تعارف

سید انشا اللہ خان کا تخلص انشا تھا۔ وہ دسمبر ۱۷۵۲ کو مرشد آباد میں پیدا ہوئے۔ بزرگ نجف اشرف سے آ کر دہلی میں بس گئے تھے۔ انشاء کے والد ماشاءاللہ خان صدر بڑے عالم و فاضل اور قادر طبیب تھے۔ باپ کے دامن تربیت میں پرورش پاکر انشاء بھی عالم، فاضل، طبیب اور شاعر ہوئے۔شاعری میں کسی کے شاگرد نہ تھے۔ ابتدا میں والد سے اصلاح لی۔ عربی فارسی اردو اور ہندی زبانوں میں نظم کی یکساں قدرت رکھتے تھے۔ہندوستان کی متعدد زبانوں پر عبور تھا۔ مرشد آباد سے دہلی آئے اور شاہ عالم ثانی کے درباریوں میں جگہ پائی۔ شعراء کی چمک اور حالات کی ناساز گاری سے بددل ہو کر ۱۷۹۱ میں لکھنؤ چلے گئے۔ مزرا سلیمان شکوہ کے دربار میں رہے۔ پھر نواب سعادت علی کے دربار میں رسائی حاصل کی اور ظرافت بذاسخی اور شوخ مزاجی سے نواب کو اپنا اس قدر گرویدہ بنا لیا کہ ان کے بغیر اسے ایک دم چین نہ آتا تھا۔

شاعرانہ عظمت

فطری ظرافت اور دربادی زندگی نے ہزل اور تمسخر کو انشاء کی شاعری کا جزو لازم بنا دیا تھا۔ ان کو زبان پر جو حیرت انگیز قدرت حاصل تھی اگر وہ صحیح طور پر استعمال ہوتی تو ان کا جواب اردو شاعری میں مشکل سے ملتا۔ تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ قصیدے نسبتاً سنجیدہ انداز میں کہے ہیں۔ ریختی یعنی عورتوں کے جذبات و خیالات عورتوں کی زبان بڑی خوبی سے ادا کرتے ہیں۔

انشاء زبان کے بڑے پارکھ اور متعدد زبانوں اور بولیوں کے ماہر تھے۔ جس کا ثبوت ان کی متعدد تصنیفات سے ملتا ہے۔ کلیات میں تقریباً ہر بولی کے اشعار موجود ہیں۔ انشاء کو ہر طبقے کی اردو زبان پر عبور حاصل تھا۔ انشاء کی شخصیت حد درجہ متنوع اور دلکش تھی۔ وہ ایک ایسی بےچین اور سیمابی طبیعت لے کر آئے تھے جس میں بلا کی طباعی،طراری اور شوخی بھری ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کا پیشہ اختیار کرنے کے بجائے شاعری کو اپنی جولاں گاہ بنایا۔

انشا ء نے مختلف علوم متداولہ دلی میں ہی حاصل کئے۔ اور یہیں ان کی شاعرانہ صلاحیتوں نے پرورش پائی۔ لکھنو میں انشاء نے زور تخیل ندرت فکر اور زبان کے بے حجاباً استعمال کی بدولت ہم عصروں میں جلدی ہی مقام امتیازی حاصل کر لیا۔ انشا مزاح پسند واقع ہوئے تھے۔ یہاں ہر صنف سخن میں یہ خصوصیت نظر آتی ہے حتیٰ کہ حمد میں بھی۔ بقول بعٖ ان کی طبیعت کی یہی شوخی اور چلبلا پن ان کے زوال کا سبب بھی بنا۔ ان کے کلام کے مطالعت سے احساس ہوتا ہے کہ زبان کی جولاں گاہ اب کے خیال اور نئے نئے تجربات پر مائل ان کی طبیعت کی ترک تاز کے لیے ناکامی ہوئی جا رہی ہے۔ کہیں وہ ضیعت مہملہ میں دیوان مرتب کرتے نظر آتے ہیں، کہیں ان کا ذوق ایجاد یختی کی تخلیق میں مصروف آتا ہے۔ کہیں رانی کیتکی کی کہانی میں فارسی الفاظ سے اجتناب کر رہے ہیں کہیں انشاے الطافت ہے تو کہیں قتیل کے ساتھ دریاے لطافت چل رہی ہے۔

تصانیف

انشا کی مشہور تصانیف میں دریاے لطافت، داستان رانی کیتکی کنوراودے بھان کی،سلگ گوہر، لطائف السعادت قابل ذکر ہیں۔ انشا کا بیشتر کام تالیف کر لیا گیا ہے وہ صاحب دیوان شاعر تھے۔

آخری ایام

لکھنؤ کے سب سے گرم مزاج شاعر ، میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور ہونے والے انشا ۱۹ مئی۱۸۱۷ کو لکھنؤ میں ٦۵ برس کی عمر میں دفات پا گئے۔

منتخب کلام

انشا اللہ خان کی منتخب کردہ غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements