تعارف

تاریخ میں بہت سے نامور لوگ گزرے ہیں مگر چند ایک ہیں جو تاریخ میں اپنا نام لکھوا کر اپنا عہد مقبولیت سے تربتر کر لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نام سید مظہر امام  کا بھی زیر غور ہے۔ سید مظہر امام نقاد، محقق، ادیب، شاعر اور اردو ادب میں بلند مرتبہ رکھنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔ سید مظہر امام کا قلمی نام مظہر امام تھا۔ سید مظہر امام ۱۹۲۸ کو بہار کے ضلع دوبھنگہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے پہلے ایم اے اردو اور پھر ایم اے فارسی کیا اور ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ کلکتہ ایک ادبی حلقے میں اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں بعد ازیں آل انڈیا ریڈیو میں شامل ہوئے۔

شاعرانہ عظمت

مظہر امام  نے شاعری میں غزل کو جدت بخشی،  نہ صرف نئی جہتیں دریافت کیں بلکہ  انوکھے موضوعات اور نئے طرزِ اظہار سے لوگوں اور نواموز شاعروں کو آشنا کیا۔ مظہر امام کی ایک خاص پہچان ان کے تجربہ پسند تخلیقی مزاج کی وجہ سے قائم ہوئی۔ انہوں نے غزل کے فارم اور ہیئت میں کئی طرح کی تبدیلیوں کے مشورے دیے اور نئی ہئتی صورت میں غزلیں بھی کہیں۔

مظہر امام کی آزاد غزل کہنے کی شروعات اگرچہ بہت آگے نہ بڑھ سکی لیکن اس سے ان کے زرخیز تخلیقی ذہن کا اندازہ تو ہوتا ہی ہے۔ مظہر امام کی شاعری کے ابتدائی دور پر ہم ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کے یہاں بھی رومان پرور ماحول اور حسن و شباب کی کھلی فضا ملتی ہے اور یہ رومان پرور ماحول اور یہ کھلی کھلی حسن و شباب کی فضا تصوراتی نہیں ہے بلکہ احساسات و جذبات میں ڈوبی ہوئی پرکیف اور پر اثر کیفیتیں ہیں۔ مظہر امام کی شاعری عہد حاضر کی تمام تر کیفیات اور اس کے اسرارو رموز سے جڑی ہوئی ہے۔ خوف اور عدم تحفظ کا احساس افسردگی، ،بے زاری ، بے بسی ، بے کیفی، بے چہرگی، درد و کرب، گھٹن شکستگی ذات کا کرب اور احساس تنہائی وغیرہ جو عصر حاضر کی دین ہیں ان کا اظہار پورے فنی حسن اور فکری بالیدگی کے ساتھ مظہرامام کے یہاں موجود ہیں۔ شاعری کے علاوہ مظہر امام کا نام تنقید میں بھی قابل ذکر ہے۔

تنقیدی مضامین

ان کے تنقیدی مضامین ’آتی جاتی لہریں‘ اور ’ایک لہر آتی ہوئی
کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ مظہر امام کی تنقید نظریوں اور تحریکوں کے اثر سے آزاد ایک  سوچتے ہوئے ذہن کا شاندار نمونہ ہے۔

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف میں
آتی جاتی لہریں،
اکثر یاد آتے ہیں،
بند ہوتا ہوا بازار،
ایک لہر آتی ہوئی،
پالکی کہکشاں کی،
پچھلے موسم کا پھول،
رشتہ گونگے سفر کا،
تنقید نما،
زخم تمنا قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

۲۰۱۲ میں انھوں نے ۸۴ برس کی عمر میں وفات پائی۔

منتخب کلام

مظہر امام کی غزل کے پانچ اشعار درج ذیل ہیں۔

مظہر امام کی مشہور نظم

کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے
نہ روشنی میں نہ تیرگی میں
نہ زندگی میں نہ خودکشی میں
عقیدے زخموں سے چور پیہم کراہتے ہیں
یقین کی سانس اکھڑ چلی ہے
جمیل خوابوں کے چہرۂ غمزدہ سے ناسور رس رہا ہے
عزیز قدروں پہ جاں کنی کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے
پتنگ کی طرح کٹ چکے ہیں تمام رشتے
جو آدمی کو قریب کرتے تھے آدمی سے
دلوں میں قوس قزح کی انگڑائیاں جن سے ٹوٹتی تھیں
نہ فرد ہی کا مکاں سلامت
نہ اجتماعی وجود ہی زیر سائباں ہے
کوئی خدا تھا تو وہ کہاں ہے؟
کوئی خدا ہے تو وہ کہاں ہے؟
مہیب طوفاں مہیب تر ہے
پہاڑ تک ریت کی طرح اڑ رہے ہیں
بس ایک آواز گونجتی ہے
”مجھے بچاؤ مجھے بچاؤ”
مگر کہیں بھی اماں نہیں ہے
جو اپنی کشتی پہ بچ رہے گا
وہی علیہ لسلام ہوگا
(مظہر امام)

Quiz on Mazhar Imam

مظہر امام 1
Advertisements