تعارف

اردو ادب میں بہت سے مایاناز لوگ گزرے ہیں جن میں امیر مینائی ایک بڑا نام ہے جن کے شاگرد کا نام جلیل حسن اور تخلص جلیل ہے۔ وہ ادب کے لئے بہت کام کر گزرے ہیں۔ وہ 1866ء کو مانکپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام عبدالحکیم اور دادا کا نام عبدالرحیم تھا۔ طالب علمی کا زمانہ لکھنؤ میں گزرا جہاں فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔جب وہ فقط ۱۲ برس کے ہوئے تو قرآن حفظ کرنے کا شرف حاصل کیا۔ بچپن سے ہی شعر و سخن میں ذوق رکھتے تھے۔ حافظ جلیل حسن جلیل کے بچپن کا وہ زمانہ تھا جب دینی اور عربی فارسی علوم و فنون کی تکمیل ضروری سمجھی جاتی تھی۔ بیس سال تک تحصیل علم کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ تعلیم کا ابتدائی زمانہ تھا پھر جب تشنگی ختم کرنے کا خیال آیا تو لکھنؤ اور مانکپور کی قربت نے کسب علم کو اور بھی آسان بنا دیا۔ طلب علم جلیل کو لکھنؤ لے گئی جو اس وقت فضل و علم کا مرکز بنا ہوا تھا۔

ادبی زندگی

مانکپور مقام کو اس وقت جو شہرت حاصل ہے وہ حافظ جلیل حسن جلیل کی نسبت سے ہے۔ادبی حلقوں اور شعر و شاعری کی دنیا میں وہ  جلیل مانکپوری کے نام سے ہی جانے جاتے ہیں۔ آپ کا تعلق اوسط گھرانے سے تھا۔  چونکہ طبیعت کا رجحان ادب و شاعری کی طرف تھا، معانی و زبان کی کتابوں کا مطالعہ کر کے اپنے ذوق کی تکمیل کی، پھر مانکپور واپس آگئے۔

کاتب قدرت نے جناب جلیل کے لئے شعر و شاعری کی تاجداری پہلے ہی لکھ دی تھی۔ طالب علم کی عمر سے ہی شعر کہنے شروع کر دیے تھے لیکن اس کا ظہور تب ہوا جب وہ علم معتدادملہ کی تحصیل سے فارغ ہو کر نکلے۔ جہاں تک جلیل کی شاعری کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ قدیم رنگ تغزل کے ایک پرگو، خوش فکر اور شیریں کلام شاعر تھے اور اس حیثیت سے وہ اپنے معاصرین میں بہت ممتاز اور ہر دل عزیز تھے۔

یہ حقیقت ہے کہ جلیل کے کلام میں فکر و نظر کی غیر معمولی وسعت و گہرائی،جدید اور ترقی پسند خیالات کی سمجھ، زندگی اور اپنے زمانے کے اہم تقاضوں، نیز قدروں کا عرفان اور بلند و عظیم مقاصد کی روشنی بہت کم ہے جو انکی شاعری کی بہت بڑی کمی ہے۔ لیکن اگر قدیم و روایتی معیار کے لحاظ سے غزل صرف معاملات حسن عشق کی ترجمانی ہے، اگر وہ خواب جوانی کی تعبیر ہے، اگر وہ  رخ و رخسار کی لطافت کا نقشہ کھینچتی ہے، اگر وہ قامت یار کی قیامت کو اپنے سبک انداز و  رواں دواں لہجے میں بیان کرنے کا ایک ذریعہ ہے تو جلیل ہمیں ایک بھرپور کامیاب  غزل گو کی حیثیت سے نظر آتے ہیں۔

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف میں ان کے مشہور دیوان ہیں۔
تاج سخن ،
سخن اور روح  اور
سخن کے نام سے ہیں۔

آخری ایام

ان کی وفات 1946ء میں ہوئی۔ اس وقت آپ کی عمر ۸۰ سال تھی۔

منتخب کلام

جلیل حسن جلیل کی مشہور غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz On Jaleel Manikpuri

جلیل مانک پوری 1
Advertisements