حالات زندگی

میر مستحسن خلیق مہشور و معروف مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ ۱۷٦٦ کو گلاب باڑی فیض آباد میں پیدا ہوئے اور اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقہ فیض آباد اور پھر لکھنؤ میں حاصل کی۔ایک ادبی گھر میں پیدا ہونے کا ایک اثر یہ بھی ان پر رہا کہ کم سنی میں ادب شناس ہو گئے۔بلوغت کی ہی عمر میں شعر و سخن کی مشق کرنے لگے۔پہلے پہل تو اپنا لکھا سارا کلام اپنے والد میر حسن کو پیش کیا انھوں نے سنجیدگی لی اور غلام علی ہمدانی کی شاگردی میں بھیج دیا۔

خصوصیات کلام

ہمدانی صاحب نے خلیق صاحب کے اسرار پر ‘تذکرہ ہندی’ لکھا۔میر خلیق کا ذریعہ معاش قلیل تھا جس پر بمشکل گزارہ ہو رہا تھا۔ انھوں نے اپنا کلام فروخت کرکے اپنے معاملات چلانے لگے۔پہلے پہل غزل گوئی میں محنت کی پھر بعد ازیں مرثیہ گوئی کی جانب راغب ہو گئے اور کافی نام کمایا۔ ان کے سامعین میں ان کے عہد کے بڑے بڑے نامور لوگ موجود تھے۔ میر صاحب کا میر ضمیر سے عموماٙٙ مقابلہ رہا کرتا تھا۔دونوں ایک دوسرے پر برتری حاصل میں تگو دو کرتے تھے جس کے نتیجے میں مرثیہ بہتر سے بہترین ہوتا گیا۔

میر خلیق نے زبان پر لفاظی پر توجہ دی اسی سلسلے میں انھوں نے محاورات پر خاص توجہ دی ۔مرثیے پر بہت دقیق محنت ہوئی تب جا کر اس میں بہت جدت آئی اور مرثیے کو اردو شاعری کی موقر صنف بنا دیا گیا۔وقت بہت گزر چکنے کے بعد ان کا بہت سارا کلام کہیں میسر نہیں بلکہ ان کے بارے بہت کم مواد ملتا ہے البتہ ان کا ایک مجموعہ ۱۹۹۸ میں شائع ہو چکا ہے۔

میر خلیقؔ کے کلام کا اندازہ اور خوبی محاورہ اور لطف زبان یہی سمجھ لو جو آج میر انیسؔ کے مرثیوں میں دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ ان کے ہاں مرثیت اور صورت حال کا بیان درد انگیز تھا۔ ان کے مرثیوں میں تمہیدیں اور سامان اور سخن پردازی بہت بڑھی ہوئی ہے۔اُن کے ادائے کلام اور پڑھنے کی خوبی دیکھنے اور سننے کے قابل تھی۔ اعضا کی حرکت سے بالکل کام نہ لیتے تھے۔ فقط نشست کا انداز اور آنکھ کی گردش تھی۔ اسی میں سب کچھ ختم کر دیتے تھے، میر انیسؔ مرحوم کو بھی میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ کہیں اتفاقاً ہی ہاتھ اُٹھ جاتا تھا، یا گردن کی ایک جنبش یا آنکھ کی گردش تھی کہ کام کر جاتی تھی، ورنہ کلام ہی سارے مطالب کے حق پورے پورے ادا کر دیتا تھا۔

مرثیہ گو اور مرثیہ خوانی کے میدان میں جو ہوا بدلی وہ میر خلیقؔ کے زمانہ سے بدلی۔ پہلے اکثر جو مصرع ہوتے تھے، ہر چار مصرعے کے بعد قافیہ وہ انداز موقوف ہوا، ایک سلام غزل کے انداز میں اور مرثیہ کے لئے مسّدس کا طریقہ آئین ہو گیا، وہ سوز اور تحت لفظ دونوں طرح سے پڑھا جاتا تھا، اور جو کچھ اَوّل مستزاد کے اُصول پر کہتے تھے وہ نوحہ کہلاتا تھا، اُسے سوز ہی میں پڑھتے تھے اور یہی طریقہ اب تک جاری ہے، میر موصوف اور ان کے بعض ہم عہد سلام یا مرثیے وغیرہ کہتے تھے، ان میں مصائب اور ماجرائے شہادت ساتھ اس کے فضائل اور معجزات کی روایتیں اس سلاست اور سادگی اور صفائی کے ساتھ نظم کرتے تھے کہ واقعات کی صورت سامنے تصویر ہو جاتی تھی اور دل کا درد آنکھوں سے آنسو ہو کر ٹپک پڑتا۔

میر خلیقؔ نازک خیالیوں میں ذہن لڑا رہے تھے کہ باپ کی موت نے شیشہ پر پتھر مارا، عیال کا بوجھ پہاڑ ہو کر سر پر گرا، جس نے آمد کے چشمے خاک ریز کر دیئے۔ مگر ہمّت کی پیشانی پر ذرا بل نہ آیا۔ اکثر فیض آباد میں رہتے تھے، لکھنؤ آتے تھے تو پیر بخارا میں ٹھہرا کرتے تھے۔

میر خلیقؔ صاحبِ دیوان تھے۔ نقد سخن اور سرمایہ مضامین جو بزرگوں سے ورثہ پہنچا تھا اُسے زاد آخرت میں صرف کیا اور ہمیشہ مرثیے کہتے رہے، اسی میں نام اور زمانہ کا کام چلتا رہا۔

منتخب کلام

میر مستحق خلیق کی غزل مندرجہ ذیل ہے۔

میر مستحق خلیق کے مرثیے کا ایک حصہ مندرجہ ذیل ہے۔

جب اصغر معصوم کی گردن پہ لگا تیر
اور شاہ کے بازو میں بھی پیوست ہوا تیر
ہاتھوں پہ تڑپنے لگا بچہ بھی جو کھا تیر
شہہ ؑنے کہا اس پیاسے کو تھا مارنا کیا تیر
کب ہم نے کہا تھا کہ زبردستی سے لیں گے
اتنا ہی کہا ہوتا کہ ہم پانی نہ دیں گے

Quiz on Meer Khaleeq

میر مستحسن خلیق 1
Advertisements