تعارف

ایک سیاسی شخصیت، ادیب، شاعر ،گیت نگار اور اسکرین پلے رائٹر انڈیا کے مشہور و مقبول نام جاوید اختر ہیں۔ ان کا تخلص اختر ہے۔ جاوید اختر ۱۷ جنوری ۱۹۴۵ کو  گوالیار مدھیا پردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان نثار اختر بالی ورڈ کی فلموں کے لئے گیت لکھتے تھے۔ ان کے دادا مضطر خیرآبادی بھی قدآور شاعر تھے۔جاوید اختر نے  لکھنؤ میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے سیفیا کالج بھوپال سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔

ادبی تعارف

ان کی شاعری کا ارتقاء نفسیاتی حوالوں سے بھی جڑا ہوا ہے اور شعوری حوالوں سے بھی وابستہ ہے۔ جاوید اختر کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی ہے وہ بھی کم نمایاں نہیں۔ اردو کا شاید ہی  کوئی شاعر ہوگا جو ددھیالی اور ننھیالی رشتوں میں اتنی جید اور تاریخ ساز ہستیوں میں جڑا ہو اور علمی و شعری وراثت کڑی در کڑی اور سینہ در سینہ آتی ہے۔

جاوید اختر کی غزلیں اتنی ہی فکر انگیز اور دل خوش کن ہیں۔ غزل کا ہر شعر واحد ہوتا ہے لیکن غزلوں میں بھی رواں دواں  کیفیت ملتی ہے۔ ان میں جذبہ و درماں کم اور تعقل و تفکر کی وہی فضا ہے جو نظموں میں ہے۔غزل کی ایمائیت میں حکیمانہ روایت کا اپنا مقام ہے لیکن ،یہاں جاوید اختر کا انداز الگ ہے۔ اکثر ان میں بھی تجسس و تفکر کی مربوط کیفیت ملتی ہے جو اپنا لطف رکھتی ہے۔

ان کی نظموں کی بنت یا ساخت میں ایک چیز جو بار بار متوجہ کرتی ہے وہ ان کا ذہنی تجسس یا تفکر و تعقل کی کارکردگی ہے یعنی ان کی سوچ کسی مسئلہ کی کبہ کو پانے کی ،کسی لایخل نکتہ یا گتھی کو کھولنے کا یا کائنات کے اسرار یا انسان کے باطن یا زندگی کے رازوں کو جاننے کی سعی ہے۔ ان کی عموماً نظموں میں مصرعے چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ بڑے بحروں پر قادر نہیں ، غزلوں میں متعدد غزلیں طویل زمینوں میں بھی ہیں، لیکن نظموں میں وہ پارہ پاری کے چلتے ہیں، کڑی در کڑی سوچتے ہوئے موضوع کی شعری تشکیل میں درجہ بدرجہ گہرائی میں جاتے ہوئے نظم کی تعمیر کرتے ہیں۔

ان کی منفرد شاعری کا پس منظر بے حد وسیع و توانا ہے۔ ان کی نظمیں چھوٹی چھوٹی باتوں کے سہارے پھیلتی جاتی ہیں۔ ان کے کلام میں ایک نہیں بلکہ کئی کئی کلائمیکس اور پنچ لائینز ہوتی ہیں جو قاری کو پوری طرح سے اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ جاوید ہمیں یہ سوچنے پر اکساتے ہیں کہ وہ کون سے حادثات و واقعات ہیں جو ہمارے جذبات میں ارتعاش پیدا کرکے ہماری حساسیت کو اجالتے ہیں اور پلکوں پہ آنسو پالتے ہیں۔جاوید کی شاعری میں بھولی بسری باتوں، میٹھی تلخ یادوں کے کئی استعارے ہیں۔ انسان پڑھتے پڑھتے اپنے ہی ماضی میں غرق ہوکر اپنا آپ تلاشنے لگتا ہے۔

اعزازات

جاوید اختر کو فلموں کی دنیا میں مختلف گیتوں پر ۵ ایوارڈ ملے، ان کو حکومت بھارت سے پدما شری ، پدما بھوشن اور حال ہی میں ان کو علمی رچرڈ ڈاکنز آوارڈ بھی حاصل ہوا۔

جاوید اختر کی عمر ۷۵ برس کے لگ بھگ ہے وہ اردو کی خدمات میں پیش پیش ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں ادب کا یہ چراغ اپنی لو سے تادیر ہمیں روشناس کرتا رہے۔

جاوید اختر کی مشہور غزل درج ذیل ہے۔

جاوید اختر پر ایک کوئز

جاوید اختر 1
Advertisements