سراج اورنگ آبادی

سراج اورنگ آبادی اٹھارویں صدی کے مشہور ہندوستانی صوفی شاعر گزرے ہیں۔ انکی ولادت 11 مارچ 1712ء کو اورنگ آباد، مہاراشٹر میں ہوئی اور تاحیات وہی رہائش پذیر رہے۔ ان کا پورا نام سید سراج الدین اور تخلص سراج تھا۔ دکنی شعراء میں محمد ولی دکنی کے بعد سراج ہی ایسے شاعر گزرے ہیں جنھوں نے اردو زبان پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

کم عمری سے ہی سراج تنہائی پسند تھے۔ وہ دنیا سے لاتعلق رہتے  تھے۔ 12 سال کی عمر میں وحشت طاری ہونے پر انھوں نے گھر چھوڑ دیا، خانہ بدوشی کی اور مسمار شدہ حالت میں انھیں گھر لایا گیا۔ اپنے خانہ بدوشی کے طویل عرصے میں انھوں نے فارسی میں بیشتر اشعار لکھے۔ 1734ء میں انھوں نے حضرت عبدالرحمن چستی سے بیعت لی اور ایک درویش و کامل صوفی بن گئے۔ اسی دوران انھوں نے اردو شاعری لکھنے کا آغاز کیا۔ انھوں نے ہمیشہ تنہائی کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔ البتہ ان کے پاس نوجوان شاعروں اور ان گنت مریدوں کا تانتا بندھا رہتا تھا جو شاعرانہ ہدایت اور مذہبی اصلاح کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ 1740ء میں اپنے مرشد کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے انھوں نے شاعری کو الوداع کہا۔ سراج کا شاعری سرمایہ ان ہی پانچ چھ سالوں کی نتیجہ خیزی تھی۔

سراج نے فارسی کے مشہور شاعر خواجہ شمس الدین محمد حافظ سے متاثر ہو کر اپنی غزلوں کو ایک نیا متصوفانہ طرز دیا۔ لہٰذا ان کی غزلوں میں متصوفانہ و دقیق النظر اورحسن و جمال پر مبنی معنی اشعار ہوتے تھے۔ ‘کلیاتِ سراج’ ان کی غزلیں، رباعیات، قصیدے اور مثنوی "نظمِ سراج” پر مشتمل ہے۔ نظمِ سراج اگرچہ محبت پر مبنی ایک مثالی داستان ہے اور یہ داستان غم و جدائی کے ذریعے زندگی کے پوشیدہ رازوں کو بیان کرتی ہے۔ انکی مثنوی "بوستانِ خیال” بھی قابلِ ذکر ہے۔ یہ مثنوی 1160 اشعار پر مشتمل ہے۔

سراج شدید صوفیانہ جذبات رکھنے والے شاعر تھے۔ البتہ وہ تصوف کو عشق و محبت کی زبانی بیان کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انکی شاعری عالمی سطح پر قابلِ لطف اور مقبول تھی۔ ان کی غزلوں میں جذبات کی شدت و بے قراری، خیالات کی گہرائی اور سادگی کا انداز قابلِ ذکر ہے۔  ان کی شاعری کا مجموعہ ‘سراجِ سخن’ کو بھی "کلیاتِ سراج”میں شامل کیا گیا۔ انھوں نے فارسی شاعروں کے مجموعے اکٹھے کیے اور انھیں مرتب کرکے اسے ‘منتخب دیوان’ کا نام دیا۔

6 اپریل 1764ء کو سراج اورنگ آبادی نے 52 سال کی عمر میں اپنے وطن اورنگ آباد میں وفات پائی۔

سراج کی سب سے زیادہ نامور غزل ‘خبر تحیر عشق سن، نہ جنوں رہا نہ پری رہی’ کو عابدہ پروین جیسی مشہور گلوکار نے گایا ہے۔ یہ غزل قرت العین حیدر کی کتاب ‘آگ کا دریا’ میں بھی شامل کی گئی ہے۔

مندرجہ ذیل میں سراج اورنگ آبادی کی شاعری کے اقتباس پیش ہے:

۱- خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی

نہ تو تو رہا نہ میں رہا جو رہی سو بے خبر ررہی

۲- وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درسِ نسخہ عشق کا

کہ کتاب عقل کی طاقت پر، جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی

Close