تعارف

امیر مینائی کا پورا نام امیر احمد مینائی ہے۔ آپ لکھنؤ کے ایک دینی و علمی خانوادے میں سن ۱۸۲۹ء میں پیدا ہوئے۔ آپ مولوی کرم محمد کے بیٹے تھے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ آپ نے طب، لسانیات، تصّوف، فلسفہ، فِقہ، مَنطق، تاریخ، موسیقی، ریاضی اور قانون کے علوم حاصل کئے۔ آپ کا شمار بڑے علماء میں کیا جاتا ہے۔ آپ کو اردو ، فارسی اور عربی زبان پر عبور حاصل تھا۔ آپ کا تخلص امیر ہے۔ آپ نے شاعری کے لیے اسیر لکھنوی کی شاگردی اختیار کی۔

ادبی زندگی

امیر احمد مینائی نے حمد ، نعت ، مثنوی ، قصیدے اور غزل میں اظہارِ خیال کیا مگر آپ کی خاص وجہِ شہرت نعتیہ شاعری ہے۔ آپ کی شاعری عوام میں بہت مقبول ہے۔

تصانیف

آپ کی چند مشہور تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :

  • انتخابِ یادگار
  • صنم خانہ عشق
  • امیر اللغات
  • مراۃ الغیب
  • مینائے سخن
  • خیابانِ آفرینش
  • محامد خاتم النبیین

آخری ایام

امیر احمد مینائی اپنی کتاب امیر اللغات کی اشاعت کے لیے حیدرآباد (دکن) گئے اور وہیں سن ۱۹۰۰ء میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اس طرح تاریخِ نعت گوئی کی عظیم شخصیت ہم سے جدا ہوگئی۔

ان کی کتاب محامد خاتم النبیین سے ماخوذ کی گئی امیر مینائی کی لکھی گئی ایک نعت درج ذیل ہے :

  • خلق کے سرور ……. شافع ِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم
  • مرسلِ داور ……… خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم
  • نورِ مجسم … نیرِ اعظم …..سرورِ عالم ،مونس آدم
  • نوح کے ہمدم…. خضر کے رہبر صلی اللہ علیہ وسلم
  • بحر ِ سخاوت ، کانِ مروت، آیۂ رحمت ، شافعِ امت
  • مالکِ جنت…. قاسم ِ کوثر……صلی اللہ علیہ وسلم
  • دولتِ دنیا خاک برابر…ہاتھ کے خالی دل کے تونگر
  • مالکِ کشور…… تخت نہ افسر….صلی اللہ علیہ وسلم
  • رہبر ِ موسی … ہادیٔ عیسی …تارکِ دنیا … مالکِ عقبی
  • ہاتھ کا تکیہ….خاک کا بستر……صلی اللہ علیہ وسلم
  • مہر سے مملو ریشہ ریشہ…….. نعت امیرؔ ہے اپنا پیشہ
  • وِرد ہمیشہ دن بھر… شب بھر….صلی اللہ علیہ وسلم

امیر مینائی کی لکھی گئی غزل پیشِ نظر ہے :

Quiz on Ameer Minai

امیر مینائی 1
Advertisements