تعارف

حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃاللہ علیہ کی پیدائش ۱۶۸۰ء بمطابق ۱۰۹۱ھ میں اُچ گیلانیاں میں ہوئی۔ آپ میں شاعری کا رحجان بچپن سے ہی تھا۔
حضرت بابا بلھے شاہ کے والد کا نام سخی شاہ محمد درویش تھا۔ جن کا خاندانی سلسلہ شیخ عبدالقادر جیلانی سے جا ملتا ہے۔ حضرت بلھے شاہ کے اجداد چوتھی صدی میں حلب سے ہجرت کرکے اُچ گیلانیاں میں آباد ہوگئے تھے۔ اُچ گیلانیاں بہاولپور کی تحصیل شجاع آباد کی سب تحصیل جلال پور پیر والا میں واقع ہے جو آج بھی اتنی ہی پسماندہ ہے۔

بابا بلھے شاہ خود سیّد زادے تھے لیکن انہوں نے بیعت شاہ عنایت کے ہاتھ پر کی جو ذات کے آرائیں تھے۔ اس وجہ سے اہل علاقہ آپ کو طعنے دینے لگے مگر بابا بلّھے شاہ ذات پات، اُونچ نیچ کے سب بندھن توڑ چکے تھے۔

تعلیم

بابا بلھے شاہؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی، جس کے بعد انہیں مزید تعلیم کے لیے قصور بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے حافظ غلام مرتضیٰ کی شاگردگی اختیار کی اور اپنے استاد سے عربی، فارسی اور تصوف کی تعلیم حاصل کی۔ حافظ غلام مرتضیٰ بابا بلھے شاہؒ کے ساتھ ساتھ پیر وارث شاہؒ کے بھی استاد تھے۔

شاعرانہ عظمت

حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃاللہ علیہ مشہور پنجابی صوفی بزرگ ہیں جنہوں نے زہد و تقوی ، کشف و کرامات اور صوفیانہ شاعری کی وجہ سے کافی شہرت پائی ہے۔ حضرت بلھے شاہ کی شاعری بھی ان کی شخصی زندگی کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیتی۔ اس صورتحال میں حضرت بلھے شاہ کی سوانح کو چند ایک حقائق اور بہت سے مفروضات اور قیاسات کے ذریعے ہی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ حضرت بلھے شاہ کے بارے میں قصے کہانیوں میں بھی ان کی کرامتوں اور غیر معمولی روحانی طاقت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری کے شارخین نے بھی ان کی شاعری کی وضاحت اسی نقطۂ نظر سے کی ہے۔

بابا بلھے شاہ اپنے عہد کے باغی تھے۔ مگر وہ باغی تھے غلط نظریات سے، فضول رسوم و رواج سے اور علم کے جھوٹے دعویداروں سے۔ بابا بلھے شاہ نے اپنی شاعری میں کی جانے والی سخت تنقید کے باعث اپنے مرشد شاہ عنایت کو بھی ناراض کرلیا۔ کچھ لوگ شاہ عنایت کے خفا ہونے کی وجہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ آپ نے ایک موقع پر شاہ عنایت کے ایک مرید کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا تھا۔ اس وجہ سے شاہ عنایت آپ سے کافی عرصہ ناراض رہے۔

حضرت بابا بلھے شاہ کی حیات کے بارے میں مصدقہ معلومات بہت کم دستیاب ہیں۔ ابھی تک جو باتیں ان کے بارے میں منظر عام پر آئی ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق زبانی روایت سے ہے۔ ان زبانی معلومات کا تعلق بھی حضرت بابا بلھے شاہ کی صوفیانہ زندگی اور کرامات سے ہے، شاعری سے بہت کم ہے۔ ان کی زندگی کے بہت سے ایسے واقعات ہیں جن کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ معلومات جیسی کیسی بھی ہیں ان سے حضرت بلھے شاہ کی شخصیت کا ایک نقش قائم کیاجاسکتا ہے۔

آخری ایام

حضرت بلھے شاہ کا سن وفات ۱۷۵۳ء لکھا ہے۔ جس کے مطابق حضرت بلھے شاہ کی عمر ۷۸ سال بنتی ہے۔ آپ قصور میں سپرد خاک ہوئے۔

منتخب کلام

بلھے شاہ صاحب کا کلام مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements