حالاتِ زندگی

اردو ادب کے میدان میں مرد تو بہت ہیں مگر اردو شاعری کی خاتون اول ادا جعفری کے علاوہ کوئی نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں وہ اردو شاعری کا انمول سرمایہ رہیں ہیں۔ ادا جعفری ان کا اصل نام تھا ان کا کلمی نام عزیز جہاں تھا۔ ادا جعفری ۲۲ اگست ۱۹۲۴ کوبدایوں کے مولی بدر الحسن کے گھر انے میں پیدا ہوئیں مگر افسوس ان کو باپ کا سایہ دیر تک نصیب نہ ہوا۔ جب وہ فقط ۳ برس کی ہوئیں ان کے والد خالق حقیقی سے جا ملے۔وہ کم سنی میں ہی شاعر گوئی کرنے لگیں۔اول تو انھوں نے اپنا تخلص ادا بدایونی منتخب کیا اور جلدی ہی ادبی جریدوں میں ان کا کلام شائع ہونے لگا۔

ان کی شادی ۲۳ برس کی عمر میں نورالحسن جعفری سے ہوئی جس کے بعد وہ ادا جعفری کے نام سے باقائدگی سے لکھنے لگیں۔ان کے اساتذہ میں اردو کے مشہور نام اختر شیرانی اور اثر لکھنؤی ہیں جو شاعری میں ان کی اصلاح کیا کرتے تھے۔

شاعرانہ عظمت

ادا جعفری اردو شاعری کے افق پر اردو ادب کی سب سے بڑی تحریک و تنظیم،ترقی پسند مصنفین کے ساتھ ساتھ نمودار ہوئیں اور بہت جلد اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت ،فیض احمد فیض کی طرح اپنے دھیمے میٹھے اور دلآویز لہجے کے ذریعے قارئین کے دلوں میں اپنا گھر بناتی چلی گئیں۔ ادا جعفری کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنی آزادی کا بے جا فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی کئی معاصر خواتین لکھاریوں کی طرح مردوں پر حاوی ہونے کی سعی برتی۔ انھوں نے مردانہ انا سے تصادم کیے بغیر نرم و نازک شاعری کی اور خاص و عام سے داد پائی۔

وہ کھل کر اپنی غزلوں و نظموں میں جذبات، احساسات اور خیالات بیان کرنے لگیں۔ اس آزادی فکر نے ان کی شاعری کو نہ صرف تروتازگی دی بلکہ یکتا و منفرد بھی بنا دیا۔ انھوں نے اپنا تخلص ادا بدایونی رکھا۔ اس زمانے میں ز۔ح۔ش، حیا لکھنوی اور صفیہ ملیح آبادی جیسی شاعرات بھی موجود تھیں۔ لیکن اسلوب کا جو نیا پن، لفظی جمالیات اور دلکش تراکیب ادا بدایوانی کی شاعری میں نظر آئیں، وہ معاصر شاعرات کے ہاں موجود نہیں تھیں۔ اسی لیے انھیں اردو شاعری کی پہلی ممتاز شاعرہ کہا جانے لگا۔

ان کے کلام میں قدیم اور فرسودہ نظام زندگی کے خلاف بغاوت کا ایک بے پناہ جذبہ کار فرما ہے۔ان کی آواز سراپا طلب اور احتجاج ہے،ان کے انداز بیان کے اندر ایک ایسی قوت ارادی متشرح ہے جس کے بغیر جدید ادب کا کوئی معمار پیام موثر نہیں ہو سکتا۔ادا جعفری کی شاعری ان تمام لفظی گورکھ دھندوں سے پاک ہے۔وہ جو کچھ سوچتی اور محسوس کرتی ہیں ادبی قرینے کے ساتھ پیش کر دیتی ہیں۔

تصانیف

ادا جعفری کی تصانیف میں غزل نما،غزالاں تم تو واقف ہو، حرف شناسائی،جورہی سو بےخبر ی رہی،میں سازڈھونڈتی رہی،ساز سخن بہانہ ہے،ساز سخن،شہردرد قابل ذکر ہیں ان کی کلیات موسم موسم کے نام سے۲۰۰۲ میں شائع ہو چکی ہے ۔

وصال

12 مارچ 2015 کو مختصر علالت کے بعد 90 برس کی عمرمیں ادا جعفری کا کراچی پاکستان میں انتقال ہوگیا۔

منتخب کلام

ادا جعفری کی خوبصورت غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz on Ada Jafri

ادا جعفری 1
Advertisements