Advertisement

تعارف

خواجہ محمد اثر نے جس زمانے میں آنکھیں کھولیں تھی وہ مغل دربار کے زوال کا زمانہ تھا۔ میر اثر کی پیدائش کا ایک نامکمل سا خاکہ ایسے بنایا جاتا ہے کہ وہ ۱۷۹٦ میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ انکے والد کا نام خواجہ محمد ناصر ہے۔ چونکہ ان کے حالات زندگی کسی تذکرہ نگار نے نہیں لکھے اور نہ کسی مستند کتاب سے ہم تک پہنچے ہیں اس لئے اس سب کو لکھنے سے قاصر ہیں۔

Advertisement

یہ خیال عام تھا کہ درباری شاعر اچھا شاعر نہیں ہوسکتا۔ میر اور سودا جو اثر کے ہی زمانے کے بلند قامت شاعر اور درباری شاعر بھی کہے جا سکتے ہیں اس کلیے سے باہر نظر آتے ہیں۔ میر اثر اور درد شاعر کے علاوہ صوفی بھی تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ صوفیوں نے ہمیشہ حاکم وقت کو اپنی تنقید کے نشانے پر رکھا اور درباروں کی مطلق العنانی کے مقابل جمہوری قدروں کی اشاعت پر زور دیا۔

Advertisement

خواجہ محمد میر اثر خواجہ میر درد جیسے برزگ اور استاد فن کے چھوٹے بھائی تھے اور یہ خوش نصیبی تھی کہ انھوں نے بڑے بھائی کے سایہ عاطفت میں پرورش پائی۔ ان کی ادبی شخصیت کی تعمیر میں درد کا بہت بڑا حصہ ہے۔ قدآور شخصیت کے سائے میں رہنے کے فائدے بھی ہیں اور نقصان بھی۔ اگر درد ان کی ذہنی تربیت نہ کرتے اور شخصیت کی ساخت و پرداخت میں غیر معمولی دلچسپی نہ لیتے تو شاید اثر اتنے اچھے شاعر نہ ہوتے۔ لیکن نقصان یہ ہوا کہ اثر نے درد کا تتبع اس حد تک کیا کہ ان کی شاعری کے بڑے حصے پر درد کا لب و لہجے اور انداز بیان کی اتنی گہری چھاپ لگ گئی کہ خود اثر جیسے ذہین اور باشعور شاعر کی انفرادیت نمایاں نہ ہو سکی۔

Advertisement

اثر کے معاصر اور بعد کے تذکرہ نگاروں نے ان کے فن کو سراہتے ہوئے انھیں اپنے عہد کے بڑے شاعروں میں شمار کیا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ ان کا فن ذہنوں سے محو ہو گیا۔ حد تو یہ ہے کہ ان کی مشہور و معروف مثنوی "خواب و خیال” بھی نقش ونگار طاق نساں ہو گئی۔ ان کے عشق میں روایت نہیں، ارضیت ہے اور یہ ارضیت ولصلیت جب کمال کو پہنچتی ہے تو اسکا عشق اعلیٰ عشق بن کر حقیقت و معرفت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ ان کے ہاں دل کی وارداتوں اور عشقیہ جذبات کے ساتھ ساتھ صوفیانہ خیالات کی پاکیزگی بھی ملتی ہے۔ معاصر وغیر معاصر تذکرہ نگاروں نے اثر کا ذکر نہایت ادب و احترام سے کیا ہے۔ ان کے توکل استغناء، زہدو تقویٰ ، رشد و ہدایت، علم و عمل، فضل وکمال اور شاعری کی تعریف کی ہے۔ علاوہ ازیں نقادان فن نے بھی ان کے کلام کو خراج تحسین ادا کیا ہے۔

آخری ایام

اثر نے تقریباً ساٹھ یا انسٹھ سال کی عمر پائی تھی جنہوں نے مغلیہ سلطنت کے انتشار کا منظر آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آپ دہلی میں سپرد خاک ہوئے۔

Advertisement

منتخب کلام

میر اثر کی غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz On Khwaja Mir Asr

خواجہ میر اثر 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement