Advertisement

قصیدہ نگاری اردو شاعری کی ایسی ایک مستقل صنف سخن ہے جو سخت اور پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایک قصیدہ گو کی کمال مہارت، جولائی طبع، حسین مرصع کاری اور پر جوش صنعتوں کا کیسا استعمال ہوا ہے ،واضح کرتی ہے۔ان اوصاف بالا میں جو شاعر کمال ہنر اور مکمل دسترس رکھے گا وہی ایک کامیاب قصیدہ گو  اور قصیدہ گوئی کا بے تاج بادشاہ کہہ لائے گا کیونکہ یہی جدت بیانی، سلاست الفاظ، نغمگی اور موسیقیت کا صحیح اور بر وقت استعمال شاعر کو بلندی پر لے جاتا ہے اور یہی اوصاف بالا شاعر کی شعر گوئ ذوق اور شعر فہمی  میں سخت گرفت کی نشان دِھی بھی کرتے ہیں

Advertisement

شیخ ابراھیم ذوق کی قصیدہ نگاری میں کچھ ایسی ہی حیثیت پائ جاتی ہے جس نے ذوق کو اس بلندی پر لا کھڑا کیا جب کہ ان سے پہلے سودا اس میدان کے بے تاج بادشاہ رہ چکے ہیں جو واقعی قصیدہ نگاری میں مرتبہ کے لحاظ سے اول درجہ پر فائز ہیں پر ذوق نے ان کے پیچھے رہ گیے ورثے سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے "میری مراد سودا،مومن وغیرہ کی شاعری ” ہے اور پھر اس کو ایسےحسین پر شکبہ لہجے میں ڈاھل کر پیش کیا کہ قصیدہ نگاری کی دنیا میں تہلکا مچا دیا اور اسی قصیدہ نگاری میں ذوق نے رونق الفاظ، جدید مرصع کاری اور تراکیب کے بہترین امتزاج سے وہ کام لیا جو ان کے بعد کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا جسے قاری پڑھکر اور سامع سن کر محظوظیت کی دنیا میں خود کو گم پاتے ہیں

Advertisement

ذوق نے اپنی قصیدہ نگاری کو دربار سے وابسطہ رکھا اور عمر کا اکثر حصہ اسی فصیل میں گذارا اس لیے  سب جانتے ہیں کہ ذوق کے قصیدوں کا موضوع درباری مداحی رہا ہے جہاں اکبر شاہ ثانی کی مداح کی ہے وہیں بہادر شاہ ظفر کے استاذ اور ان کی مدح میں بہت سے قصائد بھی لکھے اور انہی کے دربار سے اپنی شاعری کو ملحق بھی رکھا صحیح معنوں میں ذوق کے قصیدوں کا اصل الحاق و التفات بہادر شاہ ظفر سے ہی جڑا رہا ۔۔

Advertisement

١٩ سال کی عمر میں ذوق نے قصیدہ گوئی میں وہ مہارت اور قدرت کلامی حاصل کر لی کہ کئی لوگ ان کو استاذ تسلیم کرنے لگے  ذوق نے اسی عمر میں اکبر شاہ ثانی کے دربار میں ایک قصیدہ پڑھا جس کا مطلع یہ تھا


جبکہ سرطان و اسد مہر کا ٹہرا مسکن
آبے   وایلولہ   ہوئے نشو و نمائے  گلشن

Advertisement

جب یہ قصیدہ   اکبر شاہ ثانی نے سنا تو اتنا خوش ہوا کہ ذوق کو خاقانئی ھند کا خطاب عطا کیا اور نوازشات سے نوازا۔۔

حوالہ(قصائد ذوق،مرتبہ،ڈاکٹر شاہ محمد سلیمان ،صفحہ3)

Advertisement

ذوق ایک باکمال قصیدہ گو ہیں جن کے یہاں منظر نگاری، پر شکوہ الفاظ، جدید صنعتیں اور اس کے ساتھ ہی قصیدہ کے اجزاء ترکیبی میں ایک خاص توازن بر قرار رکھنا بھی شامل ہے ،جس طرح غالب نے اپنی تشبیب میں لطافت اور حسین دلکشی کو ملحوظِ خاطر رکھا وہی ذوق نے بھی اپنی تشبیب میں بڑی صناعی اور فنکارانہ صلاحیت کا شاندار مظاہرہ کیا ہے کوئ شاعر کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو جائے پر کچھ نہ کچھ نقص اور کہیں نہ کہیں عبارت سے حساس قاری و سامع یہ محسوس کر ہی لیتے ہیں کہ یہاں کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی ہو ئی ہے جو کلام میں ایک دھندلا پن پیدا کر رہی کچھ یہی معاملہ ذوق کا بھی ہے اور اس کا سبب کثرت مبالغہ ہے پر توازن کی بات کریں تو ان کی تشبیبوں میں غضب کا حسن پایا جاتا ہے اور یہ سبب ہے کثرت مبالغہ سے پرھیز کا ۔۔

مرزا ابو ظفر نے جب بہادر شاہ ظفر کا تخلص اختیار کیا تو اس وقت  ذوق نے ان کی تہنیت میں ذیل کا مطلع لکھا،

Advertisement

روشن ہوئے ترے رخ سے کیا نور سحر رنگ شفق
ہے    ذرہ       ترا     پرتوہ   نور  سحر  رنگ شفق

ذوق کے قصائد کےمطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ ذوق کی قلم کاری خود ایک سحر کاری ہے جو ان کے اشعار میں جا بجا بکھری ہوئ ہے

Advertisement

اب اگر ذوق کے طنز کی بات کریں تو ذوق کی طبیعت اس کی طرف حتی الامکان مائل نہیں رہی پر جب کسی کو فخریہ طور پر کچھ بیان کرتے ہوئے دیکھتے تو ضرور اسی ڈھنگ میں کچھ نہ کچھ لکھ کر جواب ضرور دیا کرتے تھے کیونکہ وہ خود کو بھی کچھ نہ کچھ ضرور سمھتے ہی تھے ایک مرتبہ مرزا غالب نے مرزا جواں بخت کی شادی کا سہرا لکھا جس کا مقطع طنز آمیز تھا

ہم سخن  فہم   ہیں   غالب   کے   طرفدار   نہیں
دیکھیں  اس سہرے سے کہدے کوئ بڑھکر سہرا

Advertisement

ذوق نے جب سنا تو فورا اسی روز اسی کے ہم مثل دریف و قافیہ شعر میں ڈھال کر اس کا بہتر جواب عنایت کر دیا وہ شعر یہ تھا کہ

جس کو دعوی ہو سخن کا یہ سنا دو اس کو
دیکھ  اس  طرح   کہتے  ہیں   سخنور  سہرا

Advertisement

گویا  یہ غالب صاحب کے شعر کا ایک بہترین جواب تھا جو شاید ذوق کے سوا کوئ اس طرح بہتر انداز میں دے پاتا۔۔۔۔

ذوق نے جولانئ طبع اور خدا داد ذہنی قوت سے اپنی شاعری کو لعل و  گوہر  اور لؤلؤ مرجان جیسی بیش قیمتی مرصع کاری سے سجایا اور  انہی سے اپنے کلام کو عمدہ  زینت بخشی۔۔

Advertisement

ذوق کی ولادت دلی میں ہوئ تھی اس لیے ان کو دوسرے صوبوں یا علاقوں سے دلی کے مقابل کم محبت و انسیت تھی اسی لیے نہ دیوان صاحب جنہوں نے دکن سے ذوق کے لیے بلاوا بھیجا تھا ان کی خلعت اور پیسوں کو قبول کیا اور نا ہی ان کے اصرار پر دکن کا رخ کیا ،ایک شعر میں دلی سے اپنی محبت کو ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

Advertisement

 آجکل گر چہ دکن میں ہے بڑی قدرے سخن
کون جائے ذوق  پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر

ذوق نے جتنے بھی قصیدے لکھے وہ صرف واہ واہ کی نوازشات پر ہی ختم نہیں ہوئے بلکہ کہیں خلعت تو کہیں خطاب سے نوازا گیا۔۔۔

Advertisement

ذوق کے سارے قصیدے اردو شاعری کا بہترین سرمایہ ہیں

Advertisement

کلیم الدین احمد ذوق کی قصیدہ نگاری پہ بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "ذوق نے بھی قصیدے نہایت اہتمام و کاوش سے لکھے ہیں اور ہر قصیدے کا رنگ جدا ہے،ہر قصیدے میں ایک نئی بات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے”۔۔

Advertisement

کلیم الدین احمد جیسے سانٹفک نقاد جو شاعر اور شاعری کا آپریشن کرنا اچھے سے جانتے ہیں اتنے اچھے الفاظ اور لب لہجہ میں ذوق کو داد دیتے ہوئے نظر آتے ہیں وجہ صرف ذوق کی ذوقیہ طبیعت اور شوقیہ فطرت کا بہتر کمال ہے جس نے کلیم الدین احمد جیسے بت شکن نقاد سے لفظوں کے نشتر کی جگہ محبت کے پھول لے لیے۔۔۔۔

ذوق کے قصائد میں لطافت،سلاست، شیریں الفاظ، تصنع و بناوٹ ایک ایسی طاقتور سمندر کی موج کی طرح ہے جس کے سامنے کوئ نہیں ٹک پاتا یہی ذوق کی کمال مہارت ہے۔۔۔۔

Advertisement

اس لئے ذوق کے قصائد میں روانی،سلاست،نغمگی اور موسقیت سودا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ البتہ فن کے لحاظ سے سودا کو ذوق پر برتری حاصل ہے۔ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ سودا کے قصائد فنی اعتبار سے نقشِ اول ہیں اور ذوق کے قصائد نقشِ دوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اب آخر میں فراق گورکھپوری کی رائے پر اپنی بات ختم کرتا ہوں وہ لکھتے ہیں کہ "ذوق کے کلام میں اردو نے اپنے آپ کو پایا ، روایتی باتوں کو اتنی سنوری ہوئی اور مکمل شکل میں پیش کر دینا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے آسانی کے ساتھ بھلایا نہیں جا سکتا”

Advertisement

١٨۵۴ میں ذوق کا دہلی میں انتقال ہوا تو گویا اردو شاعری نے اپنی کائنات میں چکمتے ہوئے ستارے کو سوئے عدم روانہ کردیا جن کے قصائد رہتی دنیا تک بشکل کتاب ہاتھوں کی اور بشکل الفاظ لوگوں کے لبوں کی زینت بنتے رہیں گے جو ان کے مقام و مرتبہ کو بڑھاتے رہیں گے

Advertisement

Advertisement

Advertisement