تعارف

اردو کے ادیب، صحافی، ماہر تعلیم ،شاعر اور دانشور جناب آفتاب اقبال شمیم 16 فروری 1936ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔گورڈن کالج میں آفتاب صاحب کی کلاسوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ ایک دن اچانک وہ چین چلے گئے۔ جہاں بیجنگ یونیورسٹی میں انہوں نے اردو کی کلاسز کا اجرا کیا تھا۔

ادبی زندگی

آفتاب اقبال شمیم کا بچپن جہلم میں گزرا۔ ان کے والد بھی شاعر تھے لیکن محفلوں سے دور رہتے تھے۔ آفتاب صاحب نے گوشہ گیری کا وصف اپنے والد سے سیکھا۔ ان کی شاعری میں دریائے جہلم کا ذکر ایک توانا استعارے کے طور پر آتا ہے۔ آفتاب اقبال کی کچھ نظموں میں ناسٹیلجیا اپنا جادو دکھاتا ہے خاص طور پر جب وہ اپنے بچپن، لڑکپن اور جوانی کے بیتے دنوں کو یاد کرتے ہیں جو بچپن سے اب تک ایک نامولود دنیا کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

آفتاب اقبال شمیم نے روایت کے تخلیقی انجذاب کو اہمیت دی ہے لیکن روایتی ہیئتوں، لفظیات اور تکنیکوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ تقریباً تمام نظمیں Run on line کی تکنیک میں ہیں۔ جس میں شعور کی رو، داخلی خود کلامی، مکالمہ، کولاژ، اساطیری علامات و استعارات، عصری آگہی کی حامل مثالیں اور شعریت سے بھر پور نثری آہنگ ان کے منفرد اسلوب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آفتاب اقبال شمیم کی نظموں میں تنوع نظم کی داخلی ساخت کے ساتھ نوع بہ نوع تجربات و احساسات کے بیان سے پیدا ہوتا ہے۔ منفرد احساسات کے اظہار کے لیے وہ عموماً ایسی لفظیات کا انتخاب کرتے ہیں جو آزاد نظم کی روایت سے آگاہ قاری کے لیے بھی نامانوس ہیں۔ ان نظموں کا یہی انفراد قاری اور متن کے درمیان ایک ایسی دھند پیدا کرتا ہے جو ابہام کا باعث بنتی ہے۔ آفتاب اقبال شمیم کی شاعری ایک نا آفریدہ دنیا کی تلاش ہے۔

آفتاب صاحب کی شاعری میں فن اور نظریہ گھل مل کر اس کے آمیزے کو دو آتشہ کرتے ہیں۔ وہ دکھ کے زرد قبیلے سے خون کے رشتے جڑے ہوئے ہیں جو نہ جانے کب سے صبحِ فردا کی تلاش میں ہے۔ شاید کچھ لوگ ایک نیم آفریدہ دنیا میں پیدا ہوتے ہیں، ایک نامکمل منظر کی نامکمل شناخت کرنے کے لیے، اور ان کی ساری زندگی اسرار کے سمندر میں تیرتے ،اوجھل ہوتے اور ابھرتے ہوئے جزیروں کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔ آفتاب اقبال شمیم کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ آفتاب اقبال شمیم کا شمار جدید نظم گو شعرا میں ہوتا ہے، جو فکری طور پر ترقی پسندی کے چلن کو عزیز رکھتے ہیں۔ وہ نظم نگاروں کی اس پیڑھی سے متعلق ہیں جو ن-م راشد، میراجی ، مجید امجد، ضیا جالندھری کے فوراً بعد ادبی منظر نامے پر نمایاں ہوئی۔

ان کی کلیات (نادر یافتہ) : نادر یافتہ میں ’’فردا نژاد‘‘،’’زید سے مکالمہ‘‘،’’گم سمندر‘‘،’’میں نظم لکھتا ہوں‘‘ اور ’’ممنوعہ مسافتیں‘‘ کے علاوہ ’’سایہ نورد‘‘ کی نظمیں بھی شامل ہیں۔ آفتاب اقبال شمیم کا یہ کلیات نظم نگار سعید احمد نے مرتب کرتے وقت ’’نادر یافتہ‘‘ کے آغاز میں ایک بھر پور ابتدائیہ لکھا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’ وقت اس عظیم شاعر کا نام آزاد نظم کے صف اول کے دوتین ناموں کے ساتھ درج کر چکا ہے۔‘‘

تصانیف

افتاب اقبال شمشم کی تصانیف میں زید سے مکالمہ،
فردنژاد،
گم سمندر،
سایہ نورد
کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

اعزازات

حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2005ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ آپ اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔

منتخب کلام

آفتاب اقبال شمیم کی خوبصورت غزل؀

آفتاب اقبال شمشم کی ایک اور نظم مندرجہ ذیل ہے۔

الف انا کو کاٹ دیا
اپنے سائے پر اوندھا گرنے والا
میں تھا لیکن کیا کرتا
میرے شہر کی ساری گلیاں
بند بھی تھیں متوازی بھی
تختیاں ہر دروازے پر
ایک ہی نام کی لٹکی تھیں
میں کیا کرتا
شہر کے گردا گرد سدھائے فتووں کی دیواریں تھیں
کوہ شمائل دیواریں
جن سے باہر صرف جنازوں کے جانے کا رستہ تھا
(آفتاب اقبال شمیم)

Quiz on Aftab Iqbal Shameem

آفتاب اقبال شمیم 1
Advertisements