Advertisement

پنڈت دیا شنکر نسیم 1811ء میں لکھنؤ شہر میں پیدا ہوئے۔ یہ ایک معزز کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے- پنڈت گنگا پرشاد کول دیا شنکر نسیم کے والد تھے- دیاشنکرنسیم لکھنؤ کے ہی رہنے والے تھے- ان کے استاد خواجہ حیدر علی آتش تھے- ان کی ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں ہوئی- ان کی زندگی بس کچھ ہی دن کی تھی- بہت ہی کم عمر میں بیماری میں مبتلا ہوگئے اور دھیرے دھیرے اس بیماری نے انہیں بہت کمزور کردیا- اور 1845ء لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوگیا-

Advertisement

پنڈت دیا شنکر نسیم بہت بہترین مثنوی نگار تھے- ان کی سب سے پہلی مثنوی "گلزار نسیم” بہت ہی زیادہ مشہور ہوئی- اور اسے کافی شہرت بھی حاصل ہوئی-

Advertisement

ان کی دوسری مثنوی "دیوان نسیم” تھی- وہ بھی بہت زیادہ مشہور ہوئی-

Advertisement

"گلزار نسیم” پنڈت دیا شنکر نسیم کی ایسی تصنیف ہے جس کا نام "سحرالبیان” کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے-

"گلزار نسیم” نے آج بھی پنڈت دیا شنکر کا نام اردو ادب میں زندہ رکھا ہے-

Advertisement

افسانہ گل بکاؤلی کا 
افسوس ہو بہار عشق کا 
ہر چند سنا گیا ہے اس کو 
اردو کی زبان میں سخن گو 
وہ نثر ہے داد نظم دوں میں 
اس مے کو دو آتشہ کروں میں

نسیم نے افسانہ "گل بکاولی” کا ترجمہ کا اشارہ عزت اللہ بنگالی کے قصے "مذہب عشق” کی طرف کیا ہے-

Advertisement

نسیم نے اسی قصے کے کچھ حصے کو نظم میں ڈھال کر "گلزار نسیم” لکھی- "گلزار نسیم” کی بنیاد نثر کی داستان "مزہب عشق” ہی سے ماخوذ ہے- اس کے علاوہ نسیم نے ریحان الدین کی مثنوی "خیابان ریحان” سے بھی استفادہ کرکے "گلزار نسیم” لکھی-

منبغ پر امر کٹنک نامی ہندو ہے جس کی بہت بڑی تیرتھ گاہ ہے- سنا ہے وہاں گل بکاولی کہ قلعے اور باغیچے کے کچھ آثار آج بھی موجود ہیں-

Advertisement

گلزار نسیم کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں ہوچکا ہے- فرانسیسی زبان میں گلزار نسیم کا ترجمہ ” Doctrine Del Amoor” کے نام سے ہوا ہے-

جب نسیم نے اپنی مثنوی پوری کرلی تو آتش کو دکھائی- آتش نے مثنوی کو مختصر طور سے لکھنے کو کہا- اور نسیم نے اپنے استاد کی بات مانی اور مثنوی کو مختصر کر دیا-

Advertisement

انہوں نے اپنی مثنوی میں منظر کشی میں حسن اور ادا کی صورت ایسے دکھائی ہے کہ منظر واضح ہونے لگتے ہیں-ان کی مثنوی میں فنی جائزہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے-

"گلزار نسیم” میں تشبیہ، استعارہ کا بھی بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے- "گلزار نسیم” کا شروع سے آخر تک مطالعہ کرتے ہوئے اس کا لطف ختم نہیں ہوتا بلکہ اور بڑھتا ہی جاتا ہے-

Advertisement

پنڈت دیا شنکر نسیم نے "گلزار نسیم” لکھ کر اپنے آپ کو ایک بہترین مثنوی نگار ہونے کا ثبوت دیا ہے- اس طرح دیا شنکر نسیم نے بہت زیادہ عزت و شہرت کمائی اور اپنا مقام اردو ادب میں اونچا کر لیا-

written by

Zarnain Nisar

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement