تعارف

اردو کے مایا ناز شاعر ،ادیب اور نغمہ نگار کیفی اعظمی ۱۴ جنوری ۱۹۱۹ کو موضع مجواں ،ضلع اعظم گڑھ ،اترپردیش میں ایک مذہنی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید اطہر حسین رضوی تھا اور تخلص کیفی۔ ان کے والد کا نام سید فتح حسین تھا۔

تعلیم

ان کی ابتدائی تعلیم گھر سے ہی شروع ہوئی۔انھوں نے عربی ، فارسی اور اردو کی اعلیٰ تعلیم لکھنؤ اور الہٰ آباد یونی ورسٹی سے حاصل کی۔شعر و سخن کا ذوق انھیں ورثے میں ملا ان کے والد ماجد فارسی کے اشعار کہا کرتے تھے۔

کیفی اعظمی ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اور خاندان کے دوسرے بزرگ انھیں مولوی بنانا چاہتے تھے ،لیکن کیفی کی طبیعت سوشلزم کی طرف مائل تھی۔ انھوں نے سوشلزم سے رشتہ جوڑ لیا اور جلدی ہی غریبوں اور محنت کشوں کے ہمدرد و مسیحا بن گئے اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن بن کر اشتراکیت کی تبلیغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔

شاعرانہ عظمت

کیفی اعظمی ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند شاعری میں ممتاز اور غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ نظریاتی شاعر تھے پھر بھی اپنی رومانی فطرت کی وجہ سے ان یہاں اک غنائیت بھی پائی جاتی ہے۔ ان کے آخری دور کے کلام میں حقیقت پسندی ملتی ہے۔ ان کی نظمیں فکر و فن کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں اور اردو شاعری میں اہم مقام کی حامل رہیں گی۔

کیفی اعظمی کی شاعری میں عصری حسیت اور سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ انسانیت اور سماجی حقائق سے اٹوٹ وابستگی تھی۔ وہ غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے اور ہندوستان کے عوام کے مسائل ، ان کی مجبوریاں ، ان کی غربت اور ان کا استحصال انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کا دل اپنے لوگوں کی بے بسی اور لاچاری پر تڑپ اٹھتا تھا اور یہی تڑپ اور درد جا بجا ان کی شاعری میں موجود ہے۔

نظمیں

وہ اپنی چند بہترین نظموں ، خانہ جنگی، بہروپنی ، عورت، چراغاں بام بل اور دوسرا بن باس کے حوالے سے ترقی پسند شاعری کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

کیفی کی شاعری نے اگر ایک طرف شاعری کی اعلیٰ اقدار کو پیش کیا تو دوسری جانب زندگی کے اعلیٰ ترین نمونے بھی دیکھائے۔ غزل ہو یا نظم فلمی نغمہ نگاری ہو یا مکالمہ نویسی سبھی جگہ انہوں نے اپنی موجودگی کا احساس کرایا۔انہوں نے اپنی شاعری کو محض تفریح طبع کے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے قلم کو ایک ایسی تیز دھار تلوار کے طور پر استعمال کیا جو دونوں طرف سے وار کرتی تھی۔

اعزازات

حکومتی اور ادبی اعزازات ملے جن میں اترپردیش اردو اکادمی ایوارڈ آوارہ سجدے کے لئے، مہاراشٹرااردو اکادمی کا مخصوص ایوارڈ آوارہ سجدے کے لئے، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی آوارہ سجدے کے لئے، سوویت لینڈنہرو ایوارڈ بھی اسی مجموعے پر، لوٹس ایوارڈ ثقافتی خدمات پر، پدم شری فلمی اور ثقافتی خدمات پر ملا۔

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف میں

  • آخری شب،
  • آوارہ سجدے،
  • میری آواز سنو،
  • سرمایہ قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

کیفی اعظمی نے ۷۷ برس کی عمر پائی اور بلآخر ۱۰ مئی ۲۰۰۲ کو اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔

کیفی اعظمی کی غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements