تعارف

اردو ادب کو پڑوان چڑھانے میں لکھنؤ کا بہت بڑا تعاون رہا ہے اسی لکھنؤ سے مشہور ہونے والے اثر لکھنؤی بھی ادب کے ایک ستارے کی مانند چمک رہے ہیں۔ نواب مرزا جعفر علی خاں ان کا اصل نام اور اثر ان کا تخلص تھا۔ انھوں نے ۲۲ جنوری ۱۸۸۵ کو لکھنؤ کے معزز گھرانے میں آنکھ کھولی جو اپنی علمیت ،قابلیت اور زبان دانی کے لئے سارے لکھنؤ میں مشہور و ممتاز تھا۔

اثر لکھنؤی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی چنانچہ اردو اور فارسی گھر میں پڑھائی گئی۔عربی کے استاد سید محمد جعفری تھے لیکن اثر میزان منشعب سے آگے نہ پڑھ سکے کیونکہ اس کی گردان نے ان کے حواس بگاڑ دیئے تھے۔ خوش نویسی مرزا علی حسین نے سیکھائی اور شہسواری چارلی نامی ایک ایسے انگریز سے سیکھی جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا۔ انگریزی کی ابتدائی کتابیں ماسٹر عبدالحمید اور واجد حسین سے پڑھیں اور ۱۸۹٦ میں بہ عمر گیارہ سال جوبلی ہائی اسکول لکھنؤ کے درجہ ششم میں داخلہ لیا۔
انڑنس کا امتحان پاس کرکے کینگ کالج لکھنؤ میں داخل ہوئے اور وہیں سے بی اے پاس کیا۔

ادبی سفر

تنقید کا شعور اپنے چچا نواب دلاور حسین سے پایا۔ نواب جعفر علی خان صاحب ہمارے بزرگوں ان میں سے ہیں جن پر اردو ادب بجاطور پر ناز کر سکتا ہے، اثر صاحب کی ہمہ گیر طبیعت کا ثانی کسی اور کو نہیں پایا گیا۔ نظم، نثر ،تنقید یا لسانیات ہو ادب کی ان اصناف میں اثر صاحب کو سب پر عبور حاصل ہے۔ انھوں نے نصف صدی تک اردو ادب کی خدمت کے لئے کام کیا۔

اثر لکھنؤی کے فن اور شخصیت کا مطالعہ کئی حیثیتوں سے کیا جا سکتا ہے وہ ایک اچھے شاعر نقاد، محقق، مترجم، شعرفہم، صاحب زبان اور ضعدار، منکسرالمزاج انسان تھے۔ ان کی شخصیت کے ان مختلف پہلوؤں نے انہیں اپنے عہد کا ایک بیحد دلکش اور پرکشش انسان بنا دیا تھا۔ اثر لکھنؤی نے نہ صرف یہ کہ نئے پن میں اچھے اور برے کا امتیاز کیا اور ان خوبیوں کو قبول کیا جو جدید تحریکوں کی وجہ سے اردو شاعری اور ادب میں آرہی تھیں بلکہ زبان و بیان اور اظہار و اسلوب کی قدیم صحت مند روایات کو آگے بڑھانے کا کام کیا جس نے ان کو ایک تاریخی حیثیت بخش دی۔

اثر لکھنؤی کی یہ خصوصیت ہے کہ اپنے نظریئے زور دینے کے باوجود انہوں نے دوسری تنقیدی روایات سے استفادہ کیا ہے اور اپنے ادبی نتائج کے لیے زیادہ سائنٹفک راہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔اثر صاحب جن کے بغیر ایک زمانے میں محفل و ادب مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی اور ان کے شاگردوں سے مشاعرے بھرے ہوتے تھے۔ یہ بات کس قدر افسوس کی ہے کہ شمالی ہند اور خاص طور پر لکھنؤ میں کوئی ان کے ادبی کارناموں کو اجاگر کرنے والا نہ ان پر لکھنے والا نکلا۔ ایک انسان کی حیثیت سے اثر اپنے عصر کے بے حد ہر دلعزیز انسان تھے۔

تصانیف

  • اثر کی مشہور تصانیف میں
  • اثرستان،
  • بہاراں،
  • چھان بین،
  • فرہنگ اثر،
  • نغمئہ جاوید،
  • نوبہاراں،
  • رنگ بست،
  • عروس فطرت اور
  • انیس کی مرثیہ نگاری قابلِ ذکر ہیں۔

آخری ایام

اثر لکھنؤی کی زندگی کے آخری چار سال بے حد علالت میں گزرے۔ اکتوبر ۱۹٦۳ کو ان پر فالج کا پہلا حملہ ہوا بہت عرصہ تک بات کرنے میں دشواری محسوس کرتے تھے۔ پھر چند سالوں بعد اثر کے لئے پیغام اجل آگیا۔ یوں ۸۴ کی طبعی عمر کو پہنچ کر یہ روشن ستارہ ٦ جون ۱۹٦۷ کو لکھنؤ میں ہی غروب ہو گیا۔

اثر لکھنوی کا منتخب کلام مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements