حالاتِ زندگی

اُردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سوداؔ سے ہوا اور یہ روایت ذوقؔ کے توسط سے داغؔ تک پہنچی۔ داغؔ نے اس روایت کو اتنا آگے بڑھایا کہ اُنھیں اپنے اُستاد ذوقؔ اور پیش رو سوداؔ دونوں پر فوقیت حاصل ہوگئی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب داغؔ نے ہوش سنبھالا ،تو لال قلعے میں بہادر شاہ ظفرؔ ، اُستاد ابراہیم ذوقؔ اور اُن کے شاگرد زبان کو چاک پر چڑھا کر اس کے حسن کو نکھار رہے تھے اور بہادر شاہ ظفرؔ کے ہاتھوں اُردو کو پہلی مرتبہ وہ اُردو پن نصیب ہورہا تھا، جسے بعد میں داغؔ کے ہاتھوں
انتہائی عروج حاصل ہوا،

بقول داغؔ؀

نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اُردو زباں آتے آتے

داغؔ دہلوی 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ اُن کااصل نام نواب مرزا خاں اور تخلص داغؔ تھا۔ داغؔ ابھی چھ برس کے تھے کہ اُن کے والد نواب شمس الدین خاں کا انتقال ہو گیا اور والدہ نے بہادر شاہ ظفرؔ کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغؔ قلعۂ معلی میں باریاب ہوئے اوراُن کی پرورش وہیں ہوئی۔بہادر شاہ ظفرؔ اور مرزا فخرو دونوں اُستادابراہیم ذوقؔ کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغؔ کو بھی ذوقؔ سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔

شاعرانہ عظمت

اُستاد ابراہیم ذوق ؔکی صحبت میں داغؔ ؔنے دس برس کی عمر ہی میں شاعری شروع کر دی اور لڑکپن ہی میں مشاعروں میں شرکت کرنے اور خوب داد سمیٹنے لگے: داغؔ معجز بیان ہے کیا کہنا طرز سب سے جدا نکالی ہے۔

داغ ؔکی شاعری کو بالعموم تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے دَور کا تعلق قلعۂ معلی سے ہے۔یہ دَور بڑے عیش و سکون کا تھا۔ داغؔ نے لڑکپن کے یہ ایام نغمہ و نشاط کے طرب انگیز ماحول میں گزارے۔ نوابی شان و شوکت ، زرق برق لباس ، گانے بجانے کی محفلیں ، یہ داغ ؔکی شاعری کا نقطۂ آغاز تھا۔

داغؔ کی شاعری کا دوسرا دَور قلعہ معلیٰ سے نکلنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس دَور کی شاعری میں سوزوگداز اور غم و الم کی پرچھائیاں ملتی ہیں ،جو دہلی پر ٹوٹنے والی قیامتوں کی عکاس ہیں۔

سامان تھا دُنیا کا مِرے واسطے موجود
دُنیا سے گزرنے کا نہیں زادِ سفر آج

نواب فخرو کی وفات کے بعد داغؔ رام پور چلے گئے، جہاں ایک بار پھرآسودگی، سکون اور سامان عیش و عشرت میسر آ گیا۔ یہ داغؔ کی شاعری کا تیسرا دَور ہے۔

داغؔ کا کلام شوخی ، شگفتگی اور بانکپن کا مرقع ہے۔ زبان کی صفائی اور بندش کی چاشنی کے سبب ایسا معلوم ہوتا ہے گویا دریا بہہ رہا ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ داغ ؔاُردو زبان کے بادشاہ ہیں۔ اُن کے کلام میں زبان کا چٹخارہ ، سلاست ، صفائی ، سحرآفرینی ، رنگینی ، شوخی چلبلاہٹ بلا کی پائی جاتی ہے: سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی تُو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے۔ داغؔ کی سب سے بڑی خوبی اُن کی زبان کا حسن ہے۔ اُنھوں نے شاعری کو پیچیدہ ترکیبوں ، فارسی اور عربی کے غیر مانوس الفاظ سے بچانے کی کوشش کی اور سیدھی سادھی زبان میں واقعات اور محسوسات کو بیان کیا۔ اس وجہ سے اُن کا کلام تصنع اور تکلف سے خالی ہے۔

کہتے ہیں اسے زبانِ اُردو جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا داغؔ کی شاعری اور شخصیت میں بڑا گہرا ربط تھا۔ اُن کے کردارو کلام میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اسی خوبی کی بنا پر وہ اپنے ہم عصر شاعروں میں ممتاز ہیں۔ اُن کے اشعار میں جو تازگی اور تنومندی ملتی ہے، وہ اس وقت کے شعراء کے کلام میں کم ہی نظر آتی ہے۔

داغؔ نے 17 مارچ 1905ء میں 74سال کی عمر میں وفات پائی۔

Advertisements