Advertisement

سلطان محمد قلی قطب شاہ (1565-1611ء) براعظم ایشیا کا پہلا بادشاہ ہے جس نے ہندوستانی لباس اختیار کیا۔ اس کے زمانے میں گولکنڈہ شہر اپنے تہذیبی اور ادبی عروج پر تھا، جہاں چہارمینار کی عمارتیں تعمیر کرائیں وہیں اس نے حیدر آباد کو آباد کیا۔ کتب خانے اور نہریں بنوائیں۔ پر امن دور کے باعث ہر مذہب و ملت کے تہوار بڑی شان سے منائے جاتے تھے۔ ان تقریبات کے لیے سلطان خود بھی نظمیں لکھتا تھا۔ اس کے کلیات کے مطالعہ سے اس کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

Advertisement

قلی قطب شاہ اردو زبان کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہے۔ اس نے اپنی زندگی میں 50 ہزار سے زائد اشعار کہے۔ وہ اپنے خیالات و جذبات کو اردو ہی میں ادا کرتا تھا۔ اس کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے جمیل جالبی کہتے ہیں:

Advertisement

“محمد قلی قطب شاہ دکن کے عوام کی مشترک زبان میں خواص کی روایت کو ایک ایسی عوامی سطح پر لے آتا ہے جہاں عوام و خواص دونوں فکر و اظہار میں ہم آہنگ ہوں جاتے ہیں۔ اس نے کثرت سے ایسی نظمیں لکھیں جو عوامی شاعری سے تعلق رکھتی ہیں۔محمد قلی قطب شاہ کے گیت آج بھی حیدرآباد دکن کی عورتوں کی زبان پر چڑھے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ فارسی روایات کی پیروی میں جو خواص کی روایت تھی، اس نے نہ صرف فارسی اصناف سخن، بحور و اوزان کو اپنایا بلکہ موضوعات، تلمیحات و اشارات کو بھی اپنی شاعری میں سمو دیا۔”

قلی قطب شاہ کوہر صنف سخن پر قدرت حاصل تھی۔ اس طرح اس نے صرف ادبی موضوعات پر طبع آزمائی نہیں کی بلکہ اہم اور غیر اہم ہر موضوعات پر شعر کہے۔ بقول جمیل جالبی “اس کی کلیات کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس دور کا “تخیلی معمار” تھا۔ اس نے جن موضوعات پر خصوصی توجہ کی وہ مذہب اور عشق ہیں۔ مذہب نے اسے اقتدار بخشا اور عشق سے اس نے سرور و کیف حاصل کیا۔ اس طرح اس کے یہاں دونوں موضوعات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ بطور نمونہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں جن سے اس کے اندازِ سخن کا پتہ چلتا ہے:

Advertisement

صدقے نبی کے قطب شہ

جم جم کرو مولود تم

Advertisement
حیدر کی برکت تھی سدا
جگ اپر فرماں کرو
دعائے اماماں تھی منخ راج قائم
خدا زندگی کا پانی پلایا

عشق کے موضوعات پر اس نے جو اشعار کہے ہیں ان میں محبوب کے بجائے “پیاری” کا لفظ برتا ہے۔ وہ ننھی ہے، سانولی ہے، چھیلی ہے، ان سب کا تعلق خالص ہندوستانی ماحول سے ہے۔ اسی کے ساتھ ان میں لذت پرستی کا احساس کروٹیں لیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ ایک شعر دیکھئے جس سے اس موضوع پر اس کے اظہار کا پتہ چلتا ہے؀

تو دوری ڈر اوے منجے دور تھی
وہ کیا بوجھے مو دل میں ہے تو نگر

اس قسم کے اشعار میں جسم سے جسم ملنے والی بات پائی جاتی ہے۔ جذبہ عشق کا ارتقا مفقود ہے۔ اس طرح کی اس کی شاعری کا جمالیاتی پہلو ہندوانہ رنگ میں رنگا ہوا ہے۔اسی باعث اس کی غزلیں ہندی گیت کی طرح ایک جذبے اور موڈ کی ترجمانی کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ بایں ہمہ اس کی غزل میں وہ گہرائی نہیں ملتی جس سے دقیع اور عظیم ادب ظہور میں آتا ہے۔ یعنی اس کی شاعری میں جزبے کی آمیزش تو ملتی ہے لیکن وہ فنّی شعور نہیں ملتا جس سے غزل، غزل بنتی ہے۔ لیکن 400 سال پرانی شاعری کا بہترین نمونہ ہونے کے باعث اس کی تاریخی اور تہذیبی حیثیت برقرار ہے۔ ذیل میں اس کی شاعری کے کچھ نمونے دیکھیے ان کا تعلق شالگرہ سے متعلق ایک مثنوی سے ہے۔ کہتا ہے؀

Advertisement
نبی کی دعا تھے برس کا گانٹھ پایا
خوشیاں کی خبر کے دما مے بچایا
پیا ہوں میں حضرت کے ہیت آب کوثر
تو شاہاں اپر مجھ کلس کو بنایا 
خدا کی رضا سوں برس گانٹھ آیا
سہی شکر توں برس گانٹھ پایا

Quiz On Quli Qutub Shah

محمد قلی قطب شاہ | Quli Qutub Shah Biography In Urdu 1