تعارف

حضرت اشرف بیابانی اسلامی سال کے گیارہویں مہینے کی ۲ تاریخ کو پیدا ہوئے۔ ان کے گھر کا ماحول خالصتاً اسلامتی رسم و رواج کا تھا۔
انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد کی سرپرستی میں حاصل کی۔ شاہ اشرف کے آباء و اجداد کا تعلق سندھ سے تھا۔ آپ جنگلوں، بیابانوں میں رہنے کی وجہ سے بیابانی مشہور ہوئے۔

روحانیت

وہ اپنے والد کے نقش قدم پر جنگ میں جا کر عبادت میں مشغول رہتے اور مراقبے کرتے۔ ان کی اسی روحانیت سے فیض پانے کو زائرین کی بڑی تعداد ان کے یہاں آتی جن کے لنگر پانی کا انتظام وہ خود کیا کرتے تھے۔ لوگوں کے ہجوم کے آنے جانے سے اور عقیدت مندوں کی آمد پر وہ دلی خوشی و تسکین محسوس کرتے۔ تاریخ میں یہ باتیں بھی درج ہیں کہ حضرت اشرف بیابانی کے مقبرے کو ۲۰۰ برسوں بعد کھود کر ان کے تابوت کو نکالا گیا جس میں ان کا جسد خاکی بالکل ترو تازہ تھا اور ان کی دائیں ٹانگ مڑی ہوئی تھی۔ مزید یہ کہ دیکھتی آنکھوں نے یہ بات بھی دیکھا کہ ان کی قبر سے روشنایاں رونماں ہوئیں۔ یہ بات عقل کو دنگ کردینے کے لیے کافی ہے۔ گرد و نواع کے لوگ اشرف بیابانی کے بارے میں یہ بات کہتے تھے کہ وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے اور پیسوں کو پانی پلاتے تھے۔

شاعری

اشرف کی زبان قدیم وضع کی ہے۔ کچھ گجراتی و پنجابی لفظ بھی استعمال کیے ہیں۔ یہ الفاظ اس دور میں دکن میں مستعمل تھے۔

مشہور تصنیف

ان کی سب سے مشہور تصانیف میں "مثنوی نوسرہار” سب سے زیادہ مشہور و مقبول ہے۔ جس میں کربلا کے تمام واقعے کی دلسوز  تصویر کھینچی گئی ہے۔

آخری ایام

حضرت اشرف بیابانی کا انتقال ۹۳۵ ہجری میں ہوا۔ حضرت اشرف بیابانی (رح) کا مقبرہ ہندوستان کی ریاست ، مہاراشٹرا کے ضلع جالنا میں ایک میونسپل کونسل امباد شہر میں واقع ہے۔ ایک عقیدت مند محمد حسین نے حضرت ضیاء الدین بیابانی (رح) کی خواہش کے مطابق ان کی قبر پر مقبرہ تعمیر کیا۔ یہ دکن فنِ تعمیر کا ایک انوکھا نمونہ ہے۔ ان کے مقبرے کے قریب ایک نیم کا درخت بھی تھا۔

نمونہ کلام (مثنوی)

تیری تو میں سوں کھائیں
راجے کیرا جنوا آئی
بااللہ اب جا چھوڑوں گا
بیٹی اسکی لوڑوں گا
آج ہے راجا معاوی
ہووں اس کا جنوائی
وہ مجھ دے گا گھوڑے گانو
تو کیا کیجئے دوسری طانو
جوئے بچارے سنکر ڈر
چپ رہی یوں صبر پکڑ۔
یہ اٹھ صبح معوی پاس
آیا من میں پکڑ آس
آؤ کر کہیا یوں خوش ہوئے
میں جا چھوڑی گھر کی جوئے
جو کل پھر یا بعد از شام
زینب ہوئی مجھ حرام
تین طلاقاں اسکوں دی
تیری بیٹی کی ہو ساں دی
اتنا سن کہ معاوی
بازاں کہیا اسکوں بھی
سچی کہہ اے عبداللہ
لیکر اٹھا ہاں! بااللہ
بازاں معوی ہوا شاد
پائی جیو کی خواست مراد
کہ مجھ جو کچھ تھا مقصود
آپیں آپ ہو آیا زور
اتنے پہ بھی مقصود آ
آپیں آپ ہو آیا زور
آتنے پہ بھی یوں کہیا
چھوڑی تیں تو خوب کیا
جاتا ہوں اب گھر میں بھی
راضی کرنا تجھ سنگ دھی
(اشرف بیابانی)

A Quiz On Ashraf Biabani

اشرف بیابانی 1
Advertisements