عرفان صدیقی

"شمعِ تنہا کی طرح، صبح کے تارے جیسے

شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے”

بیشک عرفان احمد صدیقی جیسی شخصیت اور شاعری کہنے کی قابلیت بہت کم لوگوں میں ہوگی۔ وہ اردو ادب کے بہترین شاعر گزرے ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۹۳۹ میں اترپردیش کے شہر بدایوں میں ہوئی۔ ان کے والد محترم سلمان احمد ہلالی کا شمار اردو کے شیریں گفتار شاعروں میں ہوتا تھا۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کے والد نے شاعری سے اپنا رشتہ ختم کر لیا اور نعت گوئی سے وابستہ ہو کر رہے۔ عرفان کے بڑے بھائی نیاز بدایونی، اور انکے قریبی رشتہ دار محشر بدایونی اور دلاور فگار کا تعلق بھی اردو ادب وفن سے تھا۔

ان کا خاندان دو اقسام میں بٹا تھا، ایک ادبی اور دوسرا مذہبی کیونکہ ان کے آباواجداد کے روزگار کا معاملہ مذہب سے جڑا تھا۔ اس طرح عرفان کا بچپن شاعری، تصوف اور مذہب میں گھرا ہوا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ساری چیزیں کم عمری سے ہی ان کی ذات کا حصہ بن گئی۔ البتہ عرفان اپنے اردو ادب سے تعلق کی وجہ اپنی والدہ کو بتاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اردو کی جتنی بھی بنیادی کتابیں پڑھی وہ اپنی والدہ کی وجہ سے ہی پڑھیں کیونکہ وہ عرفان کے لیے کتابیں منگواتی تھیں،خود بھی پڑھتی تھیں اور انھیں بھی پڑھاتی تھیں۔

عرفان نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم- اے کی تعلیم مکمل کی۔ بعدازاں ۱۹٦۲ میں دہلی کے وزراتِ اطلاعات ونشریات سے جڑے۔ ۱۹۷٤ میں ان کا ٹرانسفر دہلی سے لکھنؤ ہوگیا اور ۱۹۹۷ میں بطور ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن آفیسر ملازمت سے بری الذمہ ہوئے۔

عرفان صدیقی کی شاعری کے پانچ مجموعات ہیں۔ ۱۹۷۸ میں کینوس، ۱۹۸٤ میں شب درمیاں، ۱۹۹۲ میں سات سماوات، ۱۹۹۷ میں عشق نامہ اور ۱۹۹۸ میں ہوائے دشتِ ماریہ کی اشاعت ہوئی۔ ۱۹۹۹ میں انکے پہلے چار کلیات دریا کے نام سے پاکستان میں جاری ہوئے۔

شاعری کے علاوہ عرفان ایک عمدہ مترجم بھی تھے۔  انھوں نے کالی داس کی کتاب رتوسمہارم کی نظم رتھ سنگھار اور ان کے ڈرامے مالویکا اگنی متر کا سنسکرت سے براہِ راست اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ انھوں نے عوامی ترسیل، رابطہ عامہ اور عرب کے ناول نگار ‘محمد شکری’ کی سوانحی ناول روٹی کی خاطر کا بھی ترجمہ کیا تھا۔ انھوں نے تبلیغ کے موضوع پر تین کتابیں تصنیف کی۔ اس کے علاوہ سن ۱۱۰۰ سے ۱۸۵۰ کے اردو ادب کا جامع انتخاب بھی کیا جسے ساہتیہ اکیڈمی سے جاری کیا گیا۔ ۱۹۹۸ میں انھیں اترپردیش حکومت کی جانب سے میر اکادمی کے اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

۲۰۰٤ میں عرفان صدیقی نے لکھنؤ شہر میں اپنی آخری سانسیں لیں۔ انکی شاعری کے کمالات کو ہر اہم مبصرین نے قبول کیا ہے۔ ان کی شاعری نے اردو ادب و شاعری کو کربلائی استعارات و نشانات سے نوازا ہے۔ جس کی موجودہ دور کے سیاق میں بڑی اہمیت ہے اور ہر بدلتے دور کے ساتھ ان کی شاعری کے مختلف حصے اپنا نیا پہلو ظاہر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

"مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی۔ ”

Written by Tehreem Shaikh

Close