تعارف

نام سید جاں نثار حسین رضوی اور اختر تخلص تھا۔ والد کا نام مضطر خیرآبادی جو ایک معروف شاعر تھے۔ ان کے اجداد میں مولانا فضل حق خیرآبادی جیسی عبقری شخصیت بھی ہیں جنہوں نے دیوان غالب کی ترتیب و تدوین کے ساتھ ساتھ 1857ء کی پہلی جنگ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان کی رفیق حیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ اور مجاز لکھنوی کی حقیقی بہن صفیہ تھی جو تپ دق جیسی موذی مرض میں عرصہ دراز بیمار رہنے کے بعد ایک دن مالک حقیقی سے جا ملی۔ ان کے پسر ارجمند مشہور فلم نغمہ نگار جاوید اختر اور بہو شبانہ اعظمی ہیں جو اپنے مکالمات و نغمات اور سماجی مسائل پر بے باک اظہار راے کی وجہ سے ہر دل عزیز بنے ہوئے ہیں۔

حالات زندگی

یہ 8 فروری 1914 کو گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن خیرآباد یوپی ہے۔ ابتدائی تعلیم وکٹوریہ کالج ہائی اسکول گوالیار میں حاصل کی اور وہیں سے 1930 میں میٹرک کا امتحان پاس کر کے 1937 میں بی-اے اور 1939 میں ایم- اے (اردو) کی ڈگریاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کیں
ان کا تقرر 1940 میں وکٹوریہ کالج گوالیار میں اردو لکچرر کی حیثیت سے ہوا۔ 1943 میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ 1947 میں ملک آزاد ہوا تو گوالیار کی حالت خراب ہونے لگی، لہذا ریاست بھوپال کو انہوں نے اپنا مسکن بنایا اور یہیں حمیدیہ کالج میں صدر شعبہ اردو و فارسی میں جگہ مل گئی۔ یہ ترقی پسند تحریک کے سر گرم کارکن تھے۔ حکومت ہند نے کمیونسٹ پارٹی پر پابندیاں عائد کر دیں، چوں کہ ترقی پسند تحریک بھی اس پارٹی کی سرگرمیوں کا ایک رخ تھا، اس لیے اختر کو نوکری سے استعفیٰ دینا پڑا۔ انہوں نے ممبئی کی راہ لی اور وہاں فلموں کے لیے بہت سے گیت لکھے۔ یہاں انھیں شہرت بھی ملی اور مال و زر میں اضافہ بھی ہوا۔ بالآخر وہ 18 اگست 1976 کو عارضہ قلب کی وجہ سے ممبئی میں انتقال کر گئے۔

ادبی خدمات

جاں نثار اختر کو شعر و ادب کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ نیز علی گڑھ کے علمی و ادبی ماحول نے اس کو مزید حسن آفریں بنا دیا۔ ان کے ادبی مذاق کی تشکیل و تعمیر میں جہاں ہر کلاسیکی شعریات کا اہم حصہ ہے وہیں رومانی رجحان کے اثرات بھی شدت سے پائے جاتے ہیں بلکہ ان کے رومانی مزاج پر کلاسیکیت کی سخت گیری بے اثر ثابت ہوئی۔ وہ بہت جلد اشتراکی حقیقت نگاری کے حوالہ سے ترقی پسند تحریک کے زیر اثر آ گئے۔

اس عہد میں ترقی پسندوں نے آزادی کے حصول اور معاشی عدم مساوات کو اپنے منشور میں نمایاں اہمیت دی اور موضوعاتی اور بیانیہ شاعری کو رواج دیا۔ انہوں نے بھی اپنے عہد کے سماجی و معاشی مسائل کو نظموں کا موضوع بنایا۔ اس قبیل کی نظموں میں "مؤرخ سے، ریاست، داناے راز، پانچ تصویریں اور امن نامہ” شامل ہیں۔ یہ نظمیں ان کی تاریخی، سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی و تمدنی شعور کی ترجمان ہیں۔

ان کا مزاج بنیادی اعتبار سے چوں کہ رومانی ہے اور چوں کہ وہ عشقیہ سر مستیوں کے شاعر ہیں، اس لیے ان کی شاعری واردات حسن و عشق کا فرضی نہیں سچا اظہار ہے۔ ان کے کلام کے سرسری مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مجاز سے زیادہ متاثر ہیں اور کچھ کچھ فیض سے بھی ، مگر وہ مجاز جیسا والہانہ پن اور ہجر کی تڑپ اپنی شاعری میں پیدا نہیں کر سکے۔

پروفیسر احتشام حسین نے لکھا ہے کہ:"اختر طالب علمی کے دور میں بڑی دلفریب رومانی نظمیں لکھتے تھے۔ دوسرے نئے شعراء کی مانند وہ بھی انقلاب کی طرف آئے۔وہ ترقی پسند شعراء میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں مگر کچھ لوگوں کو ان میں اس زور کی کمی نظر آتی ہے جو سیاسی مسائل پر لکھے گئے۔”

ان کی رومانیت کلاسیکی غزل کی اردو روایت کا نئے انداز سے اظہار ہے۔ انہوں نے اپنی شعری تراکیب، استعارات اور لفظیات وضع نہیں کیے۔ انہوں نے ہیئت کے بھی تجربے نہیں کیے۔ صرف رومانی ذہن اور رومانیت شاعری کو مقبولیت عطا نہیں کر سکتی، اس کا کچھ پس منظر بھی ہونا چاہیے۔ ہاں! لہجہ کی روانی، سادگی اور سلاست یہ بتاتی ہے کہ ان کے دل میں کوئی جذبہ تو ہے جو بار بار کروٹیں لیتا ہے مگر بیدار نہیں ہو پاتا۔ ایک انگارہ تو ہے مگر شعلہ بن نہیں پاتا۔ بلا شبہ جاں نثار اختر کا اردو شاعری میں جو مقام ہے وہ آفتاب نیم روز کی طرح واضح ہے۔ وہ ایک صاف ستھرے مزاج اور زبان کے شاعر ہیں۔

Advertisements