تعارف

اردو شاعری کی تاریخ میں دبستان لکھنؤ کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ شاعری کی تمام اصناف سخن میں ریختی اور معاملہ بندی کو چھوڑ کر اس دبستان نے اردو زبان کی جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس کا اعتراف تمام اہل اردو کو ہے۔ دبستان لکھنؤ کے ایک ممتاز شاعر جلال لکھنوی جن کا اصل نام حکیم سید ضامن علی تھا اور تخلص جلال۔

حالاتِ زندگی

سید ضامن علی جلال کے والد کا نام حکیم اصغر علی تھا۔ خاندانی پیشہ طبابت تھا۔ جلالؔ ۱۸۳۴ء میں پیدا ہوئے۔ فارسی کی درسی کتابیں مکمل پڑھیں اور عربی میں بقدرِ ضرورت استعداد پیدا کی۔ اپنا آبائی پیشہ طبابت بھی نظر انداز نہیں کیا۔ چنانچہ ۱۸۵۷ء کے ہنگامے نے جب لکھنؤ کی بساطِ سخن اُلٹ دی اور شعروشاعری کی محفل درہم برہم ہو گئی تو جلالؔ نے لکھنؤ میں ایک دواخانہ کھول کر کسبِ معاش کے لیے اس سے کام لیا۔ نواب یوسف علی خاں کو خبر ہوئی تو انھوں نے رام پور بلا لیا۔ بیس سال تک دربار سے تعلق رہا۔ نواب کلب علی خاں کی وفات کے بعد رئیس منگرول کی طلبی پر وہاں چلے گئے۔ مگر آب و ہوا راس نہ آئی۔ لکھنؤ واپس چلے آئے۔

شاعرانہ عظمت

شعر و سخن کا کم عمری سے شوق تھا۔ امیر علی ہلالؔ ، میر علی اوسط رشکؔ اور مرزا محمد رضا برقؔ سے مشورہ سخن کیا۔ آرزو کی شاعری کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ان کی شاعری کا پہلا دور، ان کی شاعری کا ابتدائی زمانہ ہے، جس میں حضرت جلالؔ لکھنوی کا اثر خاص طور سے نمایاں ہے۔ آرزو کی شاعری کا یہ وہ دور ہے، جس میں انہوں نے بڑی محنت اور زبردست طریقے سے شاعری کی مشق بہم پہنچائی۔

سید ضامن علی جلال کا کلام بہت مستند اور قابلِ قدر ہے۔ غزلیں بہت لطیف اور دلآویز ہیں ۔ عاشقانہ رنگ غالب ہے اور کلام میں جذبات کی آمیزش ہے۔ ان کی اکثر غزلیں لطافتِ بیان، نزاکتِ خیال، درد و اثر اور سوز و گداز کا اعلیٰ نمونہ مانی جاتی ہیں۔​ آخر عمر میں سوائے شعر و شاعری اور اصلاح سخن کے کوئی مشغلہ نہ تھا۔ حکیم صاحب کو اپنے فن، زبان اور تحقیق پر بڑا ناز تھا۔ چار دیوان کے علاوہ فن عروض، قواعد اور تذکیر و تانیث پر کتابیں ان کی یادگار ہیں۔

تصانیف

چار دیوان اُردو (اوّل)‘ شاہدِ شوخ طبع (۱۸۸۴ئ) دوم‘ کرشمہ گاہِ سخن (۱۸۸۴ئ) سوم‘ مضمون ہائے دلکش ۱۸۸۸ئ(چہارم)‘ نظم نگاریں‘ سرمایہ زبانِ اُردو‘ افادۂ تاریخ ‘ منتخب القواعد‘ تنقیح اللغات‘ گلشنِ فیض‘ دستور الفصحا‘ مفید الشعرا وغیرہ۔ شاگردوں میں میرذاکر حسین یاسؔ آرزو لکھنوی‘ احسان شاہ جہان پوری۔

Quiz on Jalal Lakhnavi

جلال لکھنوی 1

وفات

۱۰ اکتوبر۱۹۰۹ کے عہد میں ہی لکھنو میں ہی وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

منتخب کلام

جلال لکھنوی کا کلام مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements