تعارف

آرزو لکھنوی کا پورا نام انور حسین آرزو لکھنوی تھا۔ وہ ۱۸۷۲ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ وہ دبستانِ لکھنؤ کے ایک اہم نمائندے تھے۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی سادگی اور سلاست ہے۔ وہ لکھنؤ کے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کا اوڑھنا بچھونا شاعری تھا۔

ادبی زندگی

نو عمری میں شعر کہنے لگے اور آرزوؔ تخلص اختیار کیا۔ غزل کے ساتھ فلم کے لیے گیت نگاری بھی کی اور اسی عرصے میں ریڈیو کے لیے چند ڈرامے اور فلموں کے مکالمے بھی لکھے۔ تاہم ان کی وجہِ شہرت شاعری اور خاص طور پر غزل گوئی ہے۔ ان کے بھائی میر یوسف حسین اور والد میر ذاکر حسین بھی شاعر تھے۔ لیکن آرزو لکھنوی کا شعری اسلوب ان دونوں سے جدا تھا۔ اپنے والد کی طرح وہ بھی جلال لکھنوی کے شاگرد تھے۔ اپنی شاعری کے حوالے سے انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ میر اور غالب کے اثرات سے بچ نہیں سکے لیکن اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ ان سے مختلف کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے ہم عصروں، جن میں داغ دہلوی بھی شامل تھے، سے بھی کچھ الگ نظر آنا چاہتے تھے۔

علامہ آرزو لکھنوی بچپن سے ہی قادر الکلام شاعر تھے۔ کم عمری میں ہی ایک استاد نے ان کو ایک مصرعہ دے کر چیلنج کیا کہ اس طرح میں زلف کی رعایت کے بغیر دو دن کے اندر ایک شعر بھی کہہ دو تو ہم تمہیں شاعر مان لیں گے۔ انہوں نے دو دن تو کیا محض چند گھنٹوں میں گیارہ اشعار کی غزل کہہ کر سنا دی اور سب عش عش کر اٹھے۔

مکالمے

آرزو لکھنوی نے جن فلموں کے مکالمے لکھے ان میں اسٹریٹ سنگر، جوانی کی ریت، لگن، لالہ جی، روٹی، پرایا دھن اور دیگر شامل ہیں۔ اس زمانے میں کلکتہ فلم اور تھیٹر سے متعلق سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔  جہاں اس سلسلے میں آرزو نے بھی قیام کیا۔

تصانیف

انہوں ۲۵ ہزار غزلیں لکھیں اور سات دیوان مرتب کیے۔ ان کی مشہور تصانیف میں؛

  • عدل محمود،
  • آرزو لکھنوی،
  • داستان آرزو،
  • فغان آرزو،
  • غزلیات،
  • جہان آرزو،
  • متفرقات آرزو،
  • نشان آرزو،
  • نظام اردو،
  • سازحیات،
  • صبح اسلام اور
  • سریلی بانسری  قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

۱۹۵۰ء میں آرزوؔ لکھنوی پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی تھی۔ یہاں ایک دو مشاعروں میں شرکت بھی کی تھی اور پھر یہ یہاں آکر بیمار ہوگئے تھے اور اسی بیماری کی حالت میں کراچی ہی میں ۷۹ برس کی عمر میں  ۱۹۵۱ میں ان کا انتقال ہوا اور انھیں لیاقت آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس طرح ان کی موت سے فلمی شاعری کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

منتخب کلام

آرزو لکھنوی کی خوبصورت غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz on Arzo Lakhnavi

آرزو لکھنوی 1
Advertisements