تعارف

جگن ناتھ آزاد ۵ دسمبر ۱۹۱۸ کی صبح شہر عیسی خیل میں پیدا ہوئے۔ پانش سال کی عمر میں جگن ناتھ کو اپنا آبائی شہر چھوڑنا پڑا تھا کیوں کہ آپ کے والد کا تبادلہ دوسرے شہر میں ہوگیا تھا۔ آپ کے والد کا نام تلوک چند تھا۔ جگن ناتھ کے والد بھی ممتاز شاعر تھے۔ جگن ناتھ کے والد کی پہلی بیوی کا انتقال جوانی میں ہوگیا تھا اور جگن ناتھ اپنے والد کی دوسری بیوی کی پہلی اولاد ہیں۔

جگن ناتھ کی ابتدائی تعلیم گھر سے شروع ہوئی۔ آپ نے گورنمنٹ اسکول سے تیسرے درجے کا امتحان پاس کیا۔ اس اسکول میں آپ نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور نویں دسویں جماعت کے لیے دوسرے اسکول میں داخلہ لے لیا۔

آپ نے راولپنڈی کے ایک کالج سے ایف کا امتحان پاس کیا۔ پھر آپ نے بی اے کیا جس میں آپ کا امتیازی مضمون اردو تھا۔ آپ نے پرشین زبان میں آنرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے آپ نے فارسی میں ایم اے کیا جس کے ساتھ آپ کو ایم او ایل کی ڈگری بھی حاصل ہوئی۔ آپ ہندوستان کے پہلے اسکولر بھی ہیں جن سے تھرڈ ورلڈ ٹیلی ویڏن نیٹ ورک نیویارک نے انٹرویو لیا تھا۔

ادبی تعارف

پروفیسر جگن ناتھ آزاد مشہور و ممتاز شاعر ، اعلیٰ درجے کے نقاد اور صف اول کے ماہر اقبالیات ہیں۔ ان تینوں حیثیتوں سے انھیں پوری اردو دنیا میں شہرت اور مقبولیت حاصل ہے۔ انہوں نے شاعری، ماہر اقبالیات اور اردو کے سفیر کی حیثیت سے دنیا کے بہت بڑے حصے کا دورہ کیا ہے۔ وہ ایک نیک ، ملنسار انسان ہیں۔ اقبالیات کے ضمن میں ان کی لکھی گئی تصنیف "اقبال اور مغربی مفکرین” ایک اہم تصنیف ہے۔

جگن ناتھ کو شاعری سے خاص لگاؤ تھا اس لیے وہ بیشتر مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ قدر کی نگاہوں سے دیکھے گئے۔ علامہ نیاز فتح پوری , حفیظ جالندھری , عبد الحمید عدم جیسی برگزیدہ شخصیتوں سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا جس کا ذکر انہوں نے جا بجا کیا ہے۔ جب پاکستان آزاد ہوا تب جگن ناتھ دہلی آ بسے اور وہاں ملاپ میں کام کرنے لگے۔ یہاں کام کرنے سے پہلے جگن ناتھ روزنامہ "ٹریبون” لاہور میں کام کررہے تھے۔ ۱۹۴۱ء میں جگن ناتھ نے مولانا صلاح الدین کی غیر موجودگی میں ماہنامہ "ادبی دنیا” کی ادارت کے فرائض سرانجام دئیے۔ آزاد نے روزنامہ "جے ہند” میں بھی کام کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے لاتعداد جگہ پر کام کیا اور اردو و انگریزی ادب کی بےلوث خدمات سرانجام دیں۔ آزاد کے نعتیہ کلام کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔ فرانس کے مشہور ناشر نے اس کتاب کو شائع کیا ہے۔


تصانیف

جگن ناتھ آزاد کا پہلا شعری مجموعہ ’’طبل و علم‘‘ 1948ء میں چھپا۔
1949ء میں دوسرا مجموعۂ کلام ’’بیکراں‘‘ چھپا۔ دیگر شعری مجموعے یہ ہیں۔

  • ستاروں سے ذروں تک
  • وطن میں اجنبی
  • نواے پریشاں
  • کہکشاں
  • بوئے رمیدہ
  • جستجو
  • گہوارہ علم وہنر
  • آئینہ در آئینہ
  • شعری مجموعوں کے علاوہ آپ کی دیگر تصانیف درج ذیل ہیں :
  • روبرو (خطوط کا مجموعہ)
  • نشان منزل‘ (تنقیدی مضامین)
  • اقبال اور اس کا عہد
  • اقبال اور مغربی مفکرین
  • اقبال اور کشمیر
  • دہلی کی جامع مسجد
  • کولمبس کے دیس میں(سفرنامۂ امریکا وکینیڈا)۔
  • اقبالؒ کی کہانی
  • مرقع اقبال (البم)
  • اقبالؒ ایک ادبی سوانح حیات
  • اقبال ؒ کی زندگی شخصیت اور شاعری،
  • اقبال ؒ مائنڈ اینڈ آرٹ ( انگریزی )
  • اقبالؒ ہزپوئٹری اینڈ فلاسفی( انگریزی )

اردو سفیر

بقول ڈاکٹر ظہور الدین :
"آپ برصغیر ہند و پاک کی ان چند شخصیتوں میں سے ہیں جنہیں اگر "اردو کے سفیر” کے نام سے منسوب کیا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔

آخری ایام

جگن ناتھ آزاد ۲۴ جولائی ۲۰۰۴ء  کو راہی ملک عدم ہوگئے۔

Advertisements