Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: ۲۶
- غزل: جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
- شاعر: علامہ اقبالؔ
- ماخوذ:
| جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ میں خداوند تعالیٰ کی ذات پاک کو آسمانوں میں ڈھونڈتا رہا ہوں، مجھے خدا کا تعارف ایسے کرایا گیا تھا کہ خدا آسمانوں پر رہتا ہے، مگر جستجو کرنے پرمجھ پر عقدہ یہ کھلا کہ وہ خدا تو میرے دل میں رہتا ہے۔
| کبھی اپنا بھی نظّارہ کِیا ہے تو نے اے مجنوں کہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال مجنوں سے مخاطب ہیں، (مجنوں جو ایک اہم کردار ہے اور جس کا تعلق عرب کی سرزمین سے ہے)کہ اے مجنوں! تو نے کبھی اپنے گرد و نواح کا جائزہ لیا ہے، تو کن صحراوؤں اور بیابانوں میں رہتا ہے، اس کے بعد تو لیلیٰ سے پردہ داری اورخلوت اختیار کرنے کا گلا کس طرح کر سکتا ہے۔
| مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں مگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ یہ انسانی نفسیات کا معاملہ ہے کہ جب اسے اپنے محبوب کی ملاقات میسرآجائے تو اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وقت کو پر لگ گئے ہیں، اور وقت تیزی سے بھاگ رہا ہے، اور جب محبوب کا دیدار میسر نہ ہو تو انتظار کا وقت بہت مشکل سے گزرتا ہے جیسےوقت سست روی کا شکار ہو گیا ہو دن ہفتوں کے برابر طویل ہو جاتے ہیں۔
| مجھے روکے گا تُو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ میرے کشتی کے ملاح تو جتنی بھی کوشش کر لےمجھے ڈوبنے سے نہیں بچا سکو گے، تم اپنے ہزار جتن کر چکومگر ہنوز میری حفاظت نہیں کر سکو گے۔کیونکہ جنھوں نے یہ تہیہ کر لیا ہو کہ انھوں نے ڈوب جانا ہے وہ تو کشتی پر بھی ڈوب جاتے ہیں، انھیں سمندر میں ڈوبنے سے غرض نہیں رہتی۔
| جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی الٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ دنیا میں عشق الہیٰ میں ڈوبے ہوئے ایسے عاشق بھی ہیں کہ جو اپنی سانس کی تپش سے موم بتی جلا لیں۔ اقبال خدا سے سوال کناں ہیں کہ ان مومنوں کے دلوں میں ایسا کیا پوشیدہ ہے جو ان کی پھونک تک میں وہ قوت ہے جو ہر چیز کو آتشیں کر دے۔
| نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ خدا کے نیک و پرہیزگار لوگ، وہ صوفی و درویش جو دنیا داری کو پوری طرح ترک کر چکے ہیں، اور ہر دم کے ساتھ ذکر الہیٰ میں مشغول ہوتے ہیں وہ دکھنے میں بھلے فقیروں کے سے لباس میں ہونگے مگر وہ عام عوام کے لیے مشعل راہ ہونگے ۔ ان کے پاس یہ ازن الہیٰ ہوگا کہ وہ کرامات دکھا سکیں۔
| محبّت کے لیے دل ڈھُونڈ کوئی ٹُوٹنے والا یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ عشق و الفت دنیا میں بہت زور آور جذبہ ہے ۔ عشق ان دلوں میں جگہ بناتا ہے جو ٹوٹنے کے لیے تیار ہوں، گویا عشق کی آتش وہی لوگ برداشت کر سکتے ہیں جو اس میں کودنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ عشق وہ نشہ ہے جسے دل جیسے نرم اور گداز برتن میں رکھا جاتا ہے۔
| نمایاں ہو کے دِکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا بہت مدّت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال خدا سے مخاطب ہو کر التجایہ انداز میں کہتے ہیں کہ اے خدا! تیری ذات گرامی پر طرح طرح نابغہ روزگارگفت گو و مباحثہ کرتے ہیں۔ جس کی عقل میں جتناتیرا تصور آتا ہے وہ اتنا ہی تمہاری حقانیت و ربوبیت کو پہچان پاتا ہے مگر اے خدا تو زرا ان لوگوں پر اپنا اصلی جلوہ واضح کر۔
| خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ انسان جب عشق کے دام میں آجائے تو اسے سب سے پہلے اپنے محبوب کے سامنے سرنگوں ہو جانا چاہیے، یعنی جس شخص کے دل میں عشق حقیقی کی آگ جل جائے تو اسے خاموشی اختیاط کر لینی چاہیے، اور سر بہ سجود ہو کر خدا تعالیٰ کا ادب بجا لائے کیونکہ عشق کے اصولوں میں سب سے پہلا اصول ادب ہے۔
| بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں |
تشریح:۔
درج بالا شعر، شاعر علامہ اقبال کی غزل سے ماخوذ ہے جس میں علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ جو لوگ مجھ پر نکتہ چینی کرتے ہیں، اور میرے عمل پر تنقید کرتے ہیں یا میرے کہے کو رد کر دیتے ہیں میں بھلا ان کو برا کیوں سمجھوں، انھوں نے میرے لیے کوئی برائی تھوڑی کی ہے۔ بلکہ ان سے نفرت کی جا ہی نہیں سکتی کیونکہ میں خود بھی اپنے آپ سے متفق نہیں ہو پاتا، میں خود بھی اپنے نظریات کا ناقد ہوں۔
مشق
سوال نمبر ا:غزل کے مطابق درج ذیل سوالات کےجواب دیں:
(الف) شاعر زمین و آسمان میں کیا ڈھونڈتا ہے۔
جواب:شاعر علامہ محمد اقبالؔ زمین و آسمان میں خدا کا وجود ڈھونڈتے ہیں۔
(ب) وصل کا وقت جلدی کیوں بیت جاتا ہے؟
جواب:وصل کا وقت عاشق کے لیے خوشی اور مسرت کے لمحات ہوتے ہیں اور ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وقت کو پر لگ گئے ہیں اور وہ جلدی سے گزر رہا ہے۔
(ج) اہل دل سے کون لوگ مراد ہیں۔
جواب:اہل دل سے مراد اللہ کے نیک لوگ ہیں۔
(د) محبت کا اولین درس کونسا ہے۔
جواب:محبت کا اولین درس ادب ہے۔
(ہ) خود پر نکتہ چینی کا کیا مطلب ہے؟
جواب:خود پر نکتہ چینی کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کے نقص نکالنا۔
(و)یدبیضا کی وضاحت کریں۔
جواب:یدبیضا اس معجزے کا نام ہے جو موسیٰؑ کو عطا ہوا تھا۔ وہ جب اپنا ہاتھ باہر نکالتے تو وہ روشن ہو جاتا تھا۔
سوال نمبر ۲: اس غزل کے قوافی لکھیں:
جواب:زمینوں، مکینوں، نشینوں، مہینوں، سفینوں، سینوں، آستینوں، آبگینوں، باریک بینوں، قرینوں، نکتہ چینوں۔
سوال نمبر ۳:
| مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں |
اس شعر میں صنعت تضاد پائی جاتی ہے۔ صنعت تضاد کی تعریف کریں، مزید مثالیں دیں اس شعر میں اس کی نشان دہی کریں۔
جواب: کلام میں دو یار دو سے زیادہ ایسے الفاظ لانا جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مثلاً خوشی اور غم، دن اور رات وغیرہ، مندرجہ بالا شعر میں وصل اور جدائی دونوں کا ذکر موجود ہے۔
سوال نمبر ۴: درج ذیل الفاظ کے معنی لکھیں:
| نکتہ چیں | کسی میں برائی تلاش کرنے والا |
| یدبیضا | یہ حضرت موسیؑ کا معجزہ ہے۔ چمکتا ہوا ہاتھ |
| باریک بین | نکتہ چیں، دانشور،نقاد |
| موج نفس | منھ سے نکلنے والی ہوا جو گرم ہوتی ہے |
| محمل نشیں | چھپا ہوا، پوشیدہ۔ |
| ارادت | عقیدت، الفت |
سوال نمبر۵:
| جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں |
کلام میں ایسے الفاظ جو املا کے لحاظ سے تو ایک جیسے ہوں مگر دونوں کا مطلب جدا ہو۔ تجنیس تام کہلاتا ہے۔ اوپر دیے گئے شعر میں تجنیس تام کی نشان دہی کریں اور کوئی سے دو ایسے اشعار لکھیں جن میں صنعت تام کا استعمال ہو۔
جواب:۔ درج بالا شعر میں ”میں“ تجنیس تام ہے۔
| ؎مظلوم نہ شاہ بحر و بر سا ہو گا مینہ تیروں کا یوں کبھی نہ برسا ہو گا |
| ؎خورشید جمال کچھ تو سمجھا یہ سحر نظر ہے یا سحر ہے۔ |