسلی دیتے ہوئے چومنے لگی۔
سوال نمبر دو: ”شاید یہی وجہ تھی کہ محلے والوں کو جھگڑے کا زیادہ لطف نہیں آتا تھا“ اس جملے میں مخصوص ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ وضاحت کریں۔
جواب: بیگم راجہ اور بیگم خواجہ جب لڑتی تھیں، تو عموماً آپس میں بددعائیں دینے پر ہی اکتفا کرتی تھیں، انھوں نے کبھی بھی ایک دوسرے پر الزام تراشی یا تہمت نہیں لگائی تھی۔ نہ کبھی گالم گلوچ یا فحش گوئی سے کام لیا تھا۔ اس لیے محلےکے ہر مرد و زن کو ان کے جھگڑے میں لطف نہیں آتا تھا ۔
سوال نمبر تین: متن کے مطابق خالی جگہ پُر کریں۔
- (الف): بیگم خواجہ کو وہ بے نقط سنائیں کہ وہ بے چاری زلزلے کو بھول گئی۔
- (ب) اکٹھے رکھے ہوئے دو برتن بھی ٹکرا کر بجتے ہیں۔
- (ج) ان کی باتوں میں الزام تراشی کم اور بددعائیں زیادہ ہوتی تھیں۔
- (د) جیسے مریض بے نمک مرچ کا کھانا کھانے پر مجبور ہوتا ہے۔
- (ہ) بیگم خواجہ اپنے مرنے کی بددعا سن کر مسکرا رہی تھی۔
سوال نمبر چار: ان الفاظ پر سامنے دیے گئے معنی کے مطابق اعراب لگائیں۔
عَالِمۡ (علم والا) عَالَمۡ (حالت، دنیا) عِلَمۡ(معلومات) عَلَمۡ(جھنڈا)
مُلَکۡ(وطن) مِلۡکۡ(جاگیر، جائداد) مَلَکۡ(فرشتہ) مَلِکۡ(بادشاہ، حاکم)
سوال نمبر پانچ: اس سبق میں امدادی أفعال کی نشاندہی کریں۔
امدادی فعل وہ ہوتا ہے، جو کسی اصل فعل کے ساتھ مل کر مرکب بناتا ہے۔ اسکے معنی میں زور پیدا کرتا ہے۔ اور کام کی تکمیل کو واضح کرتا ہے۔
- ۱: بیگم راجہ نے دونوں ہاتھ بڑھا کر بیگم خواجہ کے بیٹے کو اٹھا لیا۔
- ۲: اور اسے اپنے کولہے پر بٹھا کر تھپکنے لگیں۔
- ۳: اور بیگم راجہ کو پھر سے کپڑے دھونے پڑھیں۔
زموز اوقاف:
- وقفہ: (؛) جب سکتے سے زیادہ ٹھہرنے کی ضرورت ہو وہاں وقفہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال درج ذیل مواقع پر ہوتا ہے۔
- جملے کے لمبے اجزا کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کے لیے۔
- جملوں کے مختلف اجزا پر زیادہ تاکید دینے کے لیے جیسے:
- تم آؤ گے تو ہمیں خوشی ہوگی، نہ آؤ گے، تو صبر کر لیں گے۔
- جن جملوں کے لمبے لمبے اجزا کے درمیان، ورنہ، اس لیے، لہذا، اگرچہ، حالاں کہ وغیرہ جیسے الفاظ آئیں وہاں ذہن کو سمجھنے کا موقع دینے کے لیے یہ علامت لگائی جاتی ہے۔