تعارف

فائز دہلوی کا ذکر عام طور پر تذکروں میں موجود نہیں صرف کریم الدین نے مختصر طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔ ان کا نام صدرالدین محمد خاں بن زبردست خاں بن ابراہیم خاں بن مردان علی خاں تھا۔ دہلی کے منصب داروں میں سے تھے اور فارسی کے شاعر تھے۔ فائز نہایت ذی علم اور بہت سی کتابوں کے مصنف تھے۔ فائز کی علمی استعداد بہت اچھی تھی۔

تصانیف

فارسی تصنیفوں اور ضحیم فارسی دیوان سے ظاہر ہے وہ فارسی ادب بالخصوص فارسی شاعری میں بہت وسیع  نظر رکھتے تھے۔ فائز کو اپنی فارسی دانی پر ناز تھا اور فارسی نظم و نثر میں وہ اپنے ہم عصروں میں سے کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ فائز عربی اور ادب پر بھی کافی عبور رکھتے تھے۔ وہ اپنے رسالوں میں حمد و نعت کے اشعارو اقوال وغیرہ بے تکلف لاتے ہیں اور بعض  اوقات لمبی لمبی  عبارتیں عربی میں لکھتے چلے جاتے تھے۔

کسی کتاب میں فائز کے کئی خطوط سے یہ جائزہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ عربی پر خاصا عبور رکھتے تھے۔ وہ عربی میں نظم کہنے کی قدرت بھی رکھتے تھے۔ ان کے کلام میں ایسے بہت سے اشعار موجود ہیں جس کا اول مصرع تو فارسی اور دوسرا عربی ہے۔ فائز اسی زمانے کے شاعر ہیں ان کی کوشش یہ ہے کہ اپنے دور اور اس کی معاشرے کی تصویروں کو جوں کی توں بول چال کی زبان میں پیش کردیں گو اس نئی نویلی عام بول چال کی زبان میں فلسفانہ مضامین کو سمونا یا تخیل کی اونچی اڑان کو سمیٹما تو آسان نہیں مگر کچھ عیش و نشاط  کی باتیں، کچھ بےتکلفی کی اٹکلیں، کچھ سیدھی سادی دل داری اور دل نوازی کی گھاتیں اور کچھ اپنے اردگرد کی زندگی کی تصویریں تو آسانی سے اسی بول چال کی زبان میں اچھی لگتی تھیں۔

دیوان

ولیؔ کے دیوان نے دوسروں کی طرح ان پر بھی اثر کیا اور اپنے دیوان پر جو وہ ۱۱۲۷ھ مطابق ۱۷۱۵ء میں مکمل کرچکے تھے ۱۱۴۲ھ مطابق ۱۷۲۹ء میں نظر ثانی کی۔ اردو کے کلام میں چند مثنویاں اور متعدد غزلیں پائی جاتی ہیں اردو کی غزلیں بیش تر ولیؔ کی غزلوں پر ہیں۔

آخری ایام

آپ نے ماہ صفر ۱۱۵۱ھ مطابق ۱۷۳۸ء میں وفات پائی۔

فائز دہلوی کی منتخب غزل درج ذیل ہے۔

فائز دہلوی پر ایک کوئز

فائز دہلوی 1
Advertisements