تعارف

انیسویں صدی کے تیسرے عشرے لگ بگ ۱۸۳۰ کو  میرپور کے مضافاتی قصبے کھڑی میں ایک کسان کے گھر جنم لینے والے میاں محمد کا رجحان عہد شباب میں ہی تصوف کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ صوفیاء کی طریقت کی پیروی کرتے ہوئے میاں صاحب نے بھی خلوت نشینی کو جلوت کے شور و غل پر ترجیح دی اور کسی پرسکون مسکن کی تلاش میں محو گردش ہو گئے۔ کسی روایتی تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل نہ تھے ہاں البتہ اپنے روحانی مرشد کی سرپرستی میں ابتدائی دینی و مذہبی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بچپن میں ہی تفکر، ریاضت اور من کی دنیا کی طرف رجحان ہو گیا۔ اضطرابی کیفیت منظوم شکل میں لبوں پر آشکار ہونے لگی تو قلم، دوات اور کاغذ کی کل متاع سمیٹے میاں صاحب نے پنجنی کے ایک خاموش ویرانے میں ڈیرے ڈال لیے اور آمد کے سلسلے قافیہ، ردیف، وزن اور تخلص کے خوبصورت امتزاج کے ساتھ ارض قرطاس پر موتی بن کر بکھرنے لگے۔

ادبی زندگی

حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ایک بلند درجہ عارف اور ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے۔ آپ نے عاشق حقیقی اور محبوب حقیقی کے تعلق کو مجازی روپ میں پیش کیا ہے۔ آپ کا اصل موضوع حسن وعشق اور پیار و محبت ہے۔ خدا کی ذات اور صفحات کو پہچاننا، کارخانہ قدرت میں تدبر اور فکر کرنا، اپنے آپ کو پہچاننا اور خالق کائنات کی معرفت میں لگے رہنا اور طلب وجستجو سے کبھی نہ اْکتانا آپ کی شاعری کے موضوہات ہیں۔ لیکن آپ کا بنیادی نظریہ طلب، لوڑ اور جستجو ہے۔
سیف الملوک اگرچہ حسن و عشق کی ایک رومانوی داستان ہے لیکن میاں محمد بخش رحمتہ اللہ نے اس کو تصوف کے رنگ میں بہت عمدگی سے پیش کیا ہے۔ سیف الملوک ایک شہزادی اور شہزادے کی عشقیہ داستان ہی نہیں بلکہ گنجینہ معرفت اور مخزن اخلاق بھی ہے۔

پنجابی زبان میں صوفی شاعری کی روایت بارھویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی جب ہمارے یہاں  سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا جی فرید شکرگنج ؒ نے پنجابی میں اشلوک کہے اور پھر صوفیائے کرام کی ایک لڑی موجود ہے جس نے عوام الناس کی زبان پنجابی میں تواتر سے شاعری کی۔ یہ سلسلہ باالاخر انیسویں صدی عیسوی میں حضرت خواجہ غلام فرید مٹھن کوٹی ؒ اور حضرت میاں محمد بخشؒ تک چلا آتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں درجنوں ایسے صوفی شعراء کی کہکشاں موجود ہے جن کی شاعری کو دنیا بھر کی کسی بھی زبان کی شاعری کے ہم پلہ بلکہ کہیں بہتر طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پنجابی زبان سے ناآشنائی اور رغبت کی کمی کے رویوں نے اس کہکشاں کی روشنی کے آگے دیوار کھڑی رکھی ہے۔

تصانیف

حضرت میاں محمد بخشؒ کی کوئی کتاب تحریری لکھت میں موجود نہیں۔ آپؒ نے کم وبیش اٹھاراں کتابیں لکھیں۔ ان میں سترہ کتب پنجابی زبان میں جبکہ ایک کتاب فارسی میں ہے۔ پنجابی زبان میں آپ ؒ نے کم و بیش اٹھائیس ہزار اشعار یعنی چھپن ہزار مصرعے لکھے ہیں۔ جن کا تحریری ثبوت موجود ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں سیف الملوک ، من میلا قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

آپ کی وفات ۱۹۰۷ء بمطابق ۱۳۲۴ھ اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میر پورمیں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار بھی ہے۔ آپ ؒ کا عرس مبارک ہجری کیلنڈر کے مطابق منایا جاتا ہے اس لیے ہجری کیلنڈر کے مطابق موجودہ عرس مبارک ایک سو چودھواں ہی بنتا ہے۔

منتخب کلام

میں محمد بخش کا کلام مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz On Mian Muhammad Bakhsh

میاں محمد بخش 1
Advertisements