Advertisement

ترقی پسند شاعرہ کہلانے والی فہمیدہ ریاض کی پیدائش 28 جولائی 1946 کو میرٹھ میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان میں حیدرآباد میں قیام پزیر ہوا۔وہ علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ریاض الدین احمد ماہرِ تعلیم تھے۔ انھوں نے زمانہ طالب علمی میں پندرہ سال کی عمرمیں پہلی نظم لکھی، جو احمد ندیم قاسمی کے رسالے میں شائع ہوئی۔

Advertisement

انھوں نے ریڈیو پاکستان میں بھی کام کیا۔شادی کرنے کے بعد انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ برطانیہ بھی بہت سے برس گزارے مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے ان کی شادی زیادہ دیر تک نہ چل سکی اور طلاق ہو گئی۔وہ بی بی سی اردو ریڈیو میں کام کرنے لگی جس کے لئے ان کا ریڈیو پاکستان کا تجربہ کار آمد آیا۔

Advertisement

فہمیدہ ریاض جدیدیت پسند تو تھیں ہی ان کی فکر اور شاعری میں وجودیت کی تحریک بھی کارفرما نظر آتی ہے، چونکہ جدیدیت کا عقیدہ ہے ”دنیا ویسی ہی بنی ہے جیسی کہ ہم اسے سمجھیں“ اور فہمیدہ ریاض بھی اپنی نظریاتی صداقتوں کی گواہی اپنے عہد کی تاریخ پر نہیں رکھتیں بلکہ وہ سماج کے جبر اور بربریت کا سامنا کرتی ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔

Advertisement

فہمیدہ ریاض نے چند غزلیں بھی کہیں لیکن محبوب وسیلہ اظہار نظم کو ہی جانا۔ فہمیدہ ریاض کے پاس جہاں عورت کے لطیف اور کومل جذبات و احساسات کا بیان ہے تو وہیں پر اُن کی شاعری میں مذہبی و معاشرتی قد غنوں میں جکڑی عورت کا مزاحمتی نوحہ سنائی دیتا ہے۔ معاشرتی بندشوں اورمردوں کے صنفی برتری بخشتے نظام میں گھُٹن ذدہ زندگی گزارنے کی بجائے فہمیدہ مزاحمت کی نمایندہ آواز ہ بنیں جس نے نہ صرف خود اپنے خیالات بلکہ اپنے معاشرے کی عورت کے احساسات کو اظہار دیا۔

اُن کی شاعری میں دورِجدید کی عورت کے اندر اُٹھتی خود مختار ی و روایت شکنی کی خواہش کا واضح اظہار ہے۔ وہ ایک ایسی عورت کی تمنا کو قلم بند کرتی دکھائی دیتی ہیں جو سنگ دل رواجوں کے خستہ حال زندان سے فرار پا کررقصِ رندانہ کی مستی سے آزادانہ سرشاری چاہتی ہے۔ ایسے میں نظم ”ایک لڑکی سی“ میں ایک عورت یہ سنائی دیتی ہے۔

Advertisement

فہمیدہ ریاض کی تمام شاعری میں ایسے ہی کہیں عورت کے لطیف نسوانی جذبات کی عکاسی ہے تو کہیں معاشرے میں عورت کے استحصال کے خلاف ردِعمل کے طور پر واضح اور بے باک مزاحمت ہے۔ اُردو شاعرات میں تانیثی و مزاحمتی انداز کو اپناتے ہوئے ایسا چونکا دینے والا ممتاز اسلوب جوفہمیدہ ریاض کے حصہ میں آیا ہے آنے والے وقتوں میں اُردو شاعری کی تاریخ میں فہمیدہ ریاض کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔
جس طرح ہر فلسفے کا آغاز اضطراب اور انحراف سے ہوتا ہے اسی طرح ہر شاعری یا تخلیق کسی نہ کسی کسک سے جنم لیتی ہے۔ انسان کو اپنے آپ کو دریافت کرنے کا عمل تہہ دار اور کرب آمیز ہے، جذبات و احساسات کا جلترنگ فہمیدہ ریاض کے یہاں سر چڑھ کر بولتا ہے۔
سال 2010 میں انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 2017 میں ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ہیمت ہیلمن ایوارڈ برائے ادب، 2005 میں المفتاح ایوارڈ برائے ادب و شاعری حاصل کیا۔ انہوں نے مولانا رومی کی مثنوی کا فارسی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا۔

صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز حاصل کرنے والی فہمیدہ ریاض کی ناولوں سمیت تقریبا 15 کتابیں شائع ہوئی۔ فہمیدہ ریاض کی تصانیف میں آدمی کی زندگی،ادھورا آدمی،امرتاپریتم کی شاعری،بدن دریدہ،خط موموز،میری نظمیں،پتھر کی زبان،سب لعل وگہر،گوداوری،کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے،کراچی،گلابی کبوتر،بدن دریدہ،دھوپ،حلقہ میری زنجیر کا اور قافلے پرندوں کے قابل ذکر ہے۔

Advertisement

۲۲نومبر ۲۰۱۸ کومختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا اور لاہور میں سپرد خاک ہوئیں۔ ان کا تقریباً کلام شائع ہو چکا ہے جو ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

منتخب کلام

فہمیدہ ریاض کی خوبصورت نظم جو بہت مقبول ہوئی۔

Advertisement

اب سو جاؤ

اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
تم چاند سے ماتھے والے ہو
اور اچھی قسمت رکھتے ہو
بچے کی سو بھولی صورت
اب تک ضد کرنے کی عادت
کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں
کچھ سینے میں چبھتی یادیں
اب انہیں بھلا دو سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
سو جاؤ تم شہزادے ہو
اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو
اچھا تو کوئی اور بھی تھی
اچھا پھر بات کہاں نکلی
کچھ اور بھی یادیں بچپن کی
کچھ اپنے گھر کے آنگن کی
سب بتلا دو پھر سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی
یہ جھلمل کرتی خاموشی
یہ ڈھلتی رات ستاروں کی
بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

Quiz on Fahmida Riaz

فہمیدہ ریاض 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement