تعارف

پرائڈ آف پرفارمنس سمیت کئی ایورڈ حاصل کرنے والے امجد اسلام امجد ایک انتہائی کامیاب شخصیت ہیں، انہوں نے جو سوچا وہ کر دکھایا، وہ عزم، ہمت اور عمل کے پیکر ہیں۔ اتنی لگن اور محنت سے کام کرتے ہیں کہ نا ممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں، لوگ جن راہوں کو خارزاد سمجھ کر انہیں ان پر چلنے سے روکتے ہیں، وہ انہی پر چلتے ہیں اور انہیں گلزار بنا لیتے ہیں، اس طرح منزلیں ان کی راہ میں آنکھیں بچھا رکھتی ہیں۔ امجد اسلام امجد نے زمین پر تو صرف آٹھ دہائیاں گزاری ہیں لیکن ان کا ذہنی اور تخلیقی سفر سات صدیوں کا سفر ہے۔ ۴ اگست ۱۹۴۴ء کو امجد اسلام امجد لاہور میں پیدا ہوئے۔

ادبی سفر

مسلم ماڈل سکول سے میٹرک کیا، نویں جماعت میں وہاں کے رسالے’’نشانِ منزل‘‘ کے ایڈیٹر بنے۔ فرسٹ ائیر میں ان کی چیزیں مختلف جرائد میں چھپنا شروع ہو گئیں۔ امجد  نے انٹر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے کیا۔ تب تک کرکٹ میں بہت دلچسپی رکھتے تھے، بی اے اسلامیہ کالج سول لائینز اور ایم اے پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج سے کیا۔ وہاں ابھی پڑھنا شروع کیا تھا کہ ستمبر کی جنگ شروع ہوگئی، اس پر امجد اسلام امجد نے ایک نظم لکھی جو احمد ندیم قاسمی کے پرچے ’’فنون‘‘ میں چھپی۔ یہ شاعری میں ان کی اہم پیشرفت تھی۔

آپ پنجاب یونیورسٹی لٹریری سو سائٹی کے چئیرمین اور یونیورسٹی کے رسالے’’محور‘‘ کے چیف ایڈیٹر بنے۔ وہاں سےنکلے تو ایم اے او کالج میں لیکچرشپ جوائن کی۔ اس کے بعد 1975 میں پنجاب آرٹ کونسل بنی تو اس میں انہیں ڈیپورٹیشن پرڈپٹی ڈائریکٹر ڈرامیٹک بنا کر بھیجا گیا، وہاں انہوں نے چار سال کام کیا پھر واپس ایجوکیشن میں چلے گئے۔ 1997ء میں ڈائریکٹرجنرل اردو سائنس بورڈ بن گئے، وہاں تین سال کام کیا۔

محبت ، خواب ، شہر دل ، خیال ، رنج وملال ، امید پیہم کی راہ گزر سے گزرنے والی یہ نابغہ روزگار ہستی آج بھی سخن سرا ہے اور ہماری تہذیب کے استعاروں کو نئی راہیں دکھا رہی ہے۔ شعرو سخن کے عہد کی بات کریں تو ہم واقعی عہدِ امجد میں جی رہے ہیں کیونکہ امجد اسلام امجدکا تعارف صرف نظمیں او ر غزلیں ہی نہیں بلکہ چشم کشا کالم اور معرکتہ الآرا ڈرامے بھی ہیں ،جنہوں نے ایک عالم کو اپنا اسیر بنائے رکھا۔

امجد کی شاعری میں استعارے خواب، چھاؤں، عکس، سائے، سفر کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ یہ استعارے زندگی کی سجی ہوئی انجمن کو خواب اور تنہائی میں جاگتی آنکھوں کے خواب میں بدل دیتے ہیں لیکن کچھ ایسا حتیاط سے کہ زندگی کی گریز پائی بے سمت اور بے جہت نہیں بلکہ ارتقا پذیر ہو۔ وہ ہمہ وقت شاعر بھی، ڈرامہ نگار بھی، نثرنگار بھی ہیں جن کی مطبوعہ کتابوں کی تعداد 45 ہے اور ابھی دس کتابیں زیر طبع ہیں۔

اعزازت

جن کو ستارہ امتیاز سے لے کر آخری ایوارڈ سمیت چودہ ایوارڈ حاصل ہوئے اور پندرہواں ایوارڈ شاید یا تو ابھی طے نہیں پایا ہے یا اس لائق نہیں کہ امجد تک پہنچ سکے۔

تصانیف

  • ان کی مشہور تصانیف میں
  • برزخ،
  • بارش کی آواز،
  • عکس،
  • گیت ہمارے،
  • فشار،
  • دہلیز،
  • باتیں کرتے دن،
  • کالے لوگوں کی روشن نظمیں،
  • ہم اس کے ہیں،
  • پھر یوں ہوا،
  • پس گفتگو،
  • محبت ایسا دریا ہے،
  • میرے بھی ہیں کچھ خواب،
  • تیرے دھیان کی تیز ہوا،
  • ساتواں در،سپنے بات نہیں کرتے،
  • سحرآثار،
  • وارث،
  • یہیں کہیں اور
  • ذرا پھر سے کہنا چند ایک ہیں۔

ہمیں خوشی ہے کہ امجد اسلام امجد جیسا کوہ نور کا ہیرا ہم میں زندہ موجود ہے۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور وہ اپنے چاہنے والوں کے لئے اور بہت سی کتابیں لکھیں۔

منتخب کلام

امجد اسلام امجد کی غزل درج ذیل ہے۔

امجد اسلام امجد کی مشہور و مقبول نظم

گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے
سہیلیوں کو لیے اترتی
تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
کچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیا
اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو
وہ اپنے رستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتی
تمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیں
بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں
میں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لیے بنی ہوں
وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی
جو راہ چلتی تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
وہ کل ملی تو اسی طرح تھی
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
کہ جیسے چاندی پگھل رہی ہو
مگر جو بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھی
کہ جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو

Quiz on Amjad Islam

امجد اسلام امجد 1
Advertisements