تعارف

مولانا روم تیرھویں صدی کے عظیم اسلامی شاعر، فقیہ اور عالم تھے۔ ان کے نام کے لغوی معنی مذہب کا جلال یعنی عظمت اور شان و شوکت ہے۔ ان کے نام کے ساتھ رومی اس لیے جوڑ دیا گیا کہ انھوں نے اپنی زندگی کا  زیادہ تر حصہ اناتولیا میں گزارا۔ اناتولیا سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا اور بعد میں سلطنت روما کا حصہ بن گیا۔ مولانا روم کی ولادت ۳۰ ستمبر ۱۲۰۷ میں موجودہ افغانستان کے شہر بلخ میں ہوئی تھی۔بلغ وسیع خراسان کا حصہ ہوا کرتا تھا جہاں کی زبان اور بولی فارسی  تھی اور تہذیب و تمدن پر بھی فارسی روایات کے نقوش مرتسم تھے۔

شاعرانہ عظمت

رومی کی شاعری کی زبان فارسی ہے جسے ایران، افغانستان، تاجکستان، ازبیکستان، ہندوستان، پاکستان اور ترکی میں وسیع پیمانے پر پڑھا اور سمجھا جاتا ہے۔ رومی کی شاعری کے ترجمے مختلف زبانوں میں کیے گئے ہیں اور انھیں ترکی ، آزربائیجان، جنوبی ایشیا اور امریکہ میں بہت مقبولیت حاصل ہے۔ ان کو بڑے شوق اور رعبت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔

عشق کائنات کی ایک فرکی قوت ہے۔عشق ہی زندگی کو معنی کا دل آویز رنگ بخشتا ہے۔ایک ایسا سحر عظیم جس کے سامنے دلیل ومنطق کی بے بظاعتی کھل پڑتی ہے اور عقل کی نارسائی اور کوتاہ دوستی طشت از بام ہوتی ہے۔جس مقام پر فلسفہ و استدلال بے دست  و پا رہ جاتے ہیں وہاں عشق بے خوف و خطرہ جان کی بازی لگا دینے پر کمر بستہ ہو جاتا ہے۔عشق فرحت و ایزا اور انعام و سزا سے بے نیاز ہوتا ہے،اس لیے وہ عقل سے نائق ٹھہرتا ہے۔رومی عقل کی خدمات کے معترف تو ہیں لیکن جملہ علم کو طبیب عشق ہی بتاتے ہیں اور زندگی کے سب مرحلوں میں اسے ہی رفیق و رہنما سمجھتے ہیں۔

مولانا رومی ایک عہد آفرین انسان ہیں۔ان کے فکر و فن نے عہد بہ عہد اور نسل بہ نسل دلوں اور ذہنوں میں انقلاب کی صدرنگ قندیلیں منور کی ہیں۔ان کا کلام اسرار و رموز کا ایک خزینہ اور معرفت و عرفان کا ایک گنجینہ ہے۔رومی شاعر اور فن کار سے بڑھ کر ایک حکیم و مفکر ہیں۔وہ اپنی فکر و دانش اور اپنے  شعر و فن کو بنی نوع انسان کی تعلیم و تربیت میں صرف کرتے ہیں۔اس مقصد کے لیے امربالمعروف اور نہی دین المنکر کا فریضہ ادا کرنا ہوتا ہے چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا انھوں نے اپنے عہد میں بے عملی ،مصلحت اندیشی ،کج روی،مادہ پرستی اور ظاہر داری کے بتوں کو پاش پاش کیا۔

رومی اپنے دور کے انسانوں بالخصوص مسلمانوں کو فکری اور عملی انقلاب کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ایک صالح ،ترقی یافتہ ،خوش فکر  اور خوش عمل معاشرہ وجود میں آسکے۔
مولانا رومی نے جس نئے زاویے اور استعارے کے ساتھ عشق اور اس کی کیفیات کو مثنوی معنوی میں پیش کیا ہے۔اس کا نظیر دنیا کی کسی قوم کے ادب میں نہیں ملتی۔

آخری ایام

آپ ۶۶ سال کی عمر میں سن ۱۲۷۳ء بمطابق ۶۷۲ھ میں انتقال کر گئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

منتخب کلام

مولانا رومی کا فارسی کلام۔

Quiz On Jalaluddin Rumi

جلال الدین رومی 1
Advertisements