Advertisement

عطا شاد نے بلوچی اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ اردو اور بلوچی زبان کے اس شاعر نے کئی کتابیں تصنیف کیں۔ بہت کم شاعر ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ زبانوں میں شاعری کی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے شعری طرز احساس نے معانی کے کئی جہان کھولے۔ بیسیویں صدی میں ایک شاعر نے اردو اور بلوچی زبان میں بے مثل شاعری کی اور اپنی ذہانت سے اہل ادب کو بے پناہ متاثر کیا، ان کا نام تھا عطا شاد۔

یکم نومبر1939 کو تربت کیچ کے ایک محلے سنگانی سر میں پیدا ہونے والے شاعر عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا۔ انہیں جدید علامتی بلوچی شاعری کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ عطا شاد صحیح معنوں میں ایک کثیر الجہات شخصیت تھے۔ وہ شاعر کے علاوہ نقاد، ڈرامہ نویس، محقق اور دانش ور بھی تھے۔ وہ اردو اوربلوچی کے علاوہ انگریزی اور فارسی زبان پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ انہوں نے غزل اور نظم کے میدان میں اپنی فنی عظمت کے جھنڈے گاڑے۔

Advertisement

عطا شاد نے جب شاعری شروع کی تو وہ فیض احمد فیض سے بہت متاثر تھے۔ پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا الگ شعری اسلوب وضع کریں گے ۔ اور پھریہ ہوا کہ انہو ں نے اپنے منفرد اسلوب سے ادبی حلقوں میں ممتاز حیثیت حاصل کی۔ وہ مغرب کے رومانوی شعرا کالرج، شیلے اور ٹی ایس ایلیٹ سے خاصے متاثر ہوئے۔ ان کی پہلی آزاد نظم ’’شپانک‘‘،،چرواہا ،،کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد ان کی نظم ’’ساہ کندن‘‘ نے انہیں بہت شہرت بخشی۔ اس نظم میں بلوچ روایات اور تاریخ کا شعور ملتا ہے۔ عطا شاد نے بڑے باکمال طریقے سے اردو شاعری اور بلوچی ثقافت کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ عطا شاد نے کئی اہم سرکاری عہدوں پر کام کیا۔ اپنی زندگی میں ان کے دو اردو شعری مجموعے سنگاب اور برفاب شائع ہوئے۔

Advertisement

ان کی اردو شاعری میں بلوچی ثقافت کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ سرزمین بلوچستان بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ان کی شاعری کا اہم وصف بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کی شاعری میں بلوچستان کے لوک گیتوں ، کہانیوں، رومانوی داستانوں اور محاوروں کا حسین امتزاج شاعری کو نئے مزاج سے آشنا کرتا ہے ۔ انہوں نے ’’مہناز، شاہ مرید اور ہانی، وفا اور لوری‘‘ جیسی نظمیں تخلیق کیں۔ یہ تمام نظمیں بلوچی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان نظموں کے مطالعے سے بلوچ معاشرے کے بارے میں بھی بہت معلومات ملتی ہیں۔

Advertisement

ان کے زمانے میں بلوچی شاعری دو بڑے گروپوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ان گروپوں کا آپس میں مقابلہ ہوتا رہتا تھا۔ عطا شاد نے کسی بھی گروپ کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ وہ اس بات پر قائل نہیں ہوئے کہ شاعری کے ذریعے سیاسی تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی وہ روایات کے اندھے پیروکار تھے۔ اس کے برعکس انہوں نے وہ شعری زبان استعمال کی جس میں بلوچی زبان کی تمام بولیاں شامل تھیں۔ اس شعری زبان کی وجہ سے ان کا شعری افق خاصا وسیع ہوگیا۔

عطا شاد کی شاعری میں سلاست اور سادگی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ندرت خیال بھی ہے اور خوبصورت تراکیب کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ انہیں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور ’’تمغہ حسن کارکردگی‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ ان کی کتابوں میں ’’روچ گر‘‘ اور ’’شب سھار اندیم،، خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ دونوں بلوچی زبان میں لکھی گئیں۔ اردو شاعری کے مجموعوں میں سنگاب، برفاگ کے علاوہ بلوچی نامہ ، درین(بلوچی لوک گیت اردو ترجمے کے ساتھ)اردو بلوچی لغت، ہفت زبانی لغت، بلوچ اردو ڈکشنری ، جاونسل(بلوچی صوفی شاعر ابراہیم جاونسل بگتی کا مجموعہ کلام)۔ اس کے علاوہ عطا شاد نے ریڈیو اور ٹی وی کے لیے لاتعداد ڈرامے لکھے۔عطا شاد بلوچی اکیڈمی کوئٹہ، ادارہ ثقافت بلوچستان کوئٹہ، پاکستان نیشنل بک کونسل اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان اور مرکزی اردو بورڈ لاہور سے وابستہ رہے۔

Advertisement

انہوں نے 13حکومتی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا۔ وہ بلوچستان میں سیکریٹری اطلاعات ، سیکریٹری جنگلات، ڈائریکٹر تعلقات عامہ اور ڈائریکٹر جنرل آثار قدیمہ کے علاوہ کئی دوسرے عہدوں پر اپنے فائز رہے۔ یقینا وہ ایک انتھک آدمی تھے جنہوں نے ادبی محاذ پر بھی بہت کام کیااور طویل عرصے تک سرکاری نوکری بھی کی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ عرفان احمد بیگ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے عطا شاد پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اس کے علاوہ شعیب شاداب نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے عطا شاد پر ایم فل کے لئے مقالہ لکھا۔ تربت میں ان کے نام پر عطا شاد ڈگری کالج اور عطا شاد اکیڈمی قائم کی گئی۔ کوئٹہ میں عطا شاد آڈیٹوریم اور تربت میں عطا شاد پارک بھی موجود ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں کتنے اعزازات سے نوازا گیا۔ دراصل ان کا کام ہی اتنا زیادہ تھا کہ وہ ان تمام اعزازات کے مستحق ٹھہرے۔

اب ہم ذیل میں عطا شاد کی اثر انگیز شاعری کے کچھ نمونے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔ پارسائوں نے بڑے ظرف کا اظہار کیاہم سے پی اور ہمیں رسوا سربازار کیاتو جو بچھڑاتو یہ محسوس ہوا جسم سے رو ح کا رشتہ کیا تھااب کے موسم کوئی سایہ ہے نہ سبزے کا سرابپیاسی آنکھوں میں سلگتا ہوا صحرا بولےمیں زخم زخم رہوں روح کے خرابوں سےتو جسم جسم دہکتا رہے گلابوں سےبڑا کٹھن ہے راستہ جو آسکو تو ساتھ دویہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو بڑے فریب کھائو گی بڑے ستم اٹھائو گییہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو تم بھی گنگنا لینا کوئی پھول صحرا میں پتھروں پہ لکھا ہے میں نے نام سبزے کا دھوپ کی تمازت تھی موم کے مکانوں پر اور تم بھی لے آئے سائبان شیشے کا۔ اب عطا شاد کی ایک مختصر نظم ملا حظہ فرمائیں جو تاثریت سے بھرپور ہے‌۔ نظم کا عنوان ہے وفا۔ میری زمیں پر ایک کٹورے پانی کی قیمت سو سال وفا ہے آئو ہم بھی پیاس بجھائیں زندگیوں کا سودا کرلیں13فروری1997 کو اس عدیم النظیر ادبی شخصیت نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ عطا شاد نے جتنا کام کیا اس پر ان کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے ۔

Advertisement

عطا شاد کی شاعری کے نمونے

دل وہ صحرا ہے جہاں حسرت سایہ بھی نہیں
دل وہ دنیا ہے جہاں رنگ ہے رعنائی ہے

درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا

وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا

دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا

برا کھٹن ہے راستہ جو آسکو تو ساتھ دو
یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو

بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو

جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو

میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو

ہزار امتحاں یہاں ہزار آزمائشیں
ہزار دکھ ہزار غم جو اٹھاسکو تو ساتھ
یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
رلاسکو تو ساتھ دو ہنساسکو تو ساتھ دو

پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا

رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا

کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح
کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا

تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں
کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا

ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر
وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا

سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ
جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا

دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا

مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب
مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا

کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس
ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا

وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا

تمام شب تھا ترا ہجر تیرا آئینہ گر
تمام شب مرے پہلو میں آفتاب سجا

نہ تو ہے اور نہ میں ہوں نہ وصل ہے نہ فراق
سجا شراب سجا جا بجا شراب سجا

عطاؔ یہ آنکھ دھنک منزلوں کی چاہ میں تھی
چھٹا جو ابر گھنی تیرگی کا باب سجا

میں زخم زخم رہوں روح کے خرابوں سے
تو جسم جسم دہکتا رہے گلابوں سے

کسی کی چال نے نشے کا رس کشید کیا
کسی کا جسم تراشا گیا شرابوں سے

صبا کا ہاتھ ہے اور ہے ترے گداز کا لمس
میں جاگتا ہی رہوں گرم گرم خوابوں سے

قدم قدم ہے چکا چوند چاہتوں کا چراغ
میں شہر آئنہ جلتا ہوں آفتابوں سے

عطاؔ بدن کی یہ کروٹ بھی نیم شب کیا تھی
تمام عمر اجلتا ہوں انقلابوں سے
Advertisement