تعارف

بہادر شاہ ظفر آخری مغل بادشاہ دہلی ہندوستان میں سن ۱۷۷۵ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پورا نام ابو ظفر نصر الدین صدیقی محمد بہادر شاہ ظفر تھا۔ بہادر شاہ ظفر کے والد کا نام اکبر شاہ ثانی تھا۔ آپ کا تعلق شاہی مغل خاندان سے تھا۔ بہادر شاہ ظفر کا شمار اعلیٰ پائے کے شعراء کرام میں ہوتا ہے۔ انہوں نے  اردو، عربی، فارسی، زبان کے ساتھ گھڑسواری ،تلوار بازی، تیراندازی اور بندوق چلانے میں کافی مہارت حاصل کرلی تھی۔ وہ ایک اچھے صوفی درشن کے جانکار فارسی میان، سولے خن میں ادیب و شاعر تھے۔ ہندوستان کے دو بڑے مذاہب کے اتحاد کی طرف ظفر کے جھکاؤ کی ایک وجہ خود ان کا خاندان تھا۔ ان کے والد شاہ اکبر ثانی مسلمان تھے جب کہ والدہ لال بائی ہندو راجپوت شہزادی تھیں۔ انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو ۱۸۵۷ء میں گرفتار کر کے رنگون بھیج دیا تھا۔

ادبی سفر

شاعری میں بہادر شاہ ظفر کے پہلے استاد شیخ ابراہیم ذوق تھے۔ ان کے انتقال کے بعد آپ نے غالبؔ کو اپنے استاد کا درجہ دیا۔ بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں درد اور تکلیف کے احساسات نظر آتے ہیں۔ محبت اور زندگی کے بارے میں ان کی غزلیں برصغیر بھر کے ساتھ ساتھ برما میں بھی لگائی اور سنی جانتی ہیں۔ انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو کاغذ قلم کے استعمال سے روک دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ آخری دور میں وہ دیواروں پر کوئلے سے اشعار لکھا کرتے تھے۔ ان سے منسوب بعض غزلیں ان کے مقبرے کی دیواروں پر بھی رقم ہیں۔

تصانیف

بہادر شاہ ظفر کا کلام کلیاتِ ظفر اور دیوانِ ظفر کی شکل میں محفوظ کرلیا گیا ہے۔

آخری ایام

بہادر شاہ ظفر کا انتقال رنگون کے قید خانے میں ۱۸۶۲ء میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر ۸۲ برس تھی۔

منتخب کلام

بہادر شاہ ظفر کی رنگون کے قید خانے میں لکھی گئی غزل پیشِ نظر ہے :

Quiz On Bahadur Shah Zafar

بہادر شاہ ظفر 1
Advertisements